بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھا۔ جب ہم مکہ آئے تو آپؐ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم احرام کھول دیں اور ہم اسے عمرہ بنا دیں تو یہ بات ہم پر گراں گزری اور اس سے ہمارے سینوں میں تنگی پیدا ہوئی۔ یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ آپؐ کو آسمان سے کوئی خبر ملی یا کوئی بات لوگوں کی طرف سے۔ آپؐ نے فرمایا اے لوگو! احرام کھول دو۔ اگر میرے ساتھ قربانی نہ ہوتی میں بھی اس طرح کرتا جس طرح تم نے کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر ہم نے احرام کھول دیا اور ہم نے اپنی بیویوں سے تعلق قائم کیا اور ہم نے کیا جو غیر مُحرِم کرتے ہیں یہاں تک کہ جب یوم ترویہ آیا اور ہم مکہ سے باہر نکلے تو حج کا احرام باندھا۔
موسیٰ بن نافع کہتے ہیں میں مکہ یوم ترویہ سے چار دن پہلے (حج) تمتع کرنے کے لئے آیا تو لوگوں نے کہا تیرا حج اب مکہ والوں کی طرح ہوگا۔ میں عطاء بن ابی رباح کے پاس گیا اور ان سے فتویٰ پوچھا تو عطاء نے کہا مجھ سے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس سال حج کیا جس سال آپؐ قربانی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ اور لوگوں نے حج مفرد کا احرام باندھا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا اپنے احرام کھول دو اور بیت اللہ کا اور صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرو اور بال کٹواؤ اور احرام کھولے رکھو یہانتک کہ جب یوم ترویہ آئے تو حج کا احرام باندھ لو اور تم جو ارادہ کرکے آئے تھے اسے (حج) تمتع بنا دو۔ انہوں نے کہا ہم اسے کیسے (حج) تمتع بنائیں گے حالانکہ ہم نے ارادہ حج (مفرد) کا کیا تھا؟ آپؐ نے فرمایا تم وہی کرو جس کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں اگر میں اپنے ساتھ قربانی نہ لایا ہوتا تو میں بھی وہی کرتا جس کا تمہیں حکم دیا ہے۔ لیکن میرا احرام کھل نہیں سکتا یہانتک کہ قربانی اپنی جگہ پر پہنچ جائے۔ پس انہوں نے ویسا ہی کیا۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ارشاد فرمایا کہ ہم اسے عمرہ بنالیں اور احرام کھول دیں۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قربانی تھی اس لئے آپؐ اسے عمرہ نہ بنا سکے۔
ابو نضرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت ابن عباسؓ (حج) تمتع کی اجازت دیتے تھے اور حضرت ابن زبیرؓ اس سے منع کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں میں نے یہ بات حضرت جابر بن عبداللہؓ کے پاس بیان کی۔ انہوں نے کہا یہ روایت میرے ہاتھوں عام ہوئی ہے۔ ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ (حج) تمتع کیا۔ پس جب حضرت عمرؓ کا زمانہ آیا تو انہوں نے کہا یقینا اللہ تعالیٰ جو چاہتا تھا اور جیسے چاہتا تھا اپنے رسولؐ کے لئے جائز قرار دیتا تھا اور یقینا قرآن کا نزول مکمل ہو چکا ہے۔ پس تم حج اور عمرہ کو اللہ کی خاطر پورا کرو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو حکم دیا ہے اور ان عورتوں سے دائمی نکاح کیا کرو۔ پس ہر گز کوئی شخص میرے پاس نہیں لایا جائے گا جس نے کسی عورت سے وقتی نکاح کیا ہوا ہو مگر میں اسے سنگسار کر دوں گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ تم اپنے حج کو اپنے عمرہ سے جدا کرو کیونکہ یہ تمہارے حج کو زیادہ مکمل کرنے کا ذریعہ ہے اور تمہارے عمرہ کو زیادہ مکمل کرنے والا ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ آئے اور ہم حج کے لئے لبیک کہہ رہے تھے۔ ہمیں رسول اللہﷺ نے حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ بنا دیں۔
جعفر بن محمد اپنے والدؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہؓ کے پاس آئے۔ انہوں نے (ہم) لوگوں سے دریافت کیا یہانتک کہ مجھ تک پہنچے۔ میں نے کہا میں محمد بن علی بن حسین ہوں۔ انہوں نے اپنا ہاتھ میرے سر کی طرف جھکایا اور میرا اوپر کا بٹن کھولا پھر میرا نچلا بٹن کھولا۔ پھر اپنی ہتھیلی میرے سینہ پر رکھی۔ میں اس وقت نوجوان لڑکا تھا۔ انہوں نے کہا اے میرے بھتیجے آپ کو خوش آمدید۔ جو چاہو پوچھو تو میں نے اُن سے کچھ باتیں پوچھیں۔ وہ نابینا تھے اور نماز کا وقت ہو گیا۔ وہ اپنی بُنی ہوئی چادر اوڑھ کر کھڑے ہو گئے۔ جب بھی وہ اُسے اپنے کندھوں پر ڈالتے اس کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس کے دونوں کنارے آپ کی طرف لوٹ آتے اور ان کی (بڑی) چادر اُن کے پہلو میں کھونٹی پر تھی۔ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی۔ میں نے کہا مجھے رسول اللہﷺ کے حج کے بارہ میں بتائیں۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے نو تک گِنا پھر کہا رسول اللہﷺ نو سال رہے اور حج نہیں کیا۔ پھر دسویں سال لوگوں میں اعلان کیا کہ رسول اللہﷺ حج کرنے والے ہیں۔ مدینہ میں بہت لوگ آئے۔ سب اس جستجو میں تھے کہ رسول اللہﷺ کی پیروی کریں اور آپؐ کے عمل کے مطابق عمل کریں۔ ہم آپؐ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو حضرت اسماء بنتِ عمیسؓ نے محمد بن ابی بکر کو جنم دیا اور انہوں نے رسول اللہﷺ کو پیغام بھیجا کہ میں کیا کروں؟ آپؐ نے فرمایا کہ غسل کرو اور کپڑا باندھ کر احرام باندھ لو رسول اللہﷺ نے مسجد میں نماز پڑھائی پھر قصواء (اونٹنی) پر سوار ہوئے یہانتک کہ آپؐ کی اونٹنی بیداء مقام پر کھڑی ہوئی تو میں نے اپنے سامنے تا حدِّ نظر سوار اور پیدل چلنے والے دیکھے اور آپؐ کے دائیں بھی اسی طرح تھا اور آپؐ کے بائیں بھی اسی طرح تھا اور آپؐ کے پیچھے بھی اسی طرح تھا اور رسول اللہﷺ ہمارے درمیان تھے۔ اور آپؐ پر قرآن نازل ہو رہا تھا اور آپؐ اس کے معانی جانتے تھے۔ آپؐ جو کرتے ہم بھی وہی کرتے۔ آپؐ نے توحید (پر مشتمل) تلبیہ پڑھا۔ میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں، سب تعریف اور نعمت تیری ہے اور بادشاہت (بھی)۔ تیرا کوئی شریک نہیں اور لوگ وہی تلبیہ پڑھتے رہے جو پڑھتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے انہیں اس سے ذرا بھی نہیں روکا اور رسول اللہﷺ اپنا تلبیہ پڑھتے رہے۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا۔ ہمیں عمرہ کا پتہ نہیں تھا یہانتک کہ جب ہم آپؐ کے ساتھ بیت اللہ پہنچے۔ آپؐ نے رکن (حجرِ اسود) کو بوسہ دیا اور تین دفعہ دوڑے اور چار مرتبہ چلے (اور طواف مکمل کیا)۔ پھر مقام ابراہیم علیہ السلام کی طرف تشریف لے گئے اور یہ آیت پڑھی وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاہِیْمَ مَصَلًّی۔ ابراہیمؑ کے مقام کو نماز کی جگہ بناؤ۔ (البقرہ: 126) پھر آپؐ نے مقام کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھا (اور نماز پڑھی)۔ وہ (جعفر) کہتے ہیں میرے والد کہا کرتے تھے اور میرا ان کے بارہ میں علم نہیں ہے کہ انہوں نے نبیﷺ سے روایت کرنے کے علاوہ اس بات کو بیان کیا ہو کہ آپؐ (اِن) دو رکعتوں میں قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اور قُلْ یٰاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ پڑھتے تھے۔ پھر آپؐ رکن (حجرِ اسود) واپس تشریف لے گئے اور اسے بوسہ دیا پھر دروازے سے نکل کر صفا کی طرف تشریف لے گئے۔ جب صفا کے قریب آئے تو یہ آیت پڑھی۔ اِنَّ الصَّفَا۔۔۔ (البقرۃ: 159) یقینا صفا اور مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں۔ (فرمایا) میں اس سے ابتداء کرتا ہوں جس سے اللہ نے ابتداء کی۔ پھر آپؐ نے صفا سے ابتداء کی اور اس پر چڑھے یہانتک کہ بیت اللہ کو دیکھا اور قبلہ کی طرف رخ کیا اور اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کی اور اس کی بڑائی کا ذکر کیا اور فرمایا اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے، اسی کی سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ اکیلا ہے۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندہ کی مدد کی اور لشکروں کو اکیلے پسپا کردیا اور پھر اس کے درمیان آپؐ نے دعا کی۔ تین مرتبہ اسی طرح کہا۔ پھر مروہ کی طرف اُترے یہانتک کہ جب آپؐ کے دونوں قدم وادی کے نشیب میں پڑے تو آپؐ دوڑنے لگے یہانتک کہ جب آپؐ کے قدم چڑھائی پر چڑھنے لگے تو آپ چلنے لگے یہانتک کہ مروہ پر آئے۔ پھر مروہ پر اس طرح کیا جیسے صفا پر کیا تھا۔ یہانتک کہ جب مروہ پر آپؐ کا آخری چکر تھا تو آپؐ نے فرمایا اگر میں وہ کر سکتا تو جو میں نے نہیں کیا تو میں بھی اپنی قربانی اپنے ساتھ نہ لاتا۔ پس تم میں سے جس کے پاس قربانی نہیں ہے وہ احرام کھول دے اور اسے عمرہ بنا دے۔ اس پر حضرت سراقہؓ بن مالک بن جُعْشُم کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! کیا یہ ہمارے اسی سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے؟ رسول اللہﷺ اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے میں ڈالیں اور فرمایا عمرہ حج میں داخل ہو گیا۔ یہ دو مرتبہ فرمایا نہیں -بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لئے اور حضرت علیؓ یمن سے نبیﷺ کی قربانی کے جانور لے کر آئے تھے۔ انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ان میں سے پایا جنہوں نے احرام کھول دیا تھا اور رنگین کپڑے پہن لئے تھے اور سرمہ لگا لیا تھا۔ انہوں (حضرت علیؓ) نے اُن (حضرت فاطمہؓ) کی اس بات کو اوپرا سمجھا تو وہ بولیں۔ میرے ابّا نے مجھے اسی کا حکم دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں حضرت علیؓ عراق میں بتایا کرتے تھے۔ اس پر میں رسول اللہﷺ کے پاس فاطمہؓ کی شکایت کرنے کے لئے اور رسول اللہﷺ سے وہ بات پوچھنے کے لئے جو فاطمہؓ نے آپؐ کی طرف منسوب کی تھی گیا - اور میں نے آپؐ کو بتایا کہ میں نے فاطمہؓ کی اس بات کو اوپرا سمجھا۔ آپؐ نے فرمایا اس نے سچ کہا، اس نے سچ کہا۔ جب تم نے حج کی نیت باندھی تھی تو کیا کہا تھا؟ حضرت علیؓ کہتے ہیں میں نے کہا تھا اے اللہ! میں وہ احرام باندھتا ہوں جو تیرے رسولؐ نے باندھا ہے۔ آپؐ نے فرمایا تو میرے ساتھ قربانی ہے۔ پس تم احرام نہیں کھولو گے۔ راوی کہتے ہیں وہ قربانیاں جو حضرت علیؓ یمن سے لائے تھے اور جو نبیﷺ لائے تھے ان کی مجموعی تعداد ایک سو تھی۔ راوی کہتے ہیں سب لوگوں نے احرام کھول دیا اور بال کٹوائے سوائے نبیﷺ کے اور ان کے جن کے پاس قربانی تھی۔ پھر جب یوم ترویہ آیا تو سب نے منٰی کا رُخ کیا اور حج کا احرام باندھا اور رسول اللہﷺ سوار ہوئے اور آپؐ نے وہاں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر پڑھی۔ پھر کچھ ٹھہرے یہانتک کہ سورج طلوع ہوا اور آپؐ کے ارشاد پر نمرہ (مقام) میں بالوں سے بُنا ہوا ایک خیمہ آپؐ کے لئے لگایا گیا۔ پھر رسول اللہﷺ چلے اور قریش کو کوئی شک نہیں تھا کہ آپؐ مشعر حرام کے پاس رُکیں گے جیسا کہ قریش جاہلیت میں کیا کرتے تھے مگر رسول اللہﷺ وہاں سے گزر گئے یہانتک کہ عرفہ میں آئے۔ آپؐ نے اپنا خیمہ نمرہ میں لگا ہوا پایا۔ آپؐ وہاں اُترے یہانتک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپؐ نے قصواء اونٹنی کے بارہ میں ارشاد فرمایا۔ اس پر آپؐ کے لئے پالان ڈالا گیا۔ آپؐ وادی کے درمیان میں تشریف لائے اور لوگوں سے خطاب فرمایا۔ آپؐ نے فرمایا یقینا تمہارے خون اور تمہارے اموال تمہارے لئے قابلِ احترام ہیں جیسے تمہارا یہ دن، تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں قابلِ احترام ہے۔ سنو! جاہلیت کی ہر بات میرے پاؤں کے نیچے مسل دی گئی ہے اور جاہلیت کے خون بھی کالعدم ہیں اور یقینا اپنے خونوں میں سے سب سے پہلا خون جو میں کالعدم کرتا ہوں۔ وہ ابن ربیعہ بن الحارث کا خون ہے۔ وہ بنی سعد میں ایّام رضاعت میں تھا کہ اُسے ہذیل نے قتل کر دیا تھا اور جاہلیت کے سود بھی کالعدم ہیں اور سب سے پہلا سود جو میں کالعدم کرتا ہوں ہمارا سود یعنی عباس بن عبدالمطلب کا سود۔ وہ سارے کا سارا کالعدم ہے۔ اور عورتوں کے بارہ میں اللہ کا تقوٰی اختیار کرو۔ کیونکہ تم نے ان کو اللہ سے عہد و پیمان کر کے لیا ہے اور اللہ کے حکم سے ان سے ازدواجی تعلقات کو جائز قرار دیا ہے اور تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی کو نہ آنے دیں - کہ تم اُسے بُرا جانتے ہو۔ اگر وہ ایسا کریں تو ان کو سزا دو۔ اتنی سزا دو کہ سخت نہ ہو اور ان کا تم پر حق ان کا کھانا پینا اور مناسب طور پر ان کا لباس ہے۔ اور میں نے تم میں وہ چھوڑا ہے کہ اگر تم اس کو مضبوطی سے پکڑ لو تو تم اس کے بعد کبھی گمراہ نہ ہوگے یعنی اللہ کی کتاب۔ اور تم سے میرے بارہ میں پوچھا جائے گا۔ پس تم کیا کہو گے؟ انہوں نے کہا ہم گواہی دیں گے کہ آپؐ نے پیغام پہنچا دیا اور حق ادا کر دیا اور خیر خواہی کی۔ آپؐ نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے اور لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! گواہ رہنا۔ اے اللہ! گواہ رہنا۔ تین مرتبہ فرمایا۔ پھر آپؐ نے اذان دینے کا ارشاد فرمایا پھر اقامت کا ارشاد فرمایا اور ظہر کی نماز ادا کی۔ پھر اقامت کا ارشاد فرمایا اور عصر کی نماز ادا کی۔ اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔ پھر رسول اللہﷺ سوار ہوئے یہانتک کہ آپؐ (مزدلفہ میں) ٹھہرنے کے مقام پر پہنچے۔ آپؐ نے اپنی اونٹنی قصواء کے سینہ کا رخ چٹانوں کی طرف رکھا اور اپنے سامنے چلنے والوں کا راستہ رکھا اور قبلہ کی طرف رخ کیا۔ پھر آپؐ ٹھہرے رہے یہانتک کہ سورج غروب ہوا اور کچھ زردی ختم ہو گئی یہانتک کہ (سورج کی) ٹکیہ غائب ہو گئی اور آپؐ نے اسامہؓ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا اور اسے چلایا اور قصواء کی باگ کو کھینچا حتی کہ قریب تھا کہ اس کا سر کجاوے کی مورک سے لگتا تھا اور آپؐ اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے اے لوگو! آرام سے آرام سے! جب آپؐ کسی ٹیلے کے پاس پہنچتے اس کی باگ کچھ ڈھیلی کر دیتے یہانتک کہ وہ چڑھ جاتی۔ اس طرح آپؐ مزدلفہ پہنچے۔ پھر آپؐ نے مغرب کی اور عشاء کی نماز ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ پڑھائی اور ان کے درمیان کوئی نفل نماز نہیں پڑھی۔ پھر رسول اللہﷺ لیٹ گئے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی۔ پھر آپؐ نے فجر کی نماز اذان اور اقامت کے ساتھ اس وقت پڑھی جب صبح ظاہر ہو گئی۔ پھر آپؐ قصواء پر سوار ہوئے یہانتک کہ مشعر حرام آئے۔ آپؐ نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ اکبر کہا اور لا الٰہ الا اللہ کہا اور اس کی توحید بیان کی۔ پھر آپؐ ٹھہرے رہے یہانتک کہ خوب روشنی ہوگئی۔ پھر آپؐ سورج طلوع ہونے سے پہلے روانہ ہوئے اور فضل بن عباسؓ کو پیچھے بٹھایا اور وہ خوبصورت بالوں والے، سفید رنگ والے خوش شکل مرد تھے۔ جب رسول اللہﷺ روانہ ہوئے تو کچھ عورتیں آپؐ کے قریب سے تیزی سے چلتی ہوئی گزریں۔ فضل ان کی طرف دیکھنے لگے رسول اللہﷺ نے اپنا ہاتھ فضل کے چہرہ پر رکھا اور وہ اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر کر دیکھنے لگے۔ آپؐ ان کے چہرے کو دوسری طرف دیکھنے سے روک رہے تھے پھر آپؐ وادیٔ محسّر میں آئے۔ اور آپؐ نے سواری کو کچھ تیز کیا اور آپؐ نے درمیانی راستہ لیا جو جمرئہ کبرٰی پر جا نکلتا ہے۔ آپؐ اس جمرے پر پہنچے جو درخت کے پاس ہے آپؐ نے اُسے سات کنکریاں ماریں۔ ان میں سے ہر کنکری کے ساتھ آپؐ تکبیر کہتے تھے (وہ کنکریاں) چھوٹے چھوٹے سنگریزوں جیسی تھیں۔ آپؐ نے وادی کے نشیب سے یہ (کنکریاں) ماریں۔ پھر قربانی کرنے کی جگہ تشریف لے گئے۔ پھر آپؐ نے اپنے ہاتھ سے قربانی کے تریسٹھ جانور ذبح کئے۔ پھر حضرت علیؓ کے سپرد کیا جو رہ گئے تھے وہ انہوں نے ذبح کئے۔ اور آپؐ نے ان (حضرت علیؓ) کو اپنی قربانی میں شریک کیا تھا۔ آپؐ نے ہر قربانی میں سے ایک حصے کے بارہ میں ارشاد فرمایا اُسے ہنڈیا میں ڈالا گیا، اسے پکایا گیا۔ پھر آپ دونوں نے اس کا گوشت کھایا اور اس کا شوربا پیا۔ پھر رسول اللہﷺ سوار ہوئے اور بیت اللہ کا طواف افاضہ کیا مکہ میں نماز ظہر پڑھی۔ پھر آپؐ بنو عبدالمطلب کے پاس آئے جو زمزم پر پانی پلا رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا عبدالمطلب کی اولاد پانی نکالو۔ اگر لوگوں کے تمہارے پانی پلانے کی خدمت پر غالب آنے کا خدشہ نہ ہوتا تو میں بھی تم لوگوں کے ساتھ پانی نکالتا۔ پھر انہوں نے آپؐ کو ایک ڈول پیش کیا اور آپؐ نے اس میں سے پانی پیا۔ ایک اور روایت جعفر بن محمد سے مروی ہے وہ کہتے ہیں مجھے میرے والد نے بتایا کہ میں حضرت جابر بن عبداللہؓ کے پاس آیا اور ان سے رسول اللہﷺ کے حج کے بارہ میں سوال کیا۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے مگر اس روایت میں مزید ہے کہ عربوں کا دستور تھا کہ ابو سیارۃ ننگی پشت والے گدھے پر سوار انہیں (مزدلفہ سے) لاتا تھا۔ جب رسول اللہﷺ مزدلفہ سے آگے مشعر حرام کی طرف بڑھے تو قریش کو کوئی شک نہیں تھا کہ آپؐ وہاں ٹھہریں گے اور یہاں آپؐ کا پڑاؤ ہوگا مگر آپؐ آگے گذر گئے اور اس کی طرف کوئی توجہ نہ فرمائی یہاں تک کہ آپؐ عرفات آئے اور وہاں پڑاؤ کیا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے یہاں قربانی کی ہے اور منٰی سارے کا سارا قربان گاہ ہے۔ پس اپنی اپنی قیام گاہ میں قربانی کرلو اور میں یہاں ٹھہرا ہوں اور عرفہ سب کا سب ٹھہرنے کا مقام ہے۔ اور میں یہاں ٹھہرا ہوں - جمع (مزدلفہ) سارے کا سارا موقف ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ تشریف لائے تو حجر اسود کے پاس تشریف لائے۔ آپؐ نے اسے بوسہ دیا۔ پھر آپؐ اپنی دائیں طرف چلے۔ آپؐ نے تین دفعہ تیز چلتے ہوئے اور چار دفعہ عام رفتار سے طواف کیا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ قریش اور جو لوگ اُن کے دین کو اختیار کرتے تھے مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے اور وہ حُمس کہلاتے تھے اور باقی سارے عرب عرفہ میں ٹھہرتے تھے۔ جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ عرفات جائیں اور وہاں ٹھہریں اور پھر وہاں سے لوٹیں اور یہ ہے اللہ عزوجل کا ارشاد ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ پھر وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں۔ (البقرہ: 200)
ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں عرب بیت اللہ کا طواف بغیر لباس کے کرتے تھے۔ سوائے حمس کے اور حمس سے مراد قریش اور ان کی اولاد تھی۔ وہ بغیر لباس کے طواف کرتے تھے سوائے اس کے کہ حمس ان کو کپڑے دیں۔ مرد مردوں کو کپڑے دیتے تھے اور عورتیں عورتوں کو۔ اور حمس، مزدلفہ سے باہر نہیں جاتے تھے جبکہ باقی سب لوگ (مزدلفہ سے آگے) عرفات پہنچتے تھے۔ ہشام کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں حمس وہ لوگ تھے جن کے بارہ میں اللہ عز وجل نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیثُ اَفَاضَ النَّاسُ۔۔۔ (البقرہ: 200) ’’پھر تم لوٹو وہاں سے جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں۔‘‘ آپؓ فرماتی ہیں دوسرے لوگ تو عرفات سے لوٹتے تھے اور حُمس مزدلفہ سے لوٹتے تھے۔ وہ کہتے تھے ہم تو حرم سے ہی واپس لوٹیں گے پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تم وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں تو وہ عرفات کی طرف جانے لگے۔