بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 116 hadith
ابو الزبیر المکی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے سنا۔ وہ فرماتے تھے کہ ہم رسول اللہﷺ کے زمانہ میں تہائی یا چوتھائی پر زمین لیتے جو پانی کی نالیوں کے آس پاس پیدا ہو۔ رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ جس کی زمین ہو وہ اسے کاشت کرے اور اگر کاشت نہیں کرتا تو اپنے بھائی کو دے دے اور اگر بھائی کو نہیں دیتا تو پھر خود اس کو سنبھال رکھے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبیﷺ کو فرماتے سنا جس کی کوئی (زائد) زمین ہو وہ اسے ہبہ کرے یا عاریت کے طور پر دے دے۔ دوسری روایت میں ہے کہ خود کاشت کرے یا کسی اور سے کاشت کروائے۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا اور نافع نے حضرت ابن عمرؓ کو فرماتے سنا کہ ہم زمین کرایہ پر دیتے تھے پھر ہم نے اسے چھوڑ دیا جب ہم نے حضرت رافع بن خدیجؓ کی روایت سنی۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خالی زمین دو یا تین سال کے لئے فروخت کرنے سے منع فرمایا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے کچھ سال کے پھل کی فروخت سے منع فرمایا۔ اور ایک اور روایت میں (عَنْ بَیْعِ السِّنِیْنَ کی بجائے) عَنِ بَیْعِ الثَّمَرِ سِنِیْنَ کے الفاظ ہیں ۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس کی زمین ہو وہ اسے کاشت کرے یا اپنے بھائی کو دے دے۔ اگر انکار کرے تو اپنی زمین اپنے پاس روک رکھے۔
حضرت جابرؓ بن عبداللہؓ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو مزابنہ اور کھیتوں (کی فروخت) سے منع فرماتے ہوئے سنا۔ حضرت جابرؓ بن عبداللہؓ کہتے تھے مزابنہ تو تازہ پھل کی فروخت خشک کھجور کے عوض ہے اور کھیتوں سے مراد زمین کا کرایہ پر دینا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا اور مزابنہ یہ ہے کہ پھل کو خریدنا جبکہ (وہ ابھی) درختوں کے اوپر لگا ہوا ہو اور محاقلہ زمین کو کرایہ پر دینا ہے۔
حضرت ابن عمرؓ نے بیان کیا کہ ہم زمین بٹائی پر دینے میں حرج نہیں سمجھتے تھے یہان تک کہ وہ پہلا سال آیا جب حضرت رافعؓ نے خیال ظاہر کیا کہ نبیﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس وجہ سے ہم نے اس (بٹائی پر دینے) کو چھوڑ دیا۔