بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سے وسوسہ کے بارہ میں پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا یہ تو خالص ایمان ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا لوگ ہمیشہ سوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ کہا جائے گا یہ تو ہوا کہ اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے۔ جو ایسا (وسوسہ) پائے وہ کہے میں اللہ پر ایمان لاتا ہوں۔ ہشام بن عروہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں (اسی سند سے) کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ زمین کو کس نے پیدا کیا؟ وہ جواب دیتا ہے کہ اللہ نے، پھر اسی طرح روایت بیان کی اور رُسُلِہٖ کے لفظ کا اضافہ کیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے یہ کس نے پیدا کیا، وہ کس نے پیدا کیا یہاں تک کہ وہ کہتا ہے تیرے رب کو کس نے پیدا کیا۔ جب وہ اس پر پہنچے تو اللہ کی پناہ طلب کرے اور رک جائے۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا شیطان بندے کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کس نے یہ اور وہ پیدا کیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: لوگ تم سے علم کے بارہ میں سوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ کہیں گے یہ تو ہوا کہ اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے، اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ راوی کہتے ہیں حضرت ابو ہریرہؓ اس وقت ایک شخص کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا: مجھ سے دو آدمی یہ سوال کر چکے ہیں اب یہ تیسرا ہے یا یہ کہا کہ مجھ سے ایک شخص یہ سوال کر چکا ہے اب یہ دوسرا ہے۔ زھیر بن حرب اور یعقوب الدورقی کی روایت میں لَا یَزَالُ النَّاسُ کے الفاظ ہیں اور آگے عبدالوارث کی روایت کی طرح (بیان کیا) مگر نبیﷺ کا سند میں ذکر نہیں کیا لیکن روایت کے آخر میں کہا: اللہ اور اس کے رسولؐ نے سچ کہا۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایا اے ابو ہریرہؓ! لوگ تجھ سے سوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ کہیں گے یہ اللہ ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ جب میں مسجد میں تھا کچھ اعرابی میرے پاس آگئے اور کہا اے ابو ہریرہؓ! یہ ہے اللہ تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ راوی نے کہا (حضرت ابو ہریرہؓ نے) اپنی مٹھی میں کنکر لئے اور ان پر پھینکے اور کہا اٹھو، اٹھو! میرے دوست (ﷺ ) نے سچ کہا تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: لوگ تم سے ہر بات کے بارہ میں پوچھیں گے یہاں تک کہ وہ کہیں گے اللہ نے ہر چیز کو پیدا کیا تو اس کو کس نے پیدا کیا؟
حضرت انسؓ بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے تیری امت کے لوگ کہتے رہیں گے وہ کیا ہے یہ کیا ہے یہاں تک کہ وہ کہیں گے یہ تو ہوا کہ اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا۔ اسحاق کی روایت میں قَالَ اللّٰہَُ اِنَّ اُمَّتَکَ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابو امامہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے اپنی قسم سے کسی مسلمان کا حق مار لیا اللہ نے اس کے لئے دوزخ واجب کر دی اور اس پر جنت حرام کر دی۔ ایک شخص نے آپؐ سے عرض کیا یا رسول اللہ! خواہ وہ معمولی چیز ہو؟ آپؐ نے فرمایا۔ خواہ پیلو کی ایک ٹہنی ہو۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: وہ جو پختہ قسم کھاتا ہے جس کے ذریعہ وہ کسی مسلمان شخص کا مال چھینتا ہے اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہوگا۔ راوی کہتے ہیں حضرت اشعثؓ بن قیس آئے اور کہا: حضرت ابو عبدالرحمٰنؓ کیا بیان کر رہے تھے؟ لوگوں نے کہا: یہ یہ بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: ابو عبدالرحمٰنؓ نے سچ کہا: میرے بارہ میں یہ آیت اتری۔ میرے اور ایک شخص کے درمیان یمن میں کچھ زمین کا جھگڑا تھا۔ میں اس کے ساتھ (اپنا) مقدمہ نبیﷺ کے پاس لے گیا آپؐ نے فرمایا: تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ورنہ اس پر قسم ہے۔ میں نے عرض کیا: وہ تو قسم اُٹھا لے گا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: وہ جو پختہ طور پر جھوٹی قسم کھاتا ہے جس کے ذریعہ وہ کسی مسلمان شخص کا مال لیتا ہے اور وہ اس قسم میں گناہ گار ہے وہ اللہ سے ملے گا اس حال میں کہ اللہ اس پر غضبناک ہوگا تو یہ (آیت) نازل ہوئی۔ (ترجمہ): یقینا وہ لوگ جو اللہ کے عہدوں اور اپنی قسموں کو معمولی قیمت پر بیچ دیتے ہیں یہی ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا اور اللہ نہ ان سے کلام کرے گا اور نہ قیامت کے دن ان پر نظر ڈالے گا اور نہ اُنہیں پاک ٹھہرائے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب مقدر ہے۔ (آل عمران: 78) حضرت عبداللہؓ کہتے ہیں جس نے کوئی مال حاصل کرنے کے لئے قسم کھائی اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہے وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا۔ پھر اعمش کی طرح روایت بیان کی سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا میرے اور ایک شخص کے درمیان ایک کنویں کے بارہ میں جھگڑا تھا ہم اس جھگڑے کو رسول اللہﷺ کی خدمت میں لے گئے تو آپؐ نے فرمایا: تمہارے دو گواہ یا اس کی قسم۔
حضرت (عبداللہ) بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو سنا۔ آپؐ فرماتے تھے جس نے کسی مسلمان شخص کا مال لینے کی خاطر جس پر اس کا حق نہیں قسم کھائی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا۔ حضرت عبداللہؓ کہتے ہیں کہ اس کے مطابق رسول اللہﷺ نے اللہ کی کتاب سے ہم پر یہ آیت پڑھی اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ ترجمہ: یقینا وہ لوگ جو اللہ کے عہدوں اور اپنی قسموں کو معمولی قیمت پر بیچ دیتے ہیں یہی ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا اور اللہ نہ ان سے کلام کرے گا اور نہ قیامت کے دن ان پر نظر ڈالے گا اور نہ اُنہیں ٹھہرائے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب مقدر ہے۔ (آل عمران: 78)