بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 186 hadith
عبد اللہ بن ابی قتادۃ اپنے والدؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ برتن میں سانس لیا جائے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ برتن میں تین دفعہ سانس لیتے تھے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ پانی پیتے ہوئے تین دفعہ سانس لیتے تھے اور فرماتے یہ زیادہ سیراب کرنے والا بیماری سے بچانے والا اور حلق سے آسانی کے ساتھ گزرنے والا ہے۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں میں پانی پیتے ہوئے تین دفعہ سانس لیتا ہوں۔ ایک اور روایت میں (فِی الشَّرَابِ کی بجائے) فِیْ الْاِنَائِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس دودھ لایا گیا جس میں پانی ملا ہوا تھا۔ آپؐ کے دائیں طرف ایک بدوی اور بائیں طرف حضرت ابو بکرؓ تھے۔ آپؐ نے پیا پھر اس بدوی کو دیا اور فرمایا دائیں پھر دائیں۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے اور میں دس سال کا تھا اور آپؐ فوت ہوئے تو میں بیس سال کا تھا اور میری مائیں (والدہ نانی وغیرہ) مجھے آپؐ کی خدمت کرنے کی ترغیب دلاتی تھیں۔ آپؐ ہمارے گھر تشریف لائے ہم نے ایک پالتو بکری کا دودھ آپؐ کے لئے دوہا اور آپؐ کے لئے گھر کے کنویں کا پانی ملایا۔ رسول اللہ ﷺ نے پیا۔ حضرت عمرؓ نے آپؐ سے عرض کیا _ حضرت ابو بکرؓ آپؐ کے بائیں جانب تھے _ یا رسولؐ اللہ! حضرت ابو بکرؓ کو دیجئے مگر آپؐ نے بدوی کو دیا جو آپؐ کے دائیں طرف تھا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دائیں پھر دائیں۔
حضرت انسؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ہمارے پاس ہمارے گھر تشریف لائے اور آپؐ نے پانی طلب فرمایا۔ ہم نے آپؐ کے لئے بکری کا دودھ دوہا۔ پھر میں نے اپنے کنویں کا پانی اس میں ملایا۔ وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو پیش کیا۔ رسول اللہﷺ نے پیا _ حضرت ابو بکرؓ آپؐ کے بائیں جانب تھے _ اور حضرت عمرؓ آپؐ کے سامنے تھے اور ایک بدوی آپؐ کے دائیں طرف تھا۔ جب رسول اللہﷺ پینے سے فارغ ہوئے تو حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یہ ابو بکرؓ ہیں۔ حضرت عمرؓ آپؐ کی توجہ حضرت ابو بکرؓ کی طرف توجہ مبذول کر رہے تھے لیکن رسول اللہﷺ نے حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کی بجائے بدوی کو دیا اور فرمایا دائیں طرف والے، دائیں طرف والے، دائیں طرف والے۔ حضرت انسؓ نے فرمایا پس یہ سنت ہے، یہ سنت ہے، یہ سنت ہے۔
حضرت سہلؓ بن سعد الساعدی سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس کوئی مشروب لایا گیا۔ آپؐ نے اس میں سے پیا۔ آپؐ کے دائیں طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف بزرگ لوگ تھے، آپؐ نے لڑکے سے پوچھا کیا تم اجازت دیتے ہو کہ میں یہ ان لوگوں کو دوں؟ لڑکے نے کہا نہیں اللہ کی قسم! میں آپ کی طرف سے ملنے والے اپنے حصہ پر کسی دوسرے کو ترجیح نہیں دوں گا۔ راوی کہتے ہیں پھر رسول اللہﷺ نے وہ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔ ایک اور روایت میں (فَتَلَّہُ کی بجائے) اَعْطَاہُ اِیَّاہُ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو جب تک وہ اپنا ہاتھ چاٹ نہ لے اسے نہ پونچھے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو وہ اپنا ہاتھ نہ پونچھے یہانتک کہ اسے چاٹ لے۔
حضرت کعبؓ بن مالک کے بیٹے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے کھانے کے بعد نبیﷺ کو اپنی تین انگلیوں (کے پورے) چاٹتے دیکھا اور ابن حاتم نے تین دفعہ کا ذکر نہیں کیا۔