بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضرت اسماءؓ نے نبیﷺ سے غُسلِ حیض کے بارہ میں سوال کیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک پہلے بیری کے پتّوں کے ساتھ پانی لے اور خوب اچھی طرح صفائی کرے۔ پھر (پانی) اپنے سر پر ڈالے اور پھر خوب اچھی طرح سَر کو مَلے یہاں تک کہ بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔ پھر اپنے اوپر پانی ڈالے۔ پھر ایک مشک لگا ہوا پھایا لے اور اس کے ذریعہ صفائی کرے۔ حضرت اسماءؓ نے عرض کیا کہ اس کے ذریعہ کیسے صفائی ہو؟ آپؐ نے فرمایا سبحان اللہ، تم اس کے ذریعہ صفائی کرو۔ حضرت عائشہؓ نے سرگوشی کے انداز میں کہا کہ جہاں جہاں خون کا نشان پاؤ، وہاں وہاں لگاؤ۔ اس نے آپؐ سے غُسلِ جنابت کے بارہ میں پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ پانی لے اور صفائی کرے اور خوب اچھی طرح صفائی کرے۔ پھر اپنے سر پر پانی ڈالے۔ پھر اسے (سر کو) مَلے یہاں تک کہ بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔ پھر اپنے اوپر پانی بہائے۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ انصار کی عورتیں کیا ہی اچھی عورتیں ہیں کہ دین کے سمجھنے میں حیاء اِن کو مانع نہیں ہوتی تھی۔ شعبہ نے یہ روایت اس سند سے یوں بیان کی کہ آپؐ نے فرمایا سبحان اللہ، تم اس کے ذریعہ پاک صاف ہو جاؤ اور آپؐ نے (چہرہ) ڈھانپ لیا۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت اسماء بنت شکلؓ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ! ہم میں سے جب کوئی حیض سے پاک ہو تو کیسے غُسل کرے۔ آگے (راوی نے) روایت بیان کی لیکن اس میں غُسلِ جنابت کا ذکر نہیں کیا۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت فاطمہؓ بنت ابی حبیش نبیﷺ کی خدمت میں آئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ ہے اور میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں، یہ تو صرف ایک رگ ہے اور حیض نہیں ہے۔ پس جب حیض (کے ایام) آئیں تو نماز چھوڑ دو اور جب چلے جائیں تو اپنے سے خون دھو ڈالو اور نماز پڑھ لو۔ جریر سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہؓ بنت ابی حبیش بن عبدالمطلب ابن اسد آئیں۔ وہ ہم میں سے ایک عورت تھیں۔ (راوی کہتے ہیں) حماد بن زید کی روایت میں بعض الفاظ زائد تھے جن کا ہم نے ذکر چھوڑ دیا ہے۔
حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہ بنتِ جحشؓ نے رسول اللہﷺ سے پوچھا اور عرض کیا کہ مجھے استحاضہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا یہ تو صرف ایک رگ ہے۔ پس غسل کرو اور نماز پڑھو۔ آپ ہر نماز کے وقت غسل کرتیں۔ لیث بن سعد نے کہا کہ ابن شہاب نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہﷺ نے حضرت ام حبیبہؓ بنتِ جحش کو ہر نماز کے وقت غسل کا حکم فرمایا تھا بلکہ یہ ایسی بات ہے جو انہوں نے خود ہی کی۔ ابن رُمح نے اپنی روایت میں اِبْنَۃُ جَحْشٍ کہا ہے اور حضرت ام حبیبہؓ کے نام کا ذکر نہیں کیا۔
نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضرت ام حبیبہ بنت جحشؓ جو رسول اللہ ﷺ کی نسبتی بہن تھیں اور حضرت عبدالرحمانؓ بن عوف کی بیوی تھیں۔ ان کو سات برس استحاضہ کی تکلیف رہی۔ انہوں نے اس بارہ میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ حیض نہیں بلکہ ایک رگ ہے، تم نہالو اور نماز پڑھو۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں (حضرت ام حبیبہؓ) اپنی بہن زینب بنت جحشؓ کے حجرہ میں ٹب میں غُسل کرتی تھیں یہانتک کہ خون کی سرخی پانی پر غالب آجاتی۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے اس بارہ میں ابو بکر بن عبدالرحمان بن حارث بن ہشام کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ اللہ ہند پر رحم کرے۔ کاش کہ وہ یہ فتویٰ سُن لیتیں۔ خدا کی قسم! وہ اس پر رویا کرتی تھیں کہ وہ نماز نہیں پڑھتی تھیں۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہؓ بنت جحش رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں جبکہ وہ سات سال تک استحاضہ سے رہی تھیں۔ باقی حدیث عمرو بن حارث کی روایت کی طرح بیان کی گئی ہے تَعْلُو حُمْرَۃُ الدَّمِ الْمَائَ تک لیکن اس کے بعد کا ذکر نہیں ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ بنت جحش سات سال مستحاضہ رہی تھیں۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہؓ نے رسول اللہﷺ سے خون کے بارہ میں پوچھا۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے اُن (حضرت ام حبیبہؓ) کے ٹب کو دیکھا کہ وہ خون سے بھرا ہوا تھا۔ رسول اللہﷺ نے اُن سے فرمایا کہ اتنی دیر ٹھہری رہو جتنی دیر تمہارے ایام تمہیں روکتے تھے پھر غسل کرو اور نماز ادا کرو۔
نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہؓ بنت جحش نے جو حضرت عبدالرحمانؓ بن عوف کی بیوی تھیں رسول اللہﷺ کی خدمت میں خون کی شکایت کی تو آپؐ نے اُن سے فرمایا کہ اتنی دیر ٹھہری رہو جتنی دیر ایام تمہیں روکتے تھے پھر غسل کرلو۔ اور آپؓ ہر نماز کے وقت غسل کر لیا کرتی تھیں۔
معاذہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہؓ سے سوال کیا کیا ہم میں سے کوئی اپنے ایام حیض کی نماز کی قضاء ادا کرے۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کیا تو حروریہّ ہے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جب ہم میں سے کسی کو حیض آتا تو اسے (نماز کی) قضاء کا حکم نہ دیا جاتا تھا۔
یزید بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت معاذہؓ سے سنا کہ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ کیا حائضہ چھُٹی ہوئی نماز ادا کرے؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کیا تو حروریہ ہے؟ رسول اللہﷺ کی ازواج مطہرات کو بھی تو حیض آتا تھا۔ کیا آپؐ نے ان کو حکم دیا کہ وہ چھوڑی ہوئی نماز ادا کریں؟ محمد بن جعفر کہتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ کی مراد یَجْزِیْنَ کے لفظ سے یَقْضِیْنَ ہے۔
معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ کیا بات ہے حائضہ چھٹا ہوا روزہ تو رکھتی ہے لیکن چھٹی ہوئی نماز نہیں پڑھتی؟ آپؓ نے فرمایا کہ کیا تو حروریہّ ہے؟ میں نے عرض کیا میں حروریہ تو نہیں لیکن میں (صرف) پوچھنا چاہتی ہوں۔ آپؓ نے فرمایا جب ہمیں یہ بات پیش آتی تو ہمیں چھٹے ہوئے روزے رکھنے کا حکم دیا جاتا مگر چھٹی ہوئی نماز پڑھنے کا حکم نہ دیا جاتا تھا۔
حضرت ام ہانیؓ بنت ابی طالب کہتی ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں فتحِ (مکہ) کے سال حاضر ہوئی۔ میں نے آپؐ کو غسل کرتے ہوئے پایا اور آپؐ کی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ ایک کپڑے سے آپؐ کے لئے پردہ کئے ہوئے تھیں۔