بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 160 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا صدیق کے لئے مناسب نہیں کہ وہ بات بات پر لعنت کرنے والا ہو۔
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ عبد الملک بن مروان نے حضرت ام درداءؓ کو اپنے پاس سے گھریلو سامان آرائش بھیجا۔ ایک رات عبدالملک نے اپنے خادم کو بلایا شاید اس نے کچھ تاخیر کی تو اس نے اس پر لعنت کی۔ پھر جب صبح ہوئی تو حضرت ام درداءؓ نے اس سے کہا کہ میں نے رات کو آپ سے سنا کہ آپ نے خادم کو بلاتے وقت اس پر لعنت کی۔ پھر حضرت ام درداءؓ نے کہا کہ میں نے حضرت ابو درداءؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن لعنت کرنے والے نہ شفیع ہونگے اور نہ گواہ۔
حضرت ابو درداءؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ بات بات پر لعنت کرنے والے نہ تو قیامت کے دن گواہ ہوں گے نہ شفیع ہوں گے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ عرض کیا گیا یا رسولؐ اللہ! مشرکوں پر بد دعا کیجئے۔ آپؐ نے فرمایا میں لعنت کرنے والا کر کے مبعوث نہیں کیا گیا اور مجھے رحمت بنا کر مبعوث کیا گیا ہے۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ دو آدمی رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کسی معاملہ کے بارہ میں آپؐ سے بات کی مجھے نہیں پتہ کہ وہ کیا تھا۔ ان دونوں نے آپؐ کو غصہ دلایا اور آپؐ نے ان دونوں پر لعنت کی اور انہیں برا بھلا کہا۔ جب وہ دونوں باہر نکلے تو میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! جو کوئی بھی کوئی خیر پائے تو یہ دونوں اس کو نہیں پائیں گے؟ آپؐ نے فرمایا تم کیا کہنا چاہتی ہو؟ وہ بیان کرتی ہیں میں نے عرض کیا آپؐ نے ان دونوں پر لعنت کی اور انہیں برا بھلا کہا۔ آپؐ نے فرمایا کیا تمہیں پتہ نہیں کہ میں نے اپنے رب سے اس بات میں کیا شرط ٹھہرائی ہوئی ہے؟ میں نے کہا ہے کہ اے اللہ! میں تو محض ایک بشر ہوں اگر مسلمانوں میں سے کسی پر میں لعنت کروں یا برا بھلا کہوں تو تُو اسے اس کے لئے پاکیزگی اور اجر کا موجب بنادینا۔ ایک روایت میں (خَرَجَا کی بجائے) اَخْرَجَھُمَا کے الفاظ ہیں۔ اسی روایت میں فَخَلَوا بِہِ کے الفاظ ہیں یعنی انہوں نے آپؐ سے علیحدگی میں بات کی۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے اللہ! میں تو محض ایک انسان ہوں پس مسلمانوں میں سے کسی آدمی کو برا بھلا کہوں یا اس پر لعنت کروں یا اسے سزا دوں تو اسے اس کے لئے پاکیزگی اور رحمت کا موجب بنا دینا۔ ایک روایت میں (زَکَاۃً کی بجائے) زَکَاۃً وَ اَجْرًا کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ اے اللہ! میں تجھ سے ایک عہد لینا چاہتا ہوں تو اسے میری خاطر کبھی رد نہ فرمائے گا۔ میں تو ایک انسان ہوں پس اگر کسی مومن کو میں تکلیف دوں یا اس کو برا بھلا کہوں یا لعنت کروں یا اسے سزا دوں تو توُ اسے اس کے لئے دعا اور پاکیزگی اور قرب کا ذریعہ بنا دے جس کے ذریعہ قیامت کے دن تو اس کو اپنا قرب عطا فرما دے۔ ایک روایت میں (جَلْدَتُہُ کی بجائے) جَلَدُّہُ کے الفاظ ہیں (جَلَدُّہُ) یہ حضرت ابو ہریرہؓ کی لغت (dilect) ہے اور یہ جَلْدَتُہُ ہی ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا اے اللہ! محمدؐ ایک بشر ہی تو ہے۔ بشر کی طرح اس کو غصہ (بھی) آتا ہے اے اللہ! میں نے تجھ سے ایک عہد باندھ لیا ہے تو کبھی میری خاطر یہ رد نہیں کرے گا۔ اگر کسی مومن کو میں تکلیف دوں یا برا بھلا کہوں یا سزا دوں تو تُو اسے اس کے لئے (گناہوں کا) کفارہ اور قیامت کے دن اس بات کو اس کے لئے اپنے حضور قرب کا موجب بنا دینا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہؐ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اے اللہ جس مومن بندہ کو بھی میں برا بھلا کہوں، اسے اس کے لئے قیامت کے دن اپنے حضور قرب کا موجب بنا دینا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو کہتے ہوئے سنا کہ اے اللہ! میں نے تجھ سے ایک عہد باندھا ہے تو میری خاطر اسے کبھی رد نہ کرنا جس مومن کو میں برا بھلا کہوں یا اسے سزا دوں تو اسے اس کے لئے قیامت کے دن کفارہ بنا دینا۔