بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں میں رسول اللہﷺ کے قربانی کے جانوروں کی گانیاں اپنے اِن دو ہاتھوں سے بٹا کرتی تھی پھر رسول اللہﷺ کسی چیز سے (جو محرم کے لئے ممنوع ہے) علیحدہ ہوتے اور نہ اسے چھوڑتے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں میں نے رسول اللہﷺ کی قربانی کے اونٹوں کی گانیاں اپنے دونوں ہاتھوں سے بٹیں۔ پھر آپؐ نے انہیں نشان لگائے اور وہ گانیاں انہیں پہنائیں اور انہیں بیت اللہ کی طرف بھیجا اور خود مدینہ میں قیام فرمایا۔ پھر آپؐ پر کوئی چیز جو آپؐ کے لئے جائز تھی وہ آپؐ پر حرام نہ ہوئی۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں رسول اللہﷺ قربانیاں (بیت اللہ) کو بھیجتے اور میں ان کی گانیاں اپنے دونوں ہاتھوں سے بٹا کرتی تھی۔ پھر آپؐ کسی چیز سے بھی نہیں رکتے تھے جس سے کوئی غیر مُحرِم نہیں رکتا۔
اُمّ المؤمنین (حضرت عائشہؓ) سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں میں نے اس پشم سے جو ہمارے پاس تھی خود وہ گانیاں بٹیں۔ پھر رسول اللہﷺ ہمارے درمیان ویسے ہی بغیر احرام رہے اور آپؐ اپنے اہل کے پاس اس طرح آتے تھے یا کہا ویسے آتے جس طرح وہ شخص آتا ہے جس نے احرام نہ باندھا ہو۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں میں اپنے آپ کو دیکھتی ہوں کہ میں رسول اللہﷺ کی بھیڑ بکریوں میں سے قربانیوں کی گانیاں بٹ رہی ہوں۔ پھر وہ (قربانیاں) بھیج دی جاتی تھیں اور آپؐ ہم میں غیر مُحْرِم ہونے کی حالت میں رہتے تھے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں کئی دفعہ میں نے رسول اللہﷺ کی قربانیوں کی گانیاں بٹیں۔ اور آپؐ اپنی قربانیوں کو وہ پہناتے تھے اور خود (مدینہ) ٹھہرے رہتے اور اُن کو بھیج دیتے تھے اور آپؐ کسی چیز سے اجتناب نہ کرتے جس سے مُحرِم اجتناب کرتا ہے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں ایک دفعہ رسول اللہﷺ نے بکریاں بطور قربانی بیت اللہ بھیجیں اور انہیں گانیاں پہنائیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں ہم بکریوں کو گانیاں پہناتے تھے اور ان کو (بیت اللہ) بھجوا دیتے تھے اور رسول اللہﷺ بغیر احرام کے رہتے تھے اور آپؐ پر کوئی بھی چیز حرام نہ ہوتی تھی۔
عَمرہ بنت عبدالرحمان بیان کرتی ہیں کہ ابن زیاد نے حضرت عائشہؓ کی خدمت میں لکھا کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں جس شخص نے قربانی بھیج دی اس پر وہ (سب کچھ) حرام ہو جاتا ہے جو حج کرنے والے پر حرام ہوتا ہے یہاں تک کہ قربانی ذبح کی جائے۔ میں نے اپنی قربانی بھیج دی ہے۔ آپؓ مجھے اپنا ارشاد تحریر کیجئے۔ عمرہ کہتی ہیں حضرت عائشہؓ نے فرمایا بات وہ نہیں جو ابن عباسؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کی قربانیوں کی گانیاں اپنے دونوں ہاتھوں سے بٹیں۔ پھر رسول اللہﷺ نے انہیں وہ گانیاں اپنے ہاتھ سے پہنائیں اور انہیں میرے باپ کے ساتھ بھجوایا۔ پھر کوئی چیز رسول اللہﷺ پر قربانی کے ذبح تک بھی حرام نہ ہوئی جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے لئے حلال کی تھی۔
مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہؓ کو سنا۔ آپؓ پردے کے پیچھے سے دستک دیتے ہوئے فرما رہی تھیں میں رسول اللہﷺ کی قربانیوں کی گانیاں اپنے دونوں ہاتھوں سے بٹا کرتی تھی پھر آپؐ انہیں بھجوا دیتے تھے اور آپؐ کسی چیز سے نہ رکتے تھے جن سے مُحرِم اپنی قربانی کے ذبح ہونے تک رکتا ہے۔