بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
علقمہ بن وائلؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرموت سے ایک آدمی اور کندہ سے ایک آدمی نبیﷺ کے پاس آئے۔ حضرموت والے نے کہا: یا رسول اللہ ! اس شخص نے میری زمین دبال یے جو میرے باپ کی تھی کندہ والے نے کہا یہ میری زمین ہے میرے قبضہ میں ہے میں اس کو کاشت کرتا ہوں اس کا اس میں کوئی حق نہیں۔ رسول اللہﷺ نے اس حضرمی سے فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی ثبوت ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ تو آپؐ نے فرمایا: تیرے لئے (تمہارے مقابل پر) اس کی قسم ہوگی۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ جھوٹا آدمی ہے جس چیز پر وہ قسم کھائے اس کو کوئی پرواہ نہیں اور کسی بات سے اس کو پرہیز نہیں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا تمہارا اس کے علاوہ اس پر کوئی حق نہیں ہے۔ پس وہ قسم کھانے لگا۔ جب اس نے پیٹھ پھیری تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: اگر اس نے ظلم کی راہ سے اس کا مال کھانے کے لئے قسم کھائی ہے تو اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ (اللہ) اس سے منہ پھیر لے گا۔
حضرت وائلؓ بن حجر کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس تھا کہ دو آدمی آپؐ کے پاس آئے جو ایک زمین کے بارہ میں جھگڑ رہے تھے ان میں سے ایک نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے جاہلیت میں میری زمین پر قبضہ کر لیا تھا۔ وہ امرؤ القیس بن عابس الکندی تھا اور اس کا مد مقابل ربیعہ بن عبدان تھا۔ آپؐ نے فرمایا: تمہارا ثبوت؟ اس نے کہا: میرے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ آپؐ نے فرمایا اُس کی قسم؟ اس نے کہا: پھر تو وہ اسے لے جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا: تیرے لئے اس کے سوا کچھ نہیں۔ جب وہ قسم کھانے کے لئے کھڑا ہوا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے ظلم سے کسی کی زمین ہتھیائی وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ! فرمائیے اگر کوئی شخص آئے اور میرا مال لینا چاہے تو آپؐ نے فرمایا: تم اس کو اپنا مال نہ دو۔ اس نے کہا: فرمائیے اگر وہ مجھ سے لڑے تو فرمایا تم بھی اس سے لڑو۔ اس نے کہا: فرمائیے اگر وہ مجھے قتل کر دے؟ فرمایا: تم شہید ہوگے۔ اس نے کہا: اگر میں اس کو قتل کر دوں؟ فرمایا: پھر وہ جہنمی ہوگا۔
مرو بن عبدالرحمٰن کے آزاد کردہ غلام ثابت سے روایت ہے کہ جب حضرت عبداللہؓ بن عمرو اور عنبسہ بن ابی سفیان کے درمیان تنازعہ ہوا اور لوگ لڑنے کے لئے تیار ہوگئے تو خالد بن العاص سوار ہوکر عبداللہؓ بن عمرو کے پاس گئے اور خالد نے ان کو نصیحت کی۔ اس پر حضرت عبداللہؓ بن عمرو نے کہا: کیا آپ کو علم نہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہے۔
حسن سے روایت ہے کہ عبید اللہ بن زیاد حضرت معقلؓ بن یسار مزنی کی مرض الموت میں ان کی عیادت کے لئے گیا تو حضرت معقلؓ نے کہا میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہﷺ سے سنی ہے اگر مجھے علم ہوتا کہ میری زندگی ابھی باقی ہے تو میں تمہارے پاس بیان نہ کرتا۔ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے آپؐ فرماتے تھے جس بندے کو اللہ تعالیٰ کسی رعیت کا نگران بنا دے اور جب وہ مرے اس حال میں مرے کہ وہ رعایا کو دھوکہ دیتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔
حسن کہتے ہیں کہ عبید اللہ بن زیاد حضرت معقلؓ بن یسار کے پاس گئے اور وہ بیمار تھے انہوں نے ان کا حال پوچھا تو انہوں نے کہا میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میں تمہیں سنانے والا نہیں تھا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ جب کسی بندے کو رعایا کا نگران بناتا ہے اور وہ اس حال میں مر جاتا ہے کہ وہ اپنی رعایا کو دھوکہ دے رہا ہو تو اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔ انہوں نے پوچھا آپؓ نے مجھے آج سے پہلے یہ (حدیث) کیوں نہ سنائی؟ انہوں نے کہا میں نے تجھے نہیں سنائی یا میں تجھے نہیں سنانے والا تھا۔ حضرت حسنؓ کہتے ہیں کہ ہم حضرت معقلؓ بن یسار کی عیادت کے لئے ان کے پاس موجود تھے تو عبید اللہ بن زیاد آیا۔ حضرت معقلؓ نے اسے کہا میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہﷺ سے سنی ہے۔ پھر راوی نے وہ حدیث بیان کی جو (مذکورہ بالا) دونوں راویوں کی روایت کے مطابق ہے۔
ابو ملیح سے روایت ہے کہ عبید اللہ بن زیاد نے حضرت معقلؓ بن یسار کی بیماری میں ان کی عیادت کی تو حضرت معقلؓ نے اس سے کہا میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں اگر میں مرنے والا نہ ہوتا تو میں تمہیں یہ نہ سناتا۔ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے جو امیر مسلمانوں کے امور کا والی بنتا ہے اور پھر ان کے لئے جدوجہد نہیں کرتا اور نہ ہی خیر خواہی کرتا ہے وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں دو باتیں بتائیں۔ ایک تو میں نے دیکھ لی ہے اور دوسری کا منتظر ہوں۔ آپؐ نے ہمیں فرمایا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی جڑ میں اُتری پھر قرآن نازل ہوا تو انہوں نے قرآن سے علم حاصل کیا اور سنت سے علم حاصل کیا پھر رسول اللہﷺ نے ہمیں امانت کے اُٹھ جانے کے متعلق بتایا اور فرمایا ایک شخص تھوڑی دیر سوئے گا تو اس کے دل سے امانت لے لی جائے گی اور اس کا ایک معمولی داغ رہ جائے گا پھر وہ تھوڑی دیر کے لئے سوئے گا اور امانت لے لی جائے گی تو اس کا اثر اس آبلہ کی طرح رہ جائے گا جیسے تم انگارے کو اپنے پاؤں پر گراؤ اور وہ پھول جائے تو تم اسے پھولا ہوا پاتے ہو مگر اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا۔ پھر رسول اللہﷺ نے ایک کنکر اُٹھایا اور اسے اپنے پاؤں پر لڑھکایا (اور فرمایا) لوگ ایک دوسرے سے خرید و فروخت کرنے لگیں گے مگر کوئی اس بات کے قریب نہ ہوگا کہ امانت ادا کرے یہاں تک کہ کہا جائے گا کہ فلاں قبیلہ میں ایک امین شخص رہتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک شخص کے متعلق کہا جائے گا کہ وہ کیسا طاقتور، اعلیٰ ظرف والا اور عقلمند ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہوگا۔ (حضرت حذیفہؓ نے کہا) مجھ پر ایک ایسا زمانہ بھی آچکا ہے کہ مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوتی تھی کہ میں تم میں سے کس سے لین دین کر رہا ہوں اگر وہ مسلم ہوتا تو اس کا دین اس کو مجھ سے زیادتی سے باز رکھتا اگر وہ یہودی یا عیسائی ہوتا تو اس کا نگران اس کو میرے ساتھ بد دیانتی سے باز رکھتا مگر آج تو میں ایسا نہیں ہوں کہ تم میں سے فلاں فلاں کے سوا کسی سے لین دین کروں۔
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت عمرؓ کے پاس تھے۔ انہوں نے کہا تم میں سے کس نے رسول اللہﷺ کو فتنوں کا ذکر فرماتے ہوئے سنا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہم نے آپؐ سے سنا ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: شاید تمہاری مراد اس فتنہ سے ہے جو آدمی کو اپنے اہل اور پڑوسی کے متعلق پیش آتا ہے۔ انہوں نے کہا: ہاں۔ (حضرت عمرؓ نے) کہا: اس کا کفارہ تو نماز، روزہ اور صدقہ ہو جاتا ہے مگر تم میں سے کون ہے جس نے نبیﷺ کو ان فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے جو سمندر کی طرح موجزن ہوں گے۔ حضرت حذیفہؓ نے کہا: یہ سن کر لوگ خاموش ہوگئے۔ میں نے کہا: میں (نے سنا ہے) حضرت عمرؓ نے کہا: تم نے! واہ تمہارے باپ کے کیا کہنے! حضرت حذیفہؓ نے کہا: میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: فتنے دلوں پر ایسے درپیش ہوں گے جس طرح چٹائی کی طرح جو تنکا تنکا ہوتی ہے۔ (یعنی پے در پے فتنے ہوں گے) جس دل میں وہ فتنے رچ بس گئے اس میں ایک سیاہ داغ لگ جائے گا اور جس دل نے ان کو رد کر دیا اس میں سفید نشان لگ جائے گا یہاں تک کہ دو قسم کے دل ہو جائیں گے۔ ایک سفید چکنے پتھر کی طرح اور اسے کوئی فتنہ ضرر نہیں دے گا جب تک آسمان و زمین قائم ہیں۔ اور دوسرا سیاہ مٹیالا اوندھے کوزہ کی طرح جو نہ کسی نیکی کو پہچانتا ہو اور نہ کسی برائی کو برائی جانتا ہو سوائے اس گری ہوئی خواہش کے جو اس میں رچ بس گئی ہو۔ حضرت حذیفہؓ نے کہا: میں نے انہیں (حضرت عمرؓ کو) بتایا کہ آپؓ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے جو بعید نہیں کہ توڑ دیا جائے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: کیا توڑا جائے گا! تیرا بھلا ہو، اگر یہ کھولا جاتا تو شاید کبھی بند بھی کر دیا جاتا۔ میں نے کہا: نہیں بلکہ توڑا جائے گا اور میں نے انہیں بتایا کہ وہ دروازہ ایک شخص ہے جو قتل کیا جائے گا یا مر جائے گا۔ یہ حدیث غلط باتوں پر مشتمل نہ تھی۔ ابو خالد کہتے ہیں میں نے سعد سے کہا اے ابو مالک اَسْوَدُ مُرْبَادًا کے کیا معنے ہیں؟ انہوں نے کہا: سیاہی میں تیز سفیدی۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا کوزہ کے مُجَخِّیًا ہونے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس کا اوندھا ہونا۔ ربعی کہتے ہیں کہ جب حضرت حذیفہؓ حضرت عمرؓ کے پاس سے آئے تو بیٹھ کر ہم سے باتیں کرنے لگے کہ امیر المؤمنین کے پاس کل جب میں بیٹھا تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: تم میں سے کس کو رسول اللہﷺ کا قول فتنوں کے بارے میں یاد ہے؟ پھر اس حدیث کو اس طرح تفصیل سے بیان کیا جیسے ابو خالد کی روایت اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا ابو مالک نے مربادًا اور مُجَخِّیًا کے معنی بتائے تھے۔ ربعی بن حراش سے روایت ہے وہ حضرت حذیفہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کون ہمیں بتائے گا کہ رسول اللہﷺ نے فتنوں کے بارہ میں کیا فرمایا ہے؟ اور ان میں حضرت حذیفہؓ تھے اور حضرت حذیفہؓ نے کہا ’’میں‘‘ اور پھر راوی نے پوری روایت ابو مالک کی روایت کی طرح ربعی سے بیان کی اور روایت میں کہا کہ حضرت حذیفہؓ نے کہا کہ میں نے ان (حضرت عمرؓ) کو ایک حدیث سنائی ہے جو غلط باتیں نہیں ہیں ان کی مراد یہ تھی کہ یہ بات رسول اللہ
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام غریب الوطنی کی حالت میں شروع ہوا اور دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا جیسے شروع ہوا تھا پس غریب الوطن لوگوں کو مبارک ہو۔