قَالَ أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ يَوْمَ عَرَفَةَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاقِفًا مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَمِنَ الْحُمْسِ فَمَا شَأْنُهُ هَا هُنَا وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تُعَدُّ مِنَ الْحُمْسِ .
حضرت جبیر بن مُطعِمؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں اپنا ایک اونٹ گم کر بیٹھا اور میں اسے تلاش کرنے کے لئے عرفہ کے دن نکلا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو لوگوں کے ساتھ عرفات میں ٹھہرے ہوئے دیکھا۔ میں نے کہا اللہ کی قسم! آپؐ تو حمس میں سے ہیں۔ کیا بات ہے کہ آپؐ یہاں ہیں اور قریش حمس میں سے شمار کئے جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ لِي أَحَجَجْتَ . فَقُلْتُ نَعَمْ . فَقَالَ بِمَ أَهْلَلْتَ . قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلاَلٍ كَإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ فَقَدْ أَحْسَنْتَ طُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَحِلَّ . قَالَ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ بَنِي قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِي ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ . قَالَ فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ حَتَّى كَانَ فِي خِلاَفَةِ عُمَرَ - رضى الله عنه - فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا مُوسَى - أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ - رُوَيْدَكَ بَعْضَ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ . فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فُتْيَا فَلْيَتَّئِدْ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَبِهِ فَائْتَمُّوا . قَالَ فَقَدِمَ عُمَرُ - رضى الله عنه - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّ كِتَابَ اللَّهِ يَأْمُرُ بِالتَّمَامِ وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْىُ مَحِلَّهُ . وَحَدَّثَنَاهُ
حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا۔ آپؐ بطحاء میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپؐ نے مجھے فرمایا کیا تم حج کروگے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا کون سا احرام باندھا ہے؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا تھا کہ لَبَّیْک نبیﷺ کے احرام کی طرح احرام۔ آپؐ نے فرمایا تم نے اچھا کیا۔ بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کرو اور احرام کھول دو۔ وہ کہتے ہیں میں نے بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا۔ اور پھر میں بنی قیس کی ایک عورت کے پاس آیا۔ اس نے میرے بال صاف کئے۔ پھر میں نے حج کا احرام باندھا۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ کہتے ہیں میں اسی کا فتویٰ لوگوں کو دیتا تھا یہانتک کہ حضرت عمرؓ کی خلافت کا زمانہ آیا۔ تو ان کو ایک شخص نے کہا اے ابو موسیٰ یا کہا اے عبداللہؓ بن قیس! تم اپنے بعض فتووں میں احتیاط کرو۔ تمہیں نہیں معلوم کہ امیر المؤمنین نے تمہارے بعد مناسک میں کیا احکامات جاری فرمائے ہیں۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ نے کہا اے لوگو! جسے ہم نے فتویٰ دیا ہے وہ رُک جائے کیونکہ امیر المؤمنین تمہارے پاس آنے والے ہیں تم انہیں کی پیروی کرنا۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ کہتے ہیں پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا۔ اگر ہم اللہ کی کتاب کو لیں تو اللہ کی کتاب تکمیل (حج و عمرہ) کا حکم دیتی ہے اور اگر ہم رسول اللہﷺ کی سنت کو لیں تو رسول اللہﷺ نے احرام نہیں کھولا یہانتک کہ قربانی اپنے مقام تک پہنچ گئی۔
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپؐ بطحاء میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپؐ نے فرمایا تم نے کون سا احرام باندھا ہے؟ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا میں نے نبی ﷺ کے احرام جیسا احرام باندھا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم کوئی قربانی لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا تم بیت اللہ اور صفا اور مروہ کا طواف کرو پھر احرام کھول دو، چنانچہ میں نے بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا۔ پھر میں اپنے خاندان کی ایک عورت کے پاس آیا۔ اس نے مجھے کنگھی کی اور میرا سر دھویا۔ میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی خلافت کے زمانہ میں اسی کا فتویٰ دیا کرتا تھا۔ ایک دفعہ میں حج کے ایام میں کھڑا تھا کہ میرے پاس ایک شخص آیا اور کہا آپ کو معلوم نہیں کہ امیر المؤمنین نے قربانیوں کے بارہ میں کیا ارشاد فرمایا ہے۔ میں نے کہا اے لوگو! جسے بھی میں نے کوئی فتویٰ دیا تھا وہ رک جائے۔ امیر المؤمنینؓ تمہارے پاس تشریف لانے والے ہیں۔ پس تم ان کی پیروی کرنا۔ پس جب آپؓ آئے، میں نے کہا یا امیر المومنین ! آپؓ نے قربانیوں کے بارہ میں کیا ارشاد فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا اگر ہم اللہ کی کتاب کو لیں۔ اللہ بزرگ و برتر فرماتا ہے تم حج اور عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو اور اگر ہم اپنے نبی علیہ الصلاۃ والسلام کی سنت کو لیں تو نبی ﷺ نے احرام نہیں کھولا یہانتک کہ قربانی ذبح کرلی۔
ایک اور روایت حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں پھر میں آپؐ سے اس سال ملا جس میں آپؐ نے حج کیا تھا۔ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابو موسیٰ! جب تم نے احرام باندھا تھا تو تم نے کیا کہا تھا؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا تھا: لبیک نبی ﷺ کے احرام کی طرح کا احرام۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم قربانی ساتھ لائے ہو؟ میں نے عرض کیا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا تو چلو اور خانہ کعبہ کا طواف کرو اور صفا و مروہ کا بھی۔ پھر احرام کھول دو۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ وہ حج تمتع کا فتویٰ دیتے تھے۔ ان سے ایک شخص نے کہا آپؓ اپنے بعض فتووں میں احتیاط کریں کیونکہ آپؓ وہ نہیں جانتے جو امیر المؤمنینؓ نے قربانی کے بارہ میں بعد میں ارشاد فرمایا ہے۔ پھر وہ بعد میں اُن (امیر المؤمنینؓ) سے ملے اور اُن سے پوچھا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا مجھے پتہ ہے کہ نبیﷺ اور صحابہؓ نے ایسا کیا ہے۔ لیکن میں نے اچھا نہیں سمجھا کہ لوگ پیلو کے درختوں میں ان کے ساتھ رات گزاریں۔ پھر صبح حج پر اس طرح نکلیں کہ ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو۔
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں حضرت عثمانؓ حج تمتع سے روکتے تھے اور حضرت علیؓ ایسے حج کرنے کی اجازت دیتے تھے۔ حضرت عثمانؓ نے حضرت علیؓ کو کوئی بات کہی۔ پھر حضرت علیؓ نے کہا آپ کو علم ہے کہ ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ حج تمتع کیا تھا۔ حضرت عثمانؓ نے کہا ہاں، لیکن ہمیں خوف تھا۔
سعید بن مسیب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت علیؓ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما عُسفان (مقام) میں اکٹھے ہوئے۔ حضرت عثمانؓ حج تمتع یا (حج ہی کے احرام میں) عمرہ سے منع کرتے تھے۔ حضرت علیؓ نے کہا آپ اس بات سے کیا چاہتے ہیں جسے رسول اللہ ﷺ نے کیا اور آپؓ اس سے منع کرتے ہیں حضرت عثمانؓ نے فرمایا آپ ہمیں چھوڑ کر (اس بات کو) رہنے دیں۔ انہوں نے کہا میں آپؓ کو چھوڑ نہیں سکتا۔ پھر جب حضرت علیؓ نے یہ دیکھا تو انہوں نے (حج اور عمرہ) دونوں کا اکٹھے احرام باندھا۔
- رضى الله عنه - بِالرَّبَذَةِ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ إِنَّمَا كَانَتْ لَنَا خَاصَّةً دُونَكُمْ .
عبدالرحمان بن ابی الشعثاء سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں ابراہیم نخعی اور ابراہیم تیمی کے پاس آیا اور میں نے کہا میں ارادہ رکھتا ہوں کہ میں اس سال عمرہ اور حج کو جمع کروں۔ ابراہیم نخعی نے کہا لیکن تمہارے والد تو ایسا ارادہ کرنے والے نہ تھے۔
ابراہیم نخعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس ربذہ (مقام) میں سے گزرے اور ان سے اس کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا یہ تمہیں چھوڑ کر ہمارے لئے خاص تھا۔
- رضى الله عنه - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَنِي إِلَى الْيَمَنِ قَالَ فَوَافَقْتُهُ فِي الْعَامِ الَّذِي حَجَّ فِيهِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
يَا أَبَا مُوسَى كَيْفَ قُلْتَ حِينَ أَحْرَمْتَ
. قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ إِهْلاَلاً كَإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ