بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ حضرت حفصہؓ کے دروازہ کے قریب کھڑے تھے تو آپؐ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا فتنہ یہاں ہے جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔ آپؐ نے یہ دو یا تین مرتبہ فرمایا۔ ایک روایت میں (اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِﷺ قَامَ عِنْدَ بابِ حَفْصَۃَ کی بجائے) قَامَ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ عِنْدَ بَابِ عَائِشَۃَ کے الفاظ ہیں۔ یعنی رسول اللہﷺ حضرت عائشہؓ کے دروازہ پر کھڑے ہوئے تھے۔
سالم بن عبد اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور آپؐ مشرق کی طرف چہرئہ مبارک کئے ہوئے تھے۔ سنو فتنہ یہاں ہے، سنو فتنہ یہاں ہے، سنو فتنہ یہاں ہے جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ حضرت عائشہؓ کے گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا کفر کا سر یہاں سے ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔ آپؐ کی مراد مشرق سے تھی۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اور آپؐ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا سنو فتنہ ادھر ہے، سنو فتنہ ادھر ہے، _تین بار فرمایا _ جہاں سے شیطان کے دو سینگ نکلیں گے۔
ابن فضیل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے سالم بن عبد اللہ بن عمرؓ کو کہتے ہوئے سنا اے اہل عراق! تم کیا ہی گناہِ صغیرہ کے بارہ میں سوال کرنے والے ہو اور کیا ہی گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والے ہو۔ میں نے اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے سنا وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا فتنہ اس طرف سے آئے گا اور آپؐ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا جہاں سے شیطان کے سینگ نکلیں گے اور تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے۔ اور موسیٰ نے آل فرعون میں سے جسے قتل کیا تھا تو وہ محض غلطی سے قتل کیا تھا چنانچہ اللہ عزّوجل نے فرمایا وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْْنَاکَ مِنَ الْغَمِّ وَفَتَنَّاکَ فُتُونًا ترجمہ: نیز تو نے ایک جان کو قتل کیا تو ہم نے تجھے غم سے نجات بخشی اور طرح طرح کی آزمائشوں میں ڈالا۔ سالم کی روایت میں سَمِعْتُ (میں نے سنا) کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا وہ گھڑی قائم نہ ہوگی یہانتک کہ دوس (قبیلے) کی عورتیں مٹکتی ہوئی ذوالخلصہ کے گرد چکر لگائیں گی _ اور یہ ایک بت تھا جس کی دوس (قبیلہ) تبالہ میں زمانہ جاہلیت میں عبادت کیا کرتا تھا۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا رات اور دن فنا نہیں ہوں گے یہان تک کہ لات و عزّٰی کی عبادت کی جائے گی میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ ترجمہ: وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اسے سب دینوں پر غالب کردے خواہ مشرک کیسا ہی ناپسند کریں _ تو میرا خیال تھا کہ یہ (غلبہ) پورا ہوگیا_ آپؐ نے فرمایا ضرور ایسا ہوگا جب اللہ چاہے گا۔ پھر اللہ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا اور وہ اس کو جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہے موت کی نیند سلا دے گا اور وہ باقی رہ جائیں گے جن میں کوئی خیر نہیں اور وہ اپنے آباء کے دین کی طرف لوٹ جائیں گے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ وہ گھڑی قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ ایک شخص کسی آدمی کی قبر کے پاس سے گذرے گا تو کہے گا کہ کاش اس کی جگہ میں ہوتا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے دنیا ختم نہ ہوگی یہا ں تک کہ ایک آدمی ایک قبر کے قریب سے گذرے گا تو اس پر لَوٹے گا اور کہے گا اے کاش! میں اس قبر والے کی جگہ پر ہوتا اور یہ لوٹنے والے کے دین کی وجہ سے نہیں بلکہ مصیبت کی وجہ سے ہوگا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ضرور لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ قاتل کو یہ پتہ نہیں ہوگا کہ کس وجہ سے اس نے قتل کیا اور نہ ہی مقتول کو پتہ ہوگا کہ اسے کس وجہ سے قتل کیا گیا۔