بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ ذی الحجہ کی چوتھی یا پانچویں تاریخ کو میرے پاس تشریف لائے اور کچھ ناراض تھے۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ کو کس نے ناراض کیا؟ اللہ اسے آگ میں داخل کرے۔ آپؐ نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے میں نے لوگوں کو ایک بات کا حکم دیا لیکن وہ متذبذب ہیں _(راوی) حکم نے کہا ’’گویا وہ متذبذب ہیں ‘‘_ اگر میں وہ کر سکتا جو میں نے نہیں کیا تو میں بھی اپنے ساتھ قربانی نہ لاتا یہاں تک اسے خریدتا تو میں بھی احرام کھولتا جیسا کہ انہوں نے احرام کھولا ہے۔ ایک دوسری روایت میں (قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ لِاَرْبَعٍ مَضَیْنَ مِنْ ذِی الْحِجِّۃِ أَوْ خَمْسٍ کی بجائے) قَدِمَ النَّبِیُّﷺ لِاَرْبَعٍ أَوْ خَمْسَ مَضَیْنَ مِنْ ذِی الّحِجَّۃِ مِنْ ذِی الْحَصْبَۃِ کے الفاظ ہیں اور اسی طرح راوی حکم نے یَتَرَدَّدُونَ یا کَاَنَّہُمْ یَتَرَدَّدُونَ کے بارہ میں شک کا ذکر نہیں کیا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں کہ انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا اور آئیں لیکن بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا کہ وہ حائضہ ہوگئیں۔ آپؓ نے سب مناسک حج ادا کئے اور حج کے لئے احرام باندھا تھا۔ نبی ﷺ نے انہیں منیٰ سے واپسی پر فرمایا تمہارا طواف تمہارے حج اور تمہارے عمرہ کے لئے کافی ہے۔ آپؓ نے انکار کیا تو آپؐ نے انہیں حضرت عبد الرحمانؓ کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا اور آپؓ (حضرت عائشہؓ) نے حج کے بعد عمرہ کیا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ (مقام) سرف پر حائضہ ہوگئیں اور عرفہ میں پاک ہوگئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا تمہارا صفا اور مروہ کا طواف تمہارے حج اور عمرہ کے لئے کافی ہو جائے گا۔
حضرت صفیہؓ بنت شیبہ کہتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا لوگ دو اجر لے کر لوٹیں گے اور میں ایک اجر لے کر لوٹوں گی! تو آپؐ نے حضرت عبدالرحمانؓ بن ابو بکرؓ کو حکم دیا کہ وہ انہیں تنعیم لے جائیں۔ آپؓ فرماتی احرام باندھا پھر ہم چل پڑے یہاں تک کہ ہم رسول اللہﷺ کے پاس پہنچے اور آپؐ اس وقت حصبہ (مقام) پر تھے۔
حضرت عبد الرحمان بن ابو بکرؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے انہیں ارشاد فرمایا کہ وہ حضرت عائشہؓ کو سواری پر پیچھے بٹھائیں اور تنعیم سے عمرہ کروائیں۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم احرام باندھے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج مفرد کے لئے آئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عمرہ کے لئے آئیں جب ہم سرف مقام پر تھے تو وہ حائضہ ہوگئیں۔ جب ہم (مکہ) آگئے تو ہم نے کعبہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ارشاد فرمایا کہ ہم میں سے جس کے ساتھ قربانی نہیں ہے وہ احرام کھول دے۔ راوی کہتے ہیں ہم نے عرض کیا کون سا احرام؟ آپؐ نے فرمایا پورا احرام۔ پس ہم نے اپنی بیویوں سے تعلق قائم کیا اور ہم نے خوشبو لگائی اور اپنے (معمول کے) کپڑے پہن لئے اور ہمارے اور عرفہ کے درمیان محض چار راتیں تھیں پھر ہم نے یوم الترویہ (آٹھ ذی الحجہ کے دن) احرام باندھا۔ رسول اللہ ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو آپؐ نے انہیں روتے ہوئے پایا۔ آپؐ نے فرمایا تمہیں کیا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا میرا یہ حال ہے کہ میں حائضہ ہوگئی ہوں اور لوگوں نے احرام کھول دیا ہے اور میں نے نہیں کھولا اور نہ ہی میں نے بیت اللہ کا طواف کیا ہے اور لوگ اب حج کے لئے جاتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا یہ تو ایسی چیز ہے جو آدم کی بیٹیوں کے لئے اللہ نے لکھ دی ہے۔ تم غسل کرو اور حج کے لئے احرام باندھو۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور (حج کے دوران) ٹھہرنے والی جگہوں پر قیام کیا اور جب وہ طہر میں آگئیں تو انہوں نے کعبہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا تم اپنے حج اور عمرہ دونوں سے فارغ ہوگئی ہو۔ اس پر وہ کہنے لگیں یا رسولؐ اللہ! میرے دل میں یہ کھٹکتا ہے کہ میں نے (عمرے والا) بیت اللہ کا طواف نہیں کیا یہانتک کہ میں نے حج کرلیا۔ آپؐ نے فرمایا اے عبد الرحمان انہیں ساتھ لے جاؤ اور تنعیم سے عمرہ کروالاؤ اور یہ حصبہ کی رات کا واقعہ ہے۔ ایک اور روایت میں ہے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور آپؓ رو رہی تھیں۔ باقی روایت لیث (راوی) کی روایت کی طرح ہی ہے۔ مگر اس روایت میں لیث کی روایت کے پہلے حصے کا ذکر نہیں ہے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے حج (کے موقعہ پر) عمرہ کا احرام باندھا۔ اس روایت میں مزید یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نرم مزاج تھے جب وہ کسی چیز کی خواہش کرتیں آپؐ اسے پورا کرنے کی کوشش فرماتے۔ پس آپؐ نے ان کے ساتھ حضرت عبد الرحمان بن ابوبکرؓ کو بھیجا تو انہوں نے تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھا۔ (راوی) ابوالزبیر کہتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب حج کرتیں تو و ہی کرتیں جو اللہ کے نبی ﷺ کے ساتھ (رہتے ہوئے) انہوں نے (حج میں) کیا تھا۔
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر نکلے۔ ہمارے ساتھ عورتیں اور بچے بھی تھے۔ جب ہم مکہ پہنچے تو ہم نے بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا کہ ہم میں سے جس کے ساتھ قربانی نہیں ہے وہ احرام کھول دے۔ ہم نے پوچھا کون سا احرام؟ آپؐ نے فرمایا پورا احرام۔ ہم اپنی بیویوں کے پاس آئے اور اپنے (معمول کے) کپڑے پہن لئے اور ہم نے خوشبو لگائی اور جب یوم الترویہ (آٹھ ذی الحجہ کا دن) آگیا تو ہم نے حج کا احرام باندھا اور صفا و مروہ کا پہلا طواف ہمارے لئے کافی ہوا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گائے کی ایک قربانی میں ہم میں سات افراد شامل ہوں۔
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب ہم نے (عمرے کا) احرام کھولا تو نبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ جب ہم مِنٰی کو چلیں تو (حج کے لئے) احرام باندھ لیں۔ راوی کہتے ہیں پھر ہم نے ابطح سے احرام باندھا۔
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہؓ نے صفا اور مروہ کے درمیان ایک ہی طواف کیا تھا۔ محمد بن بکر کی روایت میں طَوَافُہُ الْاَوَّلُ (آپ کا پہلا طواف) کے الفاظ زائد ہیں۔
عطاء کہتے ہیں میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کئی لوگوں کی معیت میں سنا وہ کہتے تھے کہ ہم محمد ﷺ کے صحابہؓ نے خالصۃً اکیلے حج کے لئے احرام باندھا۔ عطاء کہتے ہیں حضرت جابرؓ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ ذوالحجہ کی چار تاریخ کو صبح تشریف لائے اور ہمیں ارشاد فرمایا کہ ہم احرام کھول دیں۔ عطاء کہتے ہیں آپؐ نے فرمایا تم احرام کھول کر اپنی بیویوں کے پاس جا سکتے ہو۔ عطاء کہتے ہیں آپؐ نے ان پر یہ لازم نہیں فرمایا تھا بلکہ ان کے لئے انہیں جائز قرار دیا تھا۔ ہم نے کہا اب جبکہ ہمارے (احرام کھولنے) اور عرفہ کے (دن دوبارہ احرام باندھنے) کے درمیان پانچ دن ہیں۔ آپؐ نے ہمیں ارشاد فرمایا ہے کہ ہم اپنی بیویوں کے پاس جا سکتے ہیں گویا ہم عرفہ میں اس حال میں جائیں گے کہ ہمارے منی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں حضرت جابرؓ اپنے ہاتھ کے اشارہ سے یہ بات بیان کر رہے تھے گویا میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے ہاتھ کو ہلا رہے ہیں۔ پھر نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا تم جانتے ہو کہ میں تم سب میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ سچّا ہوں اور تم سب سے زیادہ نیک ہوں اور اگر میری قربانی ساتھ نہ ہوتی تو میں ضرور احرام کھول دیتا جس طرح کہ تم نے احرام کھولا ہے۔ اگر میں وہ کر سکتا جو میں نے نہیں کیا تو میں بھی اپنی قربانی نہ لاتا۔ پس تم احرام کھول دو۔ تو ہم نے احرام کھول دیا اور ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ عطاء کہتے ہیں حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ اپنی عملداری (یمن) سے آئے۔ آپؐ نے فرمایا تم نے کیا احرام باندھا ہے؟ انہوں نے کہا جو نبی ﷺ نے (احرام) باندھا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا قربانی کرو اور احرام باندھے رکھو۔ راوی کہتے ہیں اور آپؐ کی خدمت میں حضرت علیؓ نے ایک قربانی پیش کی تھی۔ سراقہ بن مالک بن جعشم نے کہا یا رسولؐ اللہ! کیا یہ ہمارے اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے۔ آپؐ نے فرمایا ہمیشہ کے لئے۔