بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
سعید بن ابو ہند سے روایت ہے کہ عقیل کے آزاد کردہ غلام ابو مرّہ نے ان کو بتایا کہ حضرت ام ہانیؓ بنت ابی طالب نے ان سے بیان کیا کہ فتحِ (مکہ) کے سال وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپؐ مکہ کے بالائی علاقہ میں قیام فرما تھے۔ رسول اللہﷺ غسل کے لئے اُٹھے تو حضرت فاطمہؓ نے آپؐ کے لئے پردہ کیا۔ پھر آپؐ نے اپنا کپڑا لیا اور اپنے گرد لپیٹ لیا پھر آپؐ نے چاشت کی آٹھ رکعتیں نفل پڑھیں۔ سعید بن ابو ہند اسی سند سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپؐ کی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ نے آپؐ کے کپڑے سے آپؐ پر پردہ کیا۔ جب آپؐ نے غسل کر لیا تو اس کپڑے کو (اپنے گرد) لپیٹ لیا پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور آٹھ رکعتیں ادا کیں اور یہ چاشت کا وقت تھا۔
حضرت میمونہؓ کہتی ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبیﷺ کے لئے پانی رکھا اور آپؐ کے لئے پردہ کیا۔ پھر آپؐ نے غُسل فرمایا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کوئی مرد کسی مرد کے ستر کو نہ دیکھے، نہ ہی کوئی عورت کسی عورت کے ستر کو دیکھے۔ نہ ہی مرد دوسرے مرد کے ساتھ ایک چادر میں اکٹھے ہوں، نہ ہی کوئی عورت دوسری عورت کے ساتھ ایک چادر میں اکٹھی ہو۔ ضحاک بن عثمان کی روایت میں لفظ عَوْرَۃ کی جگہ عُرْیَۃ ہے۔
ہَمام بن منبّہ کہتے ہیں کہ یہ باتیں ہمیں حضرت ابو ہریرہؓ نے محمد رسول اللہ ﷺ سے روایت کر کے بیان کیں۔ پھر انہوں (ہَمام بن منبّہ) نے ان میں سے احادیث بیان کیں۔ ان میں سے (ایک) یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل عریاں نہایا کرتے تھے اور ایک دوسرے کے ستر کو دیکھ لیتے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اکیلے غُسل فرمایا کرتے تھے۔ انہوں (بنی اسرائیل) نے کہا کہ خدا کی قسم! موسیٰؑ کو ہمارے ساتھ غسل کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں سوائے اس کے کہ وہ فتق سے بیمار ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ موسیٰ علیہ السلام نہانے کو گئے اور اپنا کپڑا حجر پر رکھا اور حجر آپ کا کپڑا لے کر بھاگ گیا۔ حضرت موسیٰؑ اس کے پیچھے دوڑے اور یہ کہتے جاتے اے حجر! میرا کپڑا، اے حجر! میرا کپڑا حتّٰی کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ستر دیکھ لیا اور کہا اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام کو تو کوئی بیماری نہیں ہے۔ پھر حجر کھڑا ہو گیا یہانتک کہ انہیں دیکھ لیا گیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ پھر انہوں نے اپنا کپڑا لے لیا اور حجر کو مارنے لگے۔ حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ خدا کی قسم! حجر پر موسیٰ علیہ السلام کی ضربات کے چھ یا سات نشان ہیں۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ جب کعبہ کی تعمیر ہونے لگی تو نبیﷺ اور حضرت عباسؓ پتھر منتقل کرنے لگے۔ حضرت عباسؓ نے نبیﷺ سے کہا کہ آپ پتھر اُٹھانے کے لئے اپنے ازار کو اپنے کندھوں پر رکھ لیں چنانچہ ایسا ہی کیا مگر آپؐ زمین پر گر پڑے اور آپؐ کی آنکھیں آسمان کی طرف بلند ہو گئیں۔ پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے میرا ازار، میرا ازار۔ پھر آپؐ نے اپنا ازار کس کر باندھ لیا۔ ابن رافع اپنی روایت میں ’’رقبۃ‘‘ یعنی گردن کے الفاظ لائے ہیں ’’عاتقک‘‘ اپنا کندھا نہیں کہا۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ لوگوں کے ساتھ کعبہ کے لئے پتھر منتقل کر رہے تھے اور آپؐ ازار پہنے ہوئے تھے۔ آپؐ کو آپؐ کے چچا حضرت عباسؓ نے کہا کہ اے میرے بھتیجے! آپ اپنا ازار کھول دیں اور پتھروں سے (بچنے کے لئے) اپنے کندھوں پر رکھ دیں۔ راوی کہتے ہیں کہ آپؐ نے ازار کھول کر اپنے کندھے پر رکھ لیا مگر آپؐ غش کھا کر گر پڑے۔ وہ کہتے ہیں اس دن کے بعد آپؐ کو عریاں نہیں دیکھا گیا۔
مِسور بن مخرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک بھاری بھرکم پتھر اُٹھائے آرہا تھا۔ میں نے ایک ہلکا سا ازار پہنا ہوا تھا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میرا ازار کھُل گیا لیکن میرے پاس جو پتھر تھا اسے میں (نیچے) نہ رکھ سکا یہانتک کہ میں اسے اس کی جگہ پر لے گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جاؤ، اپنا کپڑا لو اور تم لوگ یوں ننگے مت پھِرا کرو۔
حضرت عبداللہ بن جعفرؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ نے مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا اور مجھے ایک راز کی بات بتائی جو میں لوگوں میں سے کسی کو نہیں بتاؤں گا اور آپؐ کو اپنی حاجت کے وقت سب سے زیادہ پسندیدہ بلند عمارت وغیرہ یا کھجور کا باغ تھا۔ ابن اسماء اپنی روایت میں کہتے ہیں یعنی کھجوروں کا باغ جس کے گرد دیوار ہو۔
حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ میں پیر کے دن رسول اللہﷺ کے ساتھ قباء کی طرف گیا۔ جب ہم بنی سالم میں پہنچے تو رسول اللہﷺ عِتبانؓ کے دروازے پر جاکر رک گئے اور (ان کو) آواز دی تو وہ اپنا ازار گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہم نے اس آدمی کو جلدی میں ڈالا ہے۔ عِتبان نے کہا یا رسول اللہ! اگر کوئی مرد اپنی عورت سے جلدی الگ ہو جائے لیکن اس کی منی نہ نکلے۔ آپؐ کا اس کے بارہ میں کیا ارشاد ہے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ پانی (کا استعمال) صرف ’’پانی‘‘ کی وجہ سے ضروری ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ پانی (کا استعمال) ’’پانی‘‘ کی وجہ سے ضروری ہے۔