بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو ایک قربانی کا اونٹ ہانک رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا اس پر سوار ہو جاؤ۔ اس نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ آپؐ نے فرمایا اس پر سوار ہو جاؤ، دوسری یا تیسری دفعہ فرمایا اللہ تیرا بھلا کرے، سوار ہو جاؤ۔ ایک اور روایت میں (رَجُلًا یَسُوْقُ بَدَنَۃً کی بجائے) بَیْنَمَا رَجُلٌ یَسُوْقُ بَدَنَۃً مُقَلَّدَۃً کے الفاظ ہیں۔
ہمام بن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں یہ وہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہریرہؓ نے محمد رسول اللہﷺ سے بیان کیں۔ ان میں سے ایک روایت یہ ہے انہوں نے کہا اس اثناء میں کہ ایک شخص گانی والے قربانی کے اونٹ کو ہانک رہا تھا اسے رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تیرا بھلا کرے، اس پر سوار ہو جاؤ۔ اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ آپؐ نے فرمایا اللہ تیرا بھلا کرے! اس پر سوار ہو جاؤ، اللہ تیرا بھلا کرے، اس پر سوار ہو جاؤ۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو قربانی کا ایک اونٹ ہانک کر لے جا رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا اس پر سوار ہو جاؤ۔ اس نے کہا یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ آپؐ نے اسے دو یا تین بار فرمایا اس پر سوار ہو جاؤ۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک شخص نبیﷺ کے پاس سے اپنا اونٹ یا (کہا) قربانی کا جانور لے کر گیا۔ آپؐ نے فرمایا اس پر سوار ہو جاؤ۔ اس نے کہا یہ ’’بَدَنَۃٌ‘‘ (قربانی کا جانور) ہے یا کہا یہ ’’ہَدِیَّۃٌ‘‘ ہے۔ آپؐ نے فرمایا بے شک ہو۔
ابو زبیر کہتے ہیں میں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے سنا جب کہ ان سے قربانی کے جانور پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا گیا۔ انہوں نے کہا میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اس پر مناسب طور پر سواری کرو، جب تمہیں اس کی ضرورت ہو یہانتک کہ تمہیں (دوسری) سواری مل جائے۔
ابو زبیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت جابرؓ سے قربانی کے جانور پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا انہوں نے کہا میں نے نبیﷺ کو سنا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اس پر مناسب رنگ میں سواری کرو یہانتک کہ تم (دوسری) سواری پاؤ۔
موسیٰ بن سلمہ ا لہذلی بیان کرتے ہیں میں اور سنان بن سلمہ عمرہ کرنے گئے اور سنان اپنے ساتھ ایک جانور لے کر چلے جسے وہ ہانک رہے تھے۔ وہ راستہ میں ہی تھک کر رہ گیا اور یہ اس کی حالت سے عاجز ہوگئے کہ اگر یہ بالکل ہی رہ گیا تو وہ اسے کیسے لے جائیں گے اور انہوں نے کہا اگر میں شہر پہنچا تو اس کے بارہ میں اچھی طرح معلوم کروں گا۔ وہ کہتے ہیں جب دن چڑھا اور ہم بطحاء میں اترے تو انہوں نے کہا حضرت ابن عباسؓ کے پاس چلو، ہم ان سے بات کریں۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے انہیں اپنی قربانی کے جانور کی حالت بتائی۔ وہ کہنے لگے تم (حسنِ اتفاق سے) ایک باخبر آدمی کے پاس آئے ہو۔ رسول اللہﷺ نے ایک آدمی کے ساتھ سولہ 16 اونٹ روانہ کئے اور ان کی نگرانی اس کے سپرد کی۔ راوی کہتے ہیں وہ چلا گیا پھر واپس آیا اور کہا یا رسولؐ اللہ! اگر ان میں سے کوئی تھک کر رہ جائے تو میں کیا کروں؟ آپؐ نے فرمایا اسے ذبح کرو، پھر اس کی (علامت کے طور پر) جوتے اس کے خون سے رنگین کرو اور پھر اس (خون) کو اس کے پہلو پر (بھی) لگا دو اور پھر تم اور تمہارے ساتھیوں کے اہل میں سے کوئی اس میں سے نہ کھائے۔ ایک اور روایت میں (بِسِتَّ عَشْرَۃَ کی بجائے) بِثَمَانَ عَشْرَۃً یعنی اٹھارہ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ذؤیب ابو قبیصہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہﷺ ان کے ساتھ قربانی کے اونٹ بھجواتے اور فرماتے۔ اگر ان میں سے کوئی (جانور) تھک کر رہ جائے اور تمہیں اس کی موت کا ڈر ہو تو اسے ذبح کر لو۔ پھر اس (کی علامت کا) جوتا اس کے خون میں ڈبو دو اور اسے اس کے پہلو سے لگاؤ اور پھر نہ تو تم اسے کھاؤ نہ ہی تمہارے ساتھیوں کے خاندان میں سے کوئی۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ لوگ ہر سمت سے واپس چلے جایا کرتے تھے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ہرگز نہ جائے یہانتک کہ آخر میں بیت اللہ کی زیارت نہ کر لے۔ زہیر نے کہا یَنْصَرِفُوْنَ کُلَّ وَجْہٍ اور یہ نہیں کہا فِیْ (کُلِّ وَجْہٍ) یعنی ہر سمت میں چلے جاتے تھے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ان کا آخری کام (طواف) بیت اللہ کا ہو، ہاں مگر حائضہ عورت سے تخفیف کر دی گئی۔