حضرت عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا صدق اختیار کرو یقینا صدق نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ ایک آدمی سچ بولتا چلا جاتا ہے اور سچ کے لئے طلب اور کوشش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک صدیق لکھا جاتا ہے اور تم جھوٹ سے بچو یقینا جھوٹ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ آگ کی طرف لے جاتا ہے۔ ایک آدمی جھوٹ کیلئے کوشش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک کذاّب لکھا جاتا ہے۔ ایک روایت میں وَ یَتَحَرَّی الصِّدْقَ وَ یَتَحَرَّی الْکَذِبَ کے الفاظ نہیں ہیں اور (حَتَّی یُکْتَبَ عِنْدَ اللَّہِ کی بجائے) حَتَّی یَکْتُبَہُ اللَّہُ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اپنے میں رقوب کس کو شمار کرتے ہو؟ راوی کہتے ہیں ہم نے عرض کیا کہ وہ جس کی کوئی اولاد نہ ہو۔ آپؐ نے فرمایا رقوب یہ نہیں ہے بلکہ وہ شخص ہے جس نے اپنی اولاد میں سے کسی کو آگے نہ بھیجا ہو۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ تم اپنے میں پہلوان کسے شمار کرتے ہو؟ راوی کہتے ہیں ہم نے عرض کیا وہ جسے لوگ پچھاڑ نہ سکیں۔ آپؐ نے فرمایا یہ بات نہیں بلکہ (پہلوان) وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
حضرت ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ طاقتور وہ نہیں جو پچھاڑ دینے والا ہو۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول ؐ اللہ! پھر طاقتور کون ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا تَحْمَرُّ عَيْنَاهُ وَتَنْتَفِخُ أَوْدَاجُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي لأَعْرِفُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ الَّذِي يَجِدُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ . فَقَالَ الرَّجُلُ وَهَلْ تَرَى بِي مِنْ جُنُونٍ قَالَ ابْنُ الْعَلاَءِ فَقَالَ وَهَلْ تَرَى . وَلَمْ يَذْكُرِ الرَّجُلَ
سلیمان بن صرد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دو آدمیوں نے برا بھلا کہا تو ان میں سے ایک کی آنکھیں سرخ ہونے لگیں اور رگیں پھولنے لگیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں ایسا کلمہ جانتا ہوں اگر وہ یہ کہے تو جو وہ محسوس کرتا ہے ضرور اس سے جاتا رہے (یعنی) اَعُوذُ بِاللَّہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجیم۔ اس پر اس نے (اس کو جس نے یہ پیغام پہنچایا تھا) کہا کیا آپ مجھے دیوانہ سمجھتے ہیں؟ ابن العلاء نے کہا کہ اس نے کہا کیا آپ مجھے دیوانہ سمجھتے ہیں لیکن انہوں نے الرّجُلُ کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ سَمِعْتُ الأَعْمَشَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ ثَابِتٍ يَقُولُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا يَغْضَبُ وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ ذَا عَنْهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ . فَقَامَ إِلَى الرَّجُلِ رَجُلٌ مِمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَتَدْرِي مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آنِفًا قَالَ إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ ذَا عَنْهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ . فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ أَمَجْنُونًا تَرَانِي وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ .
حضرت سلیمان بن صردؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس دو آدمیوں نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا تو ان میں سے ایک غضبناک ہونے لگا اور اس کا چہرہ سرخ ہونے لگا۔ نبیﷺ نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ میں ایسا کلمہ جانتا ہوں اگر وہ یہ کلمہ اَعُوذُ بِاللَّہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجیم کہے تو یہ ضرور اس سے جاتا رہے۔ پھر ایک شخص جس نے نبیﷺ کی یہ بات سنی تھی اس شخص کی طرف چلا گیا اور کہا کیا تمہیں پتہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے ابھی کیا فرمایا ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہے کہ میں ایسا کلمہ جانتا ہوں۔ اگر وہ یہ کلمہ (یعنی) اَعُوذُ بِاللَّہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم کہے تو وہ ضرور اس (غصّہ) سے جاتا رہے اس پر اس شخص نے کہا کیا تم مجھے دیوانہ سمجھتے ہو؟
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ نے جنت میں آدم کو صورت دی تو جب تک اللہ نے چاہا اسے چھوڑے رکھا۔ تب ابلیس اس کے گرد چکر لگا کر دیکھنے لگا کہ وہ کیا ہے۔ جب اس نے اسے دیکھا کہ یہ اندر سے کھوکھلا ہے تو وہ پہچان گیا کہ یہ ایک ایسی تخلیق کی گئی ہے جو اپنے پر قابو نہیں رکھ سکے گی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑ پڑے تو اسے چاہئے کہ وہ چہرہ (پر مارنے) سے اجتناب کرے۔ ایک روایت میں (اِذَا قَاتَلَ اَحَدُکُم کی بجائے) اِذَا ضَرَبَ اَحَدُکُم کے الفاظ ہیں۔