بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: اسلام غریب الوطنی کی حالت میں شروع ہوا۔ غریب الوطنی کی حالت میں لوٹ جائے گا جیسے شروع ہوا تھا اور وہ دو مسجدوں کے درمیان سمٹ جائے گا جیسے سانپ اپنے بل میں سمٹ جاتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایمان مدینہ میں اس طرح سمٹ جائے گا جیسے سانپ اپنے بل میں سمٹ جاتا ہے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ گھڑی نہیں آئے گی یہاں تک کہ زمین میں اللہ اللہ نہیں کہا جائے گا۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس پر وہ گھڑی قائم نہیں ہوگی جو اللہ اللہ کہتا ہوگا۔
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے۔ آپؐ نے فرمایا: مجھے گن کر بتاؤ کتنے آدمی اسلام کا اقرار کرتے ہیں؟ (حضرت حذیفہؓ نے) کہا: ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپؐ کو ہمارے بارہ میں خوف ہے جبکہ ہم چھ سو سے سات سو تک ہیں۔ آپؐ نے فرمایا تم نہیں جانتے شاید تم آزمائے جاؤ۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر ہم ابتلاؤں میں ڈالے گئے یہاں تک کہ ہم میں سے بعض نماز بھی چھپ کر پڑھنے لگے۔
عامر بن سعدؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے ایک بار کچھ مال تقسیم کیا تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! فلاں کو بھی دیں وہ بھی مومن ہے تو اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا: یا مسلم ہے۔ میں نے تین دفعہ یہی بات عرض کی اور تینوں دفعہ آپؐ نے فرمایا یا مسلم ہے پھر فرمایا: میں کسی شخص کو دیتا ہوں جبکہ کوئی اور شخص مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے اس خوف سے کہ اللہ تعالیٰ کہیں اسے اوندھے منہ آگ میں نہ گرا دے۔
عامر بن سعدؓ بن ابی وقاص اپنے باپ سعدؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے کچھ لوگوں کو دیا اور حضرت سعدؓ بھی ان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت سعدؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ان میں سے ایک شخص کو چھوڑ دیا اور اسے کچھ نہ دیا حالانکہ وہ مجھے ان سب سے زیادہ پسند تھا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپؐ کا فلاں کے بارہ میں کیا خیال ہے اللہ کی قسم میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: یا مسلم! میں تھوڑی دیر خاموش رہا پھر اس کے بارہ میں مَیں جو جانتا تھا اس نے مجھے مجبور کر دیا اور میں نے کہا: آپؐ کا فلاں کے بارہ میں کیا خیال ہے اللہ کی قسم میں اسے مومن سمجھتا ہوں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: یا مسلم! وہ کہتے ہیں میں پھر تھوڑی دیر چُپ رہا مگر پھر اس کے متعلق جانتا تھا اس نے مجھے مجبور کر دیا اور میں نے کہا یا رسول اللہ! فلاں کے متعلق آپؐ کا کیا خیال ہے، اللہ کی قسم میں اسے مومن سمجھتا ہوں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: یا مسلم، میں کسی شخص کو دیتا ہوں حالانکہ کوئی اور مجھے اس سے زیادہ پیارا ہوتا ہے اس ڈر سے کہ اسے منہ کے بل آگ میں نہ گرا دیا جائے۔ حضرت سعدؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک قبیلہ کو کچھ دیا اور میں بھی ان میں بیٹھا ہوا تھا ابن شہاب کے بھتیجے کی روایت کے مطابق جو انہوں نے اپنے چچا سے روایت کی یہ بات زائد بتائی کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس گیا اور چپکے سے کہا اس کے متعلق آپؐ کی کیا رائے ہے۔ محمد بن سعدؓ سے روایت ہے وہ یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے میری گردن اور کندھے کے درمیان ہاتھ مارا اور فرمایا: اے سعد! کیا لڑائی ہے! میں کسی شخص کو دیتا ہوں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہم ابراہیمﷺ سے زیادہ شک کرنے کے حقدار ہیں جب انہوں نے کہا (ترجمہ): اے میرے رب مجھے دکھلا کہ تو مُردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے۔ اس نے کہا: کیا تو ایمان نہیں لا چکا۔ اس نے کہا: کیوں نہیں مگر اس لئے (پوچھا ہے) کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔ (البقرہ: 261) آپؐ نے فرمایا: اللہ لوط پر رحم کرے وہ ایک مضبوط سہارا کی پناہ حاصل کرتے تھے اور اگر میں قید خانے میں اتنی دیر رہتا جتنا یوسف رہے تھے تو بلانے والے کی بات مان لیتا۔ مالک کی روایت ہے وَلٰکِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ (ترجمہ): اس لئے (پوچھا ہے) کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر آپﷺ نے یہ آیت پڑھی اور پوری پڑھی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: نبیوں میں سے ہر نبی کو ایسے نشانات دئیے گئے جن کے مطابق انسان ایمان لائے اور مجھے جو دیا گیا ہے وہ ایک عظیم وحی ہے جو اللہ نے میری طرف کی اور میں امید کرتا ہوں کہ میں متبعین کے لحاظ سے قیامت کے دن سب سے بڑھ کر ہوں گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے کہ اس امت میں جو بھی میرا ذکر سنتا ہے خواہ وہ یہودی ہو یا نصرانی اور وہ اس پر ایمان نہ لائے جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں تو وہ آگ والوں میں سے ہے۔