بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
عمرو بن دینار سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم نے حضرت ابن عمرؓ سے اس شخص کے بارہ میں پوچھا جو عمرہ کے لئے آئے اور بیت اللہ کا طواف کرے اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرے۔ کیا وہ اپنی بیوی کے پاس آ سکتا ہے؟ وہ کہنے لگے کہ رسول اللہﷺ مکہ تشریف لائے اور آپؐ نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے۔ اور مقام (ابراہیم) کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی اور صفا مروہ کے درمیان سات چکر لگائے اور یقینا تمہارے لئے اللہ کے رسولؐ میں بہترین نمونہ ہے۔
محمد بن عبدالرحمان سے روایت ہے اہلِ عراق میں سے ایک شخص نے انہیں کہا میری خاطر عروہ بن زبیر سے اس شخص کے بارہ میں پوچھئے جو حج کا احرام باندھتا ہے کہ جب وہ بیت اللہ کا طواف کرلے تو کیا وہ احرام کھول دے یا نہیں؟ اگر وہ تمہیں کہیں کہ احرام نہ کھولے تو تم اسے کہنا ایک شخص ایسا کہتا ہے (کہ احرام کھولے)۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا تو وہ کہنے لگے جس شخص نے حج کا احرام باندھا ہے وہ احرام نہ کھولے سوائے اس کے کہ اس نے حج کر لیا ہو۔ میں نے کہا ایک شخص تو یہ کہا کرتے تھے کہ (کہ وہ احرام کھول دے) انہوں نے کہا اس نے بہت ہی بری بات کی ہے۔ پھر وہ (سائل) شخص مجھے ملا۔ اس نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اس کو بتا دیا۔ اس نے کہا تم ان سے کہو کہ ایک شخص یہ روایت کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا کیا تھا۔ اور کیا بات تھی کہ اسماءؓ اور زبیرؓ نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں میں ان (عروہ بن زبیر) کے پاس آیا اور ان سے یہ ذکر کیا۔ تو وہ کہنے لگے یہ (سائل) کون شخص ہے؟ میں نے کہا میں نہیں جانتا۔ وہ کہنے لگے اسے کیا ہوا ہے کہ وہ خود میرے پاس سوال کرنے نہیں آتا۔ میرا خیال ہے وہ کوئی عراقی ہے۔ میں نے کہا میں تو نہیں جانتا۔ وہ کہنے لگے یقینا وہ غلط کہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حج کیا تھا اور حضرت عائشہؓ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ جب آپؐ مکہ تشریف لائے تو جس چیز سے آپؐ نے ابتداء کی یہ تھی کہ آپؐ نے وضوء کیا۔ پھر بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر حضرت ابو بکرؓ نے (اپنے زمانہ خلافت میں) حج کیا تو سب سے پہلے آپؓ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوا۔ پھر حضرت عمرؓ نے بھی اس طرح کیا۔ پھر حضرت عثمانؓ نے حج کیا۔ میں نے دیکھا کہ انہوں نے سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا پھر اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوا پھر امیر معاویہؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بھی ایسا ہی کیا۔ پھر میں نے اپنے والد زبیرؓ بن العوام کے ساتھ حج کیا تو سب سے پہلا کام جو انہوں نے کیا بیت اللہ کا طواف تھا اور اس کے سوا کچھ نہیں ہوا اور پھر میں نے مہاجرینؓ اور انصارؓ کو اسی طرح کرتے دیکھا۔ پھر اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوا اور سب سے آخر میں میں نے جسے یہ کرتے دیکھا وہ حضرت ابن عمرؓ تھے۔ انہوں نے عمرہ سے اس کو ختم نہیں کیا۔ حضرت ابن عمرؓ اُن کے پاس موجود ہیں۔ وہ کیوں ان سے پوچھتے نہیں اور نہ ہی ان میں سے کسی کو جو پہلے گزر چکے ہیں کہ وہ جب اپنے قدم (مکہ میں) رکھتے تھے تو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے کچھ نہ کرتے تھے۔ وہ (احرام) نہیں کھولتے تھے میں نے اپنی ماں اور خالہ کو بھی دیکھا ہے کہ جب وہ مکہ آئیں تھیں تو وہ دونوں بیت اللہ کے طواف کے علاوہ کسی چیز سے شروع نہیں کرتی تھیں اور طواف کے بعد احرام نہیں کھولتی تھیں اور مجھے میری والدہ نے بتایا کہ وہ اور ان کی بہن اور حضرت زبیرؓ اور فلاں اور فلاں صرف عمرہ کے ارادہ سے آئے۔ پھر جب انہوں نے (طواف کے بعد) رکن یمانی کو چھوا تو احرام کھول دیا اور اس نے جو بھی اس بارہ میں کہا ہے غلط کہا ہے۔
حضرت اسماءؓ بنت ابی بکرؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں ہم احرام باندھ کر نکلے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا جس کے ساتھ قربانی ہو وہ اپنا احرام باندھے رکھے اور جس کے ساتھ قربانی نہیں وہ احرام کھول دے۔ حضرت زبیرؓ کے ساتھ قربانی تھی انہوں نے احرام نہ کھولا۔ میرے پاس قربانی نہیں تھی اس لئے میں نے احرام کھول دیا۔ میں نے اپنے کپڑے پہنے، پھر میں نکلی اور (اپنے شوہر) حضرت زبیرؓ کے ساتھ بیٹھ گئی۔ انہوں نے کہا میرے پاس سے اُٹھ جاؤ۔ میں نے کہا کیا تم ڈرتے ہو کہ میں تم پر کود پڑوں گی۔ ایک اور روایت میں حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ سے مروی ہے وہ کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر آئے۔۔۔ باقی روایت ابن جریج کی روایت کے مطابق ہے سوائے اس کے کہ اس میں (قُوْمِیْ عَنِّی کی بجائے) اِسْتَرْخِیْ عَنِّیْ اِسْتَرْخِیْ عَنِّیْ کے الفاظ ہیں یعنی مجھ سے دو ر ہو جاؤ۔ مجھ سے دو ر ہو جاؤ۔
ابوالاسود سے روایت ہے کہ حضرت اسماء بنت ابو بکرؓ کے آزاد کردہ غلام عبداللہ نے انہیں بتایا کہ وہ حضرت اسماءؓ سے سنا کرتے تھے کہ جب کبھی وہ حَجُون سے گزرتیں تو وہ کہتیں صَلَی اللّٰہُ عَلَی رَسُوْلِہِ وَسَلَّمَ اللہ اپنے رسولؐ پر رحمتیں اور سلام بھیجے۔ ہم آپؐ کے ساتھ یہاں اترے۔ اس دن ہمارے سامان ہلکے تھے۔ سواریاں تھوڑی تھیں اور زادِ راہ کم تھا۔ پس میں اور میری بہن حضرت عائشہؓ حضرت زبیرؓ اور فلاں اور فلاں نے عمرہ کیا۔ جب ہم نے بیت اللہ کا طواف کر لیا تو ہم نے احرام کھول دیا۔ پھر ہم نے سہ پہر کو حج کا احرام باندھا۔ ہارون کی روایت میں حضرت اسماءؓ کے آزاد کردہ غلام کا ذکر ہے مگر اس کے نام ’’عبداللہ‘‘ کا ذکر نہیں۔
مُسْلِم قُرِّی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حج تمتع کے بارہ میں پوچھا تو انہوں نے اس کی اجازت دی جبکہ حضرت ابن زبیرؓ اس سے منع کرتے تھے۔ انہوں نے کہا یہ حضرت ابن زبیرؓ کی والدہ موجود ہیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اس کی اجازت دی تھی۔ تم ان کے پاس جاکر خود ان سے پوچھ لو۔ راوی کہتے ہیں ہم ان کے پاس گئے تو کیا دیکھا کہ وہ بھاری بھرکم نابینا خاتون ہیں۔ وہ کہنے لگیں رسول اللہﷺ نے اس کی اجازت دی تھی۔ ایک اور روایت شعبہ سے اسی طرح مروی ہے مگر (راوی) عبدالرحمٰن کی روایت میں ’’اَلْمُتْعَۃُ‘‘ کا لفظ تو ہے مگر اس میں ’’مُتْعَۃُ الْحَج‘‘ کے الفاظ نہیں جبکہ (راوی) ابن جعفر کہتے ہیں کہ مسلم (ِقُرِّی) نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم اس سے مراد ’’مُتْعَۃُ الْحَج‘‘ ہے یا ’’مُتْعَۃُ النِّسَاء‘‘ ہے۔
مُسْلِم قُرِّی بیان کرتے ہیں انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ نبیﷺ نے عمرہ کا احرام باندھا اور آپؐ کے صحابہ نے حج کا۔ پھر نہ تو نبیﷺ نے احرام کھولا اور نہ ہی آپؐ کے صحابہ میں سے انہوں نے جو قربانی لائے تھے (احرام کھولا)۔ ان کے علاوہ باقی سب نے احرام کھول دیا۔ طلحہ بن عبید اللہ ان لوگوں میں سے تھے جو قربانی ساتھ لائے تھے انہوں نے بھی احرام نہیں کھولا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ان میں سے جن کے پاس قربانی نہیں تھی (وہ) طلحہ بن عبید اللہ اور ایک دوسرا شخص تھا۔ پس ان دونوں نے احرام کھول دیا۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں (کچھ لوگ) حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو زمین پر سب سے بڑا گناہ سمجھتے تھے اور وہ مُحرّم کو صَفر قرار دیتے تھے اور کہتے جب اونٹ کی زخمی پیٹھ ٹھیک ہو جائے اور نشان مٹ جائے اور صَفر (کا مہینہ) گزر جائے تو عمرہ اس شخص کے لئے جو عمرہ کرنا چاہے جائز ہو گیا۔ نبیﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ چار ذوالحجہ کی صبح کو احرام باندھے ہوئے حج کے لئے آئے۔ آپؐ نے انہیں ارشاد فرمایا کہ وہ اسے عمرہ بنائیں۔ تو یہ بات انہیں بہت بوجھل معلوم ہوئی۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! کون سا احرام کھولیں۔ آپؐ نے فرمایا مکمل احرام۔
ابو العالیہ البراء سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباسؓ کو کہتے سنا رسول اللہﷺ نے حج کا احرام باندھا۔ ذی الحجہ کی چار تاریخیں گزرنے پر آپؐ تشریف لائے اور صبح کی نماز ادا کی اور جب آپؐ نے صبح کی نماز پڑھ لی تو فرمایا کہ جو شخص اسے عمرہ بنانا چاہے تو وہ اسے عمرہ بنا لے۔ ابو شہاب کی روایت میں (أَھَلَّ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ بِالْحَجِّ کی بجائے) خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ نُھِلُّ بِالْحَجِّ کے الفاظ ہیں اسی طرح (فَصَلَّی الصُّبْحَ کی بجائے) باقی سب راویوں کی روایت میں فَصَلَّی الصُّبْحَ بِالْبَطْحَائِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں نبی ﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ (ذی الحجہ کے پہلے) عشرہ میں سے چار دن گزرنے پر تشریف لائے اور وہ حج کا تلبیہ کہہ رہے تھے۔ آپؐ نے انہیں ارشاد فرمایا کہ وہ اس کو عمرہ بنا لیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز ذی طوی (مقام) میں ادا کی اور آپؐ تشریف لائے اور ذی الحجہ کی چار راتیں گزر گئی تھیں اور آپؐ نے اپنے صحابہؓ کو ارشاد فرمایا کہ وہ اپنے احرام عمرہ (کے احرام) سے بدل دیں سوائے اس کے جس کے پاس قربانی ہے۔