بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
حضرت حفصہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں میں نے نبیﷺ سے عرض کیا کیا بات ہے لوگوں نے احرام کھول دیا ہے اور آپؐ نے اپنے عمرہ کا احرام نہیں کھولا؟ آپؐ نے فرمایا میں نے اپنی قربانی کو گانی پہنا دی اور اپنے سر کے بالوں کو جما لیا تھا۔ پس میں احرام نہیں کھولوں گا یہانتک کہ حج (سے فارغ ہوکر اس) کا احرام نہ کھولوں۔ ایک اور روایت میں (قُلْتُ لِلْنَّبِیِّﷺ کی بجائے) یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کے الفاظ ہیں اور اسی طرح (فَلَا أَحِلُّ حَتّٰی أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ کی بجائے) فَلَا أَحِلُّ حَتّٰی أَنْحَرَ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے اپنی ازواجِ مطہرات کو حجۃ الوداع کے سال فرمایا کہ وہ احرام کھول دیں۔ حضرت حفصہؓ کہتی ہیں میں نے عرض کیا آپؐ کے احرام کھولنے میں کیا روک ہے؟ آپؐ نے فرمایا میں نے اپنے سر کے بالوں کو جما لیا تھا اور اپنی قربانی کو گانی پہنا دی تھی اس لئے میں (اس وقت تک) احرام نہیں کھولوں گا یہاں تک کہ اپنی قربانی کے جانور کو ذبح کر لوں۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فتنہ کے زمانہ میں عمرہ کرنے کے لئے نکلے اور کہا اگر میں بیت اللہ سے روک دیا گیا تو ہم وہی کریں گے جو ہم نے رسول اللہﷺ کی معیّت میں کیا تھا۔ پھر وہ (حضرت عبداللہ بن عمرؓ) نکلے اور عمرہ کا احرام باندھا اور چلتے رہے یہاں تک کہ جب بیداء پہنچے تو اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا (روک دئیے جانے کی صورت میں) ان دونوں (حج و عمرہ) کا معاملہ ایک ہی ہے۔ میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے حج کو عمرہ کے ساتھ (اپنے اوپر) واجب کیا۔ پھر وہ نکلے یہاں تک کہ جب بیت اللہ کے پاس آئے تو اس کے سات چکر لگائے اور صفا اور مروہ کے درمیان بھی سات۔ اس سے زیادہ نہیں کیا اور ان کا خیال تھا کہ یہی ان کے لئے کافی ہے اور انہوں نے قربانی کی۔
نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ دونوں نے حضرت عبداللہؓ (بن عمرؓ) سے بات کی۔ جب حَجاج نے ابن زبیرؓ سے جنگ کرنے کے لئے پڑاؤ کیا۔ ان دونوں نے (حضرت ابن عمرؓ سے) کہا اگر آپؓ اس سال حج نہ کریں تو کوئی حرج نہیں کیونکہ ہم ڈرتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان جنگ ہوگی اور آپؓ کے اور بیت اللہ کے درمیان روک ڈال دی جائے گی۔ انہوں نے کہا اگر میرے اور اس (بیت اللہ) کے درمیان روک ڈالی گئی تو میں ویسا ہی کروں گا جیسا رسول اللہﷺ نے کیا تھا اور میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھا جب کفار قریش آپؐ کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے تھے۔ میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے (اپنے اوپر) عمرہ واجب کر لیا ہے۔ پھر وہ چل پڑے یہان تک کہ ذوالحلیفہ پہنچے اور انہوں نے عمرہ کے لئے (احرام باندھ کر) تلبیہ کہنا شروع کیا پھر کہا اگر میرے لئے راستہ کھلا رہنے دیا گیا تو میں عمرہ کروں گا اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان روک پیدا کی گئی تو میں ویسا ہی کروں گا جیسے رسول اللہﷺ نے کیا جبکہ میں آپؐ کے ساتھ تھا۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ۔۔۔ یقینا تمہارے لئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے (احزاب: 22) پھر آپؓ چلتے رہے یہان تک کہ بیداء پر پہنچے تو کہا ان دونوں حج و عمرہ کی ایک ہی بات ہے۔ اگر میرے اور عمرہ کے درمیان کوئی روک حائل ہوئی تو میرے اور حج کے درمیان بھی حائل ہو گی۔ میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر حج کو عمرہ کے ساتھ واجب کیا ہے۔ پھر آپؓ چلے یہان تک کہ آپؓ نے قدید مقام سے قربانی خریدی۔ پھر انہوں نے حج و عمرہ ان دونوں کے لئے بیت اللہ کا ایک ہی طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی۔ پھر ان دونوں کا احرام نہ کھولا یہان تک کہ انہوں نے قربانی کے دن حج کی تکمیل کے بعد ان دونوں کا احرام کھول دیا۔ ایک اور روایت میں ہے حضرت ابن عمرؓ نے اس سال حج کا ارادہ کیا جب حجاج نے حضرت ابن زبیرؓ (سے جنگ) کے لئے پڑاؤ کیا۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہی ہے مگر اس روایت کے آخر میں یہ ہے کہ وہ (حضرت ابن عمرؓ) کہا کرتے تھے جو حج اور عمرہ جمع کرے اس کے لئے ایک ہی طواف کافی ہے اور وہ احرام نہ کھولے گا یہان تک کہ ان دونوں کا اکٹھا احرام کھولے۔
نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمرؓ نے اس سال حج کا ارادہ کیا جس سال حجاج نے حضرت ابن زبیرؓ (سے جنگ) کے لئے ڈیرے ڈالے۔ ان سے کہا گیا کہ لوگوں کے درمیان لڑائی ہونے والی ہے اور ہمیں ڈر ہے کہ لوگ آپؓ کو روک دیں گے۔ انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ۔۔۔ یقینا تمہارے لئے اللہ کے رسولؐ میں نیک نمونہ ہے (احزاب: 22) (اور کہا) میں ویسا ہی کروں گا جیسے رسول اللہﷺ نے کیا تھا۔ میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے (اپنے اوپر) عمرہ واجب کر لیا ہے۔ پھر آپؓ باہر نکلے یہانتک کہ بیداء کے میدان میں پہنچے اور کہا حج اور عمرہ کی ایک ہی بات ہے۔ آپؓ نے کہا گواہ رہنا میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج واجب کر لیا ہے {راوی ابن رُمح کی روایت میں اِشْہَدُوا کی بجائے أُشْہِدُکُمْ کے الفاظ ہیں }اور وہ ان دونوں (حج اور عمرہ) کا تلبیہ کہتے ہوئے چلے۔ اور وہ قربانی جو قدید سے خریدی تھی ساتھ لے گئے یہانتک کہ مکہ آئے اور بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا اور اس سے زیادہ نہیں کیا اور قربانی نہیں کی اور سر نہیں منڈوایا اور نہ بال کٹوائے اور نہ ہی کوئی چیز آپ کے لئے حلال ہوئی جو آپ کے لئے حرام ہوئی تھی یہانتک کہ قربانی کا دن آگیا۔ آپؓ نے قربانی کی اور سر منڈوایا اور ان کی رائے یہ تھی کہ انہوں نے پہلے طواف کی صورت میں ہی حج اور عمرہ کے طواف کی ادائیگی کرلی تھی۔ اور حضرت ابن عمرؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے ایسے ہی کیا تھا۔ ایک اور روایت میں (یَصُدُّوْکَ کی بجائے) یَصُدُّوْکَ عَنِ الْبَیْتِ اور (اَصْنَعُ کَمَا صَنَعَ کی بجائے) اِذَنْ اَفْعَلُ کَمَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ کے الفاظ ہیں جبکہ روایت کے آخر میں ہَکَذَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ کے الفاظ نہیں ہیں۔
یحیٰ کی روایت میں ہے کہ حضرت ابن عمرؓ نے کہا ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ حج مفرد کا احرام باندھا۔ اور ابن عون کی روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے حج مفرد کا احرام باندھا۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے نبیﷺ کو حج اور عمرہ کے لئے اکٹھے (احرام باندھے) تلبیہ کہتے ہوئے سنا۔ بکر کہتے ہیں میں نے یہ بات حضرت ابن عمرؓ کے پاس بیان کی تو انہوں نے کہا آپؐ نے صرف حج کا (احرام باندھ کر) تلبیہ کہا تھا۔ پھر میں حضرت انسؓ سے ملا اور انہیں حضرت ابن عمرؓ کی بات بتائی تو حضرت انسؓ نے کہا تم ہمیں محض بچے ہی سمجھتے ہو۔ میں نے خود رسول اللہﷺ کو عمرہ اور حج (دونوں کے احرام) کے ساتھ لبیک کہتے سنا ہے۔
حضرت انسؓ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبیﷺ کو حج اور عمرہ کو جمع کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ (راوی بکر) کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمرؓ سے پوچھا انہوں نے کہا ہم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا پھر میں حضرت انسؓ کے پاس واپس گیا اور جو حضرت ابن عمرؓ نے کہا تھا انہیں بتایا وہ کہنے لگے گویا ہم تو بچے ہی تھے!
وبرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ان کے پاس ایک شخص آیا۔ اس نے کہا کیا میرے لئے درست ہے کہ میں (موقف میں) آنے سے پہلے بیت اللہ کا طواف کروں؟ انہوں نے کہا ہاں۔ اس پر وہ کہنے لگا حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں تم بیت اللہ کا طواف نہ کرو یہاں تک کہ تم موقف میں پہنچو۔ اس پر حضرت ابن عمرؓ نے کہا رسول اللہﷺ نے حج کیا تو موقف آنے سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا۔ پس رسول اللہﷺ زیادہ حق دار ہیں کہ تم ان کی بات پر عمل کرو یا حضرت ابن عباسؓ کی بات، اگر تم درست کہہ رہے ہو۔
وبرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک شخص نے حضرت ابن عمرؓ سے پوچھا کیا میں بیت اللہ کا طواف کروں جبکہ میں نے حج کا احرام باندھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا تمہیں کون سی چیز منع کرتی ہے۔ وہ کہنے لگا میں نے فلاں کے بیٹے کو دیکھا ہے وہ اسے ناپسند کرتا ہے اور آپ ہمیں اس سے زیادہ عزیز ہیں۔ ہم نے اسے دیکھا کہ دنیا نے اسے آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ وہ کہنے لگے ہم میں سے کون ہے یا تم میں سے کون ہے جسے دنیا نے آزمائش میں نہیں ڈالا۔ پھر کہا ہم نے رسول اللہﷺ کو دیکھا۔ آپؐ نے حج کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی۔ پس اللہ اور اس کے رسولﷺ کی سنت زیادہ حق رکھتی ہے کہ تم فلاں کی بات کی نسبت اس کی پیروی کرو اگر تم سچ کہہ رہے ہو۔