بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھے اس بارہ میں بتایا جو قیامت تک ہونے والا ہے۔ میں نے ہر ایک چیز کے بارہ میں آپؐ سے پوچھا ہاں میں نے آپ سے یہ نہ پوچھا کہ مدینہ والوں کو مدینہ سے کیا چیز نکالے گی۔
حضرت ابو زیدؓ یعنی عمرو بن اخطبؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر تشریف لائے اور ہم سے خطاب فرمایا یہاں تک کہ ظہر کا وقت آگیا پھر آپؐ نیچے تشریف لائے اور نماز پڑھائی۔ پھر منبر پر چڑھے اور ہم سے خطاب فرمایا یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا۔ پھر نیچے تشریف لائے نماز پڑھائی پھر منبر پر چڑھے اور ہم سے خطاب فرمایا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ آپؐ نے ہمیں ان باتوں کے بارہ میں بتایا جو ہو چکی تھیں اور ہونے والی تھیں ہم میں سے زیادہ جاننے والا وہ ہے جس نے ہم میں سے سب سے زیادہ یاد رکھا۔
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ ہم حضرت عمرؓ کے پاس تھے انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے کسے فتنہ کے بارہ میں رسول اللہﷺ کی حدیث یاد ہے جیسے آپؐ نے فرمایا؟ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا کہ مجھے۔ انہوں نے فرمایا تم بہت جرأت مند ہو۔ آپؐ نے کس طرح فرمایا تھا؟ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آدمی کا جو فتنہ اس کے اہل، اس کے مال، اس کے اپنے نفس، اس کی اولاد، اس کے پڑوسی میں ہوتا ہے۔ اس کا کفارہ کرتے ہیں روزہ، نماز، صدقہ، نیکی کا حکم دینا اور ناپسندیدہ بات سے روکنا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا میری یہ مراد نہیں ہے، میری مراد تو اس (فتنہ) سے ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح موجیں مارے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے امیر المؤمنین! آپؓ کو اس فتنہ سے کیا؟، یقینا آپؓ کے اور اس کے درمیان تو ایک بند دروازہ ہے۔ انہوں نے فرمایا کیا وہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا نہیں بلکہ توڑا جائے گا۔ انہوں (حضرت عمرؓ) نے فرمایا اگر ایسا ہے تو پھر کبھی بند نہ ہوگا۔ راوی کہتے ہیں ہم نے حضرت حذیفہؓ سے کہا کیا حضرت عمرؓ کو پتہ تھا کہ وہ دروازہ کون ہے؟ انہوں نے کہا ہاں جیسے وہ دن کے بعد رات کے آنے کو جانتے تھے۔ میں نے یقینا انہیں ایسی بات بتائی جس میں غلطیاں نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم ڈرے کہ حضرت حذیفہؓ سے اس بارہ میں پوچھیں کہ وہ دروازہ کون ہے؟ ہم نے مسروق سے کہا کہ ان سے پوچھیں تو انہوں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا حضرت عمرؓ۔ ایک روایت میں (اَیُّکُمْ یَحْفَظُ حَدِیْثَ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ فِی الْفِتْنَۃِ کی بجائے) مَنْ یُّحَدِّثُنَا عَنِ الْفِتْنَۃِ کے الفاظ ہیں۔
محمد (بن سیرین) بیان کرتے ہیں کہ حضرت جندبؓ نے بتایا کہ میں جَرعہ کے دن آیا تو ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے کہا کہ آج یہاں بہت خون ہو گا تو اس شخص نے کہا اللہ کی قسم ہر گز نہیں! میں نے کہا اللہ کی قسم کیوں نہیں! اس نے کہا ہر گز نہیں اللہ کی قسم! میں نے کہا کیوں نہیں اللہ کی قسم! اس نے کہا ہر گز نہیں اللہ کی قسم! یہ رسول اللہﷺ کی حدیث ہے جو آپؐ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ (حضرت جندبؓ کہتے ہیں) میں نے کہا کہ تو آج میرے لئے بہت برا ساتھی ہے، تو مجھے سُنتا ہے کہ میں وہ بات کرتا ہوں جو تیری اس بات کے خلاف ہے جو تم نے رسول اللہﷺ سے سنی ہے اور تم مجھے روکتے نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ یہ غُصّہ کیسا! پھر میں نے اس کی طرف توجہ کی کہ اس سے پوچھوں تو وہ شخص حضرت حذیفہؓ تھے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قیامت نہ آئے گی یہاں تک کہ فرات سونے کا ایک پہاڑ ظاہر نہ کر دے۔ جس پر لوگ لڑیں گے اور ہر سو میں سے نناوے مارے جائیں گے اور ان میں سے ہر ایک کہے گا کاش کہ میں بچ جاؤں۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے راوی سہیل کہتے ہیں کہ میرے والد (ذکوان) نے کہا کہ اگر تُو اس کو دیکھے تو اس کے قریب بھی نہ پھٹکنا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا قریب ہے کہ فرات سونے کا ایک خزانہ ظاہر کر دے۔ پس جو کوئی وہاں ہو تو اس میں سے کچھ نہ لے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا قریب ہے کہ فرات سونے کا ایک پہاڑ ظاہر کردے۔ پس جو کوئی وہاں ہو تو اس میں سے کچھ نہ لے۔
عبداللہ بن حارث بن نوفل کہتے ہیں کہ میں حضرت اُبیَ بن کعبؓ کے پاس کھڑا تھا کہ انہوں نے کہا لوگوں کی گردنیں مسلسل طلبِ دنیا میں لگی رہیں گی۔ میں نے کہا ہاں انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا قریب ہے کہ فرات سونے کا ایک پہاڑ ظاہر کرے۔ پس جب لوگ اس کے بارہ میں سنیں گے تو اس کی طرف چل پڑیں گے اور جو اس کے پاس ہوں گے کہیں گے اگر ہم نے اس میں سے لوگوں کو کچھ لینے دیا تو وہ سارا لے جائیں گے۔ فرمایا اس وجہ سے وہ لڑیں گے اور ہر سو میں سے ننانوے مارے جائیں گے۔ ایک روایت میں (کُنْتُ وَاقِفًا مَعَ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ کی بجائے) وَقَفْتُ أَنَا وَ اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ فِیْ ظِلِّ أُجُمِ حَسَّانَ کے الفاظ ہیں کہ میں اور حضرت ابی بن کعبؓ حسان کے قلعہ کے سائے میں کھڑے تھے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عراق اپنے درہم اور قفیز کو روکے گا اور شام اپنے مُدی اور دینار کو روکے گا اور مصر اپنے اِرْدَبّ اور دینار کو روکے گا۔ جیسے تمہاری ابتدا تھی تم اسی حالت میں لوٹ جاؤ گے۔ جیسے تمہاری ابتدا تھی تم اسی حالت میں لوٹ جاؤ گے۔ جیسے تمہاری ابتدا تھی تم اسی حالت میں لوٹ جاؤ گے۔ ابو ہریرہؓ کا گوشت اور خون اس پر گواہی دیتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتّٰی کہ رومی اعماق یا فرمایا دابق میں اتریں گے۔ تو اس وقت مدینہ کا ایک لشکر جو کرّئہ ارض کے بہترین لوگوں میں سے ہوگا اُن کی طرف نکلے گا۔ جب وہ صف آراء ہو جائیں گے تو رومی کہیں گے ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان سے ہٹ جاؤ جنہوں نے ہم میں سے قیدی بنائے ہیں ہم ان سے لڑیں۔ مسلمان کہیں گے نہیں، اللہ کی قسم! ہم تمہارے اور اپنے بھائیوں کے درمیان سے نہیں ہٹیں گے۔ اس پر وہ ان سے جنگ کریں گے تو ایک تہائی بھاگ جائیں گے۔ اللہ کبھی ان کی توبہ قبول نہیں کرے گا اور ان کا ایک تہائی مارا جائے گا۔ یہ اللہ کے نزدیک افضل ترین شہید ہوں گے اور ایک تہائی فتحیاب ہو گا۔ وہ کبھی فتنہ میں مبتلا نہ ہوں گے۔ وہ قسطنطینیہ کو فتح کریں گے۔ پس وہ اپنی تلواروں کو زیتون (کے درخت) سے لٹکا کر اموالِ غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے کہ ان میں شیطان بلند آواز سے کہے گا کہ مسیح دجال تمہارے پیچھے تمہارے اہل و عیال میں ہے۔ وہ وہاں سے نکلیں گے اور یہ جھوٹ ہو گا۔ جب وہ شام آئیں گے تب وہ (دجال) نکلے گا۔ وہ جنگ کی تیاری کیلئے صفیں سیدھی کر رہے ہوں گے کہ نماز کھڑی ہونے کا وقت آجائے گا۔ تو مسیح ابن مریمؑ نازل ہوں گے اور ان کی امامت کروائیں گے۔ جب اللہ کا دشمن اسے دیکھے گا تو ایسے گھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے اور اگر وہ (مسیحؑ) اسے چھوڑ بھی دیں تب بھی وہ خود ہی گھل کر ہلاک ہوجائے گا لیکن اللہ اُسے اس (مسیحؑ) کے ہاتھ سے قتل کرے گا اور وہ لوگوں کو اس (دجال) کا خون اپنی برچھی پر دکھائے گا۔