بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
غُنَیم بن قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے حج تمتع کے بارہ میں پوچھا۔ انہوں نے کہا ہم نے یہ (حج تمتع) کیا تھا اور یہ (معاویہ بن ابو سفیان) ان دنوں عرش یعنی مکہ کے گھروں کے پاس غیر مسلم تھا۔ سفیان کی روایت میں (اَلْمُتْعَۃُ کی بجائے) اَلْمُتْعَۃُ فِی الْحَجِِّّ کے الفاظ ہیں۔
مطرّف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے حضرت عمران بن حُصینؓ نے کہا آج میں تمہیں ایک بات بتانے لگا ہوں کسی وقت اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے ذریعہ سے فائدہ دے گا۔ جان لو کہ رسول اللہﷺ نے اپنے گھر والوں میں سے ایک گروہ کو (ذوالحجہ کے پہلے) دس دن میں عمرہ کروایا پھر اُسے منسوخ کرنے کی کوئی آیت بھی نازل نہ ہوئی اور آپؐ نے بھی اس سے منع نہیں فرمایا یہانتک کہ آپؐ نے وفات پائی۔ بعد میں ہر شخص نے جو چاہا رائے قائم کرلی۔ حاتم کی روایت میں (ارْتَأَی کُلُّ امْرِیٍٔ بَعْدُ مَا شَائَ أَنْ یَرْتَئِیَ کی بجائے) ارْتَأَی رَجُلٌ بَرَأْیِہِ مَا شَائَ یَعْنِی عُمَر کے الفاظ ہیں یعنی ایک شخص نے جو چاہا رائے قائم کرلی۔ ان کی مراد حضرت عمرؓ سے تھی۔
مطرّف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے حضرت عمران بن حُصینؓ نے کہا میں تمہارے پاس ایک بات بیان کرتا ہوں بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے ذریعہ فائدہ دے۔ یقینا رسول اللہﷺ نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا۔ پھر اس سے روکا نہیں یہانتک کہ آپؐ فوت ہو گئے اور اس بارہ میں قرآن بھی نہیں اترا جو اس (حج تمتع) سے منع کرتا اور مجھے سلام کیا جاتا تھا یہانتک کہ میں نے داغ لگوایا تو مجھے (سلام کیا جانا) چھوڑ دیا گیا پھر میں نے داغ لگوانا چھوڑ دیا تو پھر (سلام ہونا) دوبارہ شروع ہو گیا۔
مطرّف سے روایت ہے وہ کہتے تھے حضرت عمران بن حُصینؓ نے اپنی اس بیماری میں جس میں وہ فوت ہوئے مجھے بلا بھیجا اور کہا میں آپ کو کچھ باتیں بتاتا ہوں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے ذریعہ میرے بعد فائدہ پہنچائے گا۔ اگر میں زندہ رہا تو میرے بارہ میں یہ بات مخفی رکھنا اور اگر میں فوت ہو جاؤں تو پھر اگر چاہو تو ان کو بیان کردینا۔ مجھ پر سلام کیا جاتا تھا اور جان لو کہ اللہ کے نبیﷺ نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا۔ (اور اس کے بعد) اس بارہ میں اللہ کی کتاب (کا کوئی نیا حکم) نہیں اترا اور نہ اللہ کے نبیﷺ نے اس سے منع فرمایا۔ ایک شخص نے اس بارہ میں اپنی رائے سے جو چاہا کہا۔
حضرت عمران بن حُصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جان لو کہ رسول اللہ ﷺ نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا۔ (اس کے بعد) اس بارہ میں (کوئی نیا) حکم نہیں اترا۔ اور نہ ہی ان دونوں (حج اور عمرہ جمع کرنے یعنی حج تمتع) سے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں منع فرمایا۔ اس بارہ میں ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہا۔
حضرت عمران بن حُصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج تمتع کیا۔ اس بارہ میں قرآن میں (ممانعت کا کوئی حکم) نازل نہیں ہوا۔ ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔ حضرت عمران بن حُصین رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت میں ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے حج تمتع کیا اور ہم نے بھی آپؐ کے ساتھ حج تمتع کیا۔
حضرت عمران بن حصینؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی کتاب میں متعہ کی آیت _ ان کی مراد حجِ تمتع کی آیت سے تھی _ اتری اور رسول اللہﷺ نے ہمیں اس کا حکم دیا۔ پھر کوئی آیت ایسی نازل نہیں ہوئی جو حج تمتع کی آیت کو منسوخ کرتی اور نہ ہی رسول اللہﷺ نے اس سے منع فرمایا یہانتک کہ آپؐ فوت ہوگئے۔ بعد میں ایک شخص نے جو چاہا اپنی رائے سے کہا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ہم نے رسول اللہﷺ کی معیّت میں یہ (حج تمتع) کیا تھا۔ اس روایت میں راوی نے ’’أَمَرَنَا بِہَا‘‘ کے الفاظ بیان نہیں کئے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر ادا کیا اور قربانی کی۔ آپؐ نے ذوالحلیفہ سے قربانی ساتھ لی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے شروع میں عمرہ کا احرام باندھا پھر اُسے حج کا احرام (بھی) قرار دیا اور لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عمرہ کو حج سے ملا نے کا فائدہ اٹھایا۔ لوگوں میں سے کچھ ایسے تھے جنہوں نے قربانی کی اور وہ قربانی ساتھ لائے تھے اور ان میں سے وہ بھی تھے جو قربانی نہیں لائے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ مکہ تشریف لائے۔ آپؐ نے لوگوں سے فرمایا تم میں سے جس کے پاس قربانی کا جانور ہے اس کے لئے کوئی چیز جائز نہیں جو اس پر حرام ہوئی تھی یہانتک کہ وہ اپنا حج پورا کر لے اور جس کے ساتھ قربانی نہیں وہ بیت اللہ اور صفا اور مروہ کا طواف کرے اور بال کٹوائے اور احرام کھول دے۔ پھر حج کا احرام باندھے اور قربانی کرے اور جسے قربانی کی توفیق نہیں وہ تین دن کے روزے حج کے دوران میں رکھے اور سات جب وہ واپس اپنے اہل کے پاس جائے اور رسول اللہ ﷺ جب مکہ آئے تو طواف کیا۔ آپؐ نے سب سے پہلے یہ کام کیا کہ رکن (حجر اسود) کو بوسہ دیا۔ پھر آپؐ نے سات چکروں میں سے تین تیز رفتار سے اور چار عام رفتار کے ساتھ چکر لگائے پھر بیت اللہ کا طواف مکمل کر لیا تو مقام (ابراہیم) کے پاس دو رکعت نماز ادا کی پھر سلام پھیرا اور تشریف لے گئے اور صفا پر آئے۔ صفا اور مروہ کے سات چکر لگائے۔ پھر کوئی چیز حلال نہیں ہوئی جو احرام کی وجہ سے حرام ہوئی تھی یہانتک کہ آپؐ نے اپنا حج مکمل کیا اور اپنی قربانی کو قربانی کے دن ذبح کیا اور واپس تشریف لے گئے اور بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر ہر ایک چیز جو آپؐ پر حرام ہوئی تھی حلال ہو گئی اور لوگوں میں سے جنہوں نے قربانی کی اور وہ قربانی کا جانور ساتھ لائے تھے انہوں نے اسی طرح کیا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا۔
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ نے انہیں رسول اللہ ﷺ کے حج کو عمرہ کے ساتھ ملا کر ادا کرنے کے متعلق بتایا۔ نیز آپ کے ساتھ (کچھ) دوسرے لوگوں کے تمتع کرنے کا بھی۔
حضرت عبداللہؓ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت حفصہؓ نے کہا کہ یا رسولؐ اللہ! کیا بات ہے کہ لوگوں نے احرام کھول دئیے ہیں اور آپؐ نے اپنے عمرہ کے بعد احرام نہیں کھولا؟ آپؐ نے فرمایا میں نے سر کے بالوں کو جما لیا تھا اور قربانی کو قلادہ پہنا دیا۔ پس میں احرام نہیں کھولوں گا یہان تک کہ قربانی کرلوں۔ ایک اور روایت میں (لَمْ تَحْلِلْ کے بجائے) مَالَکَ لَمْ تَحِلَّ کے الفاظ ہیں۔