بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
حضرت مستورد قرشیؓ نے حضرت عمروؓ بن العاص کی موجودگی میں کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا قیامت اس وقت آئے گی جب لوگوں میں سے اکثر رومی ہوں گے۔ حضرت عمروؓ نے ان سے کہا کہ دیکھ لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ انہوں نے کہا کہ میں وہی کہہ رہا ہوں جو میں نے رسول اللہﷺ سے سنا انہوں (حضرت عمرؓ و) نے کہا کہ تم اگر ان کے بارہ میں یہ کہتے ہو تو ان میں چار خوبیاں ہیں فتنہ کے وقت وہ لوگوں میں سب سے زیادہ حلیم ہوتے ہیں اور کسی تکلیف کے بعد سب (لوگوں) سے جلدی افاقہ پاتے ہیں اور بھاگنے کے بعد پھر حملہ کرتے ہیں اور لوگوں میں بہتر ہیں مسکین یتیم اور کمزور کے لئے اور _ پانچویں جو بڑی عمدہ اور خوبصورت خوبی ہے _ وہ سب سے زیادہ بادشاہوں کے ظلم کو روکنے والے ہیں۔
حضرت مستورد قرشیؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا قیامت اس وقت ہوگی جب لوگوں میں سے اکثر رومی ہوں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب یہ بات حضرت عمرو بن العاصؓ تک پہنچی تو انہوں نے کہا یہ کیسی روایات ہیں جو تمہاری طرف سے بیان کی جاتی ہیں جنہیں تم رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کر کے بیان کرتے ہو۔ حضرت مستوردؓ نے ان سے کہا کہ میں وہی بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہﷺ سے سنا۔ وہ کہتے ہیں اس پر حضرت عمروؓ نے کہا اگر تم وہی کہتے ہو تو بات یہ ہے کہ وہ فتنہ کے وقت لوگوں میں سے سب سے زیادہ حلیم ہوتے ہیں اور مصیبت کے وقت لوگوں میں سے سب سے زیادہ جلد بحال ہو جاتے اور لوگوں میں سب سے زیادہ بہتر ہیں اپنے مساکین اور کمزوروں کے لئے۔
یُسیربن جابر بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ کوفہ میں سُرخ آندھی آئی تو ایک شخص آیا اس کا تکیہ کلام تھا کہ ’’اے عبد اللہ بن مسعودؓ! قیامت آگئی‘‘ راوی کہتے ہیں وہ (حضرت عبد اللہؓ) سہارا لئے ہوئے تھے بیٹھ گئے اور کہا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ میراث تقسیم نہ ہو گی اور محض مال غنیمت پر خوشی نہ ہوگی پھر انہوں نے اپنے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا_ اور اپنے ہاتھ کو شام کی طرف موڑا_ اور کہا کہ اہل اسلام کے مقابل پر دشمن (وہاں) اکٹھے ہوں گے اور مسلمان ان سے لڑنے کے لئے اکٹھے ہوں گے۔ میں نے کہا آپؓ کی مراد رومی ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں اس وقت بہت سخت لڑائی ہوگی مسلمان ایک لشکر کو آگے بھیجیں گے جو مرنے کے لئے آگے بڑھے گا اور بغیر غلبہ کے نہ لوٹے گا۔ وہ لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کے درمیان رات حائل ہو جائے گی پھر یہ بھی اور وہ بھی لوٹ جائیں گے۔ اور کسی کو غلبہ نہ ہوگا اور لشکر (جو لڑائی کے لئے بڑھا تھا) وہ فنا ہو جائے گا۔ پھر مسلمان ایک (اور) لشکر کو مرنے (مارنے) کے لئے آگے بڑھائیں گے۔ وہ واپس نہیں آئے گا سوائے اس کے کہ غالب آجائے وہ لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ رات ان کے درمیان حائل ہوگی پھر یہ بھی اور وہ بھی لوٹ جائیں گے اور کسی کو غلبہ نہ ہوگا اور لشکر (جو لڑائی کے لئے آگے بڑھا تھا) وہ فنا ہو جائے گا پھر مسلمان (اور) لشکر کو مرنے (مارنے) کے لئے آگے بڑھائیں گے وہ واپس نہیں آئے گا سوائے اس کے کہ غالب آجائے وہ لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ شام ہو جائے گی پھر یہ بھی اور وہ بھی لوٹ جائیں گے اور کوئی غالب نہ ہو گا اور یہ لشکر بھی فنا ہو جائے گا۔ جب چوتھا دن ہوگا تو جتنے مسلمان باقی رہ گئے ہوں گے وہ سب آگے بڑھیں گے اس دن اللہ کافروں کو شکست دے گا اور وہ اس طرح قتل کریں گے کہ کسی نے نہ دیکھا ہو گا۔ _ لَا یُرَی مِثْلُھَا کہا یا لَمْ یُرَی مِثْلُھَاکہا _ یہاں تک کہ پرندہ ان کے پہلوؤں سے گذرے گا پھر آگے نہیں بڑھے گا کہ وہ مر کر گرجائے گا اور (جب ایک) باپ کے بیٹے گنیں گے کہ وہ اگر سو تھے تو وہ نہیں پائیں گے سوائے ایک آدمی کے جو ان میں باقی ہے۔ ایسی حالت میں غنیمت سے کیا خوشی ہوگی اور کونسا ترکہ تقسیم کیا جائے گا۔ پھر وہ (مسلمان) اسی حالت میں ہوں گے کہ ایک اور آفت کی خبر سنیں گے جو اس سے بھی بڑی ہوگی۔ انہیں ایک آواز آئے گی کہ دجال ان کے پیچھے ان کے بال بچوں میں ہے۔ یہ سن کر جو کچھ ان کے ہاتھوں میں ہوگا اسے چھوڑ دیں گے اور آگے بڑھیں گے اور دس بہترین گھڑسواروں کو آگے بھیجیں گے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں ان (کے نام) اور ان کے باپوں کے نام جانتا ہوں اور ان کے گھوڑوں کے رنگ جانتا ہوں اور اس دن وہ روئے زمین کے بہترین سوار ہوں گے یا فرمایا اس دن وہ روئے زمین کے بہترین سواروں میں سے ہوں گے۔ ایک روایت میں (عَنْ یُسَیْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ ھَاجَتْ رِیْح ٌ کی بجائے) عَنْ یُسَیْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ بْنَ مَسْعُودٍ فَھَبَّتْ رِیْحٌ حَمْرَائُ (سرخ آندھی چلی) کے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں عَنْ اُسَیْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ کُنْتُ فِیْ بَیْتِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ وَالْبَیْتُ مَلآنَ
حضرت جابر بن سمرہؓ حضرت نافع بن عتبہؓ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ مغرب کی طرف سے کچھ ایسے لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جنہوں نے اونی کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ وہ آپؐ کو ایک ٹیلے کے پاس ملے۔ وہ کھڑے تھے اور رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے وہ کہتے ہیں میرے دل نے کہا کہ ان کے پاس جاؤ اور ان کے اور حضورؐ کے درمیان کھڑے ہوجاؤ ایسا نہ ہو کہ یہ آپؐ کو دھوکے کے ساتھ قتل کردیں وہ کہتے ہیں پھر میں نے کہا کہ شاید آپؐ ان سے علیحدگی میں کچھ خاص باتیں کر رہے ہوں۔ تو میں ان کے پاس آیا اور ان کے اور حضورؐ کے درمیان کھڑا ہوگیا۔ وہ کہتے ہیں (اس وقت) میں نے آپؐ سے چار باتیں یاد کیں۔ جن کو میں اپنے ہاتھ پر گن سکتا ہوں آپؐ نے فرمایا تھا تم جزیرہ عرب میں جہاد کرو گے اور اللہ اسے فتح کر دے گا۔ پھر فارس سے (جہاد کرو گے) اور اللہ اسے بھی فتح کر دے گا۔ پھر رومیوں سے جہاد کرو گے اور اللہ اسے بھی فتح کر دے گا۔ پھر تم دجال سے جہاد کرو گے اور اللہ اس کو بھی فتح کر دے گا۔ وہ کہتے ہیں اس پر نافع نے کہا اے جابر! جب تک رومی فتح نہ ہوجائیں دجال کا خروج نہیں ہوگا۔ باب: ان علامات کے بارہ میں جو قیامت سے پہلے (ظاہر) ہوں گی۔
حضرت حذیفہ ؓ بن اسید غفاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (اوپر سے) ہمیں جھانکا اور ہم باتیں کر رہے تھے۔ آپ ؐ نے فرمایا تم کیا باتیں کر رہے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم ’’اس گھڑی‘‘ کے بارہ میں باتیں کر رہے ہیں۔ آپ ؐ نے فرمایا وہ قائم نہیں ہوگی یہانتک کہ اس سے پہلے تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو پھر آپ ؐ نے ان کا ذکر فرمایا دھواں، دجال، دابہ اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور عیسیٰ بن مریم ؑ کا نزول اور یاجوج ماجوج اور تین خسف (یعنی زمین کا دھنسنا) مشرق میں خسف اور مغرب میں خسف اور جزیرہ عرب میں خسف اور سب سے آخر میں ایک آگ جو یمن سے نکلے گی جو لوگوں کو ان کے اکٹھے ہونے کی جگہ کی طرف لے جائے گی۔
حضرت ابو سریحہؓ حضرت حذیفہ بن اسیدؓ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ بالا خانہ میں تھے اور ہم آپؐ سے نیچے تھے۔ آپؐ نے ہماری طرف جھانکا اور فرمایا تم کیا باتیں کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا اس گھڑی کے بارہ میں۔ آپؐ نے فرمایا وہ گھڑی نہیں ہوگی یہانتک کہ دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں: مشرق میں زمین کا دھنسنا اور مغرب میں زمین کا دھنسنا اور جزیرہ عرب میں زمین کا دھنسنا اور دھواں، اور دجال، اور دابۃ الارض، اور یاجوج ماجوج، اور سورج کا اپنے مغرب سے نکلنا اور ایک آگ جو عدن کے ایک دور کے زیریں علاقہ سے نکلے گی جو لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی۔ ایک روایت میں راوی نبیﷺ کا ذکر نہیں کرتے۔ اور دونوں میں سے ایک راوی بیان کرتے ہیں کہ دسواں نشان عیسیٰ بن مریمﷺ کا نزول ہے اور دوسرے راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک آندھی جو لوگوں کو سمندر میں پھینک دے گی۔ ایک اور روایت میں (کانَ النَّبِیُّﷺ فِیْ غُرْفَۃٍ وَنَحْنُ اَسْفَلَ مِنْہُ کی بجائے) کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ فِیْ غُرْفَۃٍ وَنَحْنُ تَحْتَھَا نَتَحَدَّثُ کے الفاظ ہیں۔ اس روایت میں شعبہ بیان کرتے ہیں کہ میرا خیال ہے انہوں نے کہا کہ وہ (آگ) اترے گی ان کے ساتھ ہی جہاں وہ اتریں گے اور ان کے ساتھ ہی قیلولہ کرے گی جہاں وہ قیلولہ کریں گے۔ ایک اور روایت میں حضرت ابی سریحہؓ سے مروی ہے مگر وہ اسے مرفوع بیان نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ ایک کہتا ہے کہ نزول عیسیٰ بن مریم اور دوسرا کہتا ہے کہ ایک آندھی جو اُن کو سمندر میں پھینک دے گی اور ایک روایت میں قَالَ کُنَّا نَتَحَدَّثُ فَاَشْرَفَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہﷺ کے الفاظ ہیں اور ایک اور روایت میں ہے کہ دسواں (نشان) نزول عیسیٰ بن مریم ہے۔ (راوی) شعبہ کہتے ہیں کہ عبد العزیز نے اس روایت کو مرفوع بیان نہیں کیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا وہ گھڑی قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ حجاز کی زمین سے آگ نکلے جو بُصریٰ میں اونٹوں کی گردنوں کو روشن کر دے گی۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا (مدینہ کے) گھر اِھاب یا یَھَاب تک پہنچ جائیں گے۔ زہیر کہتے ہیں کہ میں نے سہیل سے پوچھا کہ اس کا مدینہ سے کتنا فاصلہ ہے؟ انہوں نے کہا اتنے اتنے میل۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قحط یہ نہیں ہے کہ تم پر پانی نہ برسے بلکہ قحط یہ ہے کہ تم پر بارش برسے اور اور تم پر بارش برسے لیکن زمین کچھ نہ اُگائے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جب کہ آپؐ مشرق کی طرف اپنا چہرہ مبارک کئے ہوئے تھے۔ آپؐ نے فرمایا سنو فتنہ یہاں ہے، سنو فتنہ یہاں ہے، جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔