بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 171 hadith
حضرت ابو مسعود انصاریؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا۔ میری سواری میرے لئے ناکارہ ہو گئی ہے مجھے سواری عطا فرمائیں۔ آپؐ نے فرمایا میرے پاس (سواری) نہیں ہے۔ اس پر ایک شخص نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں اسے ایک شخص کا پتہ بتاتا ہوں جو اسے سواری مہیّا کردے گا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے بھلائی کی راہ بتائی اس کے لئے اس (بھلائی) کے کرنے والے کی مانند اجر ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ اسلم قبیلہ کے ایک شخص نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں لیکن میرے پاس سامان نہیں ہے۔ آپؐ نے فرمایا فلاں شخص کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے تیاری کی تھی لیکن وہ بیمار ہوگیا۔ وہ شخص اس کے پاس آیا اور کہا رسول اللہﷺ تجھے سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں وہ سامان جو تم نے تیار کیا تھا مجھے دے دو۔ اس نے کہا اے فلاں (عورت) جو سامان میں نے تیار کیا تھا اسے دے دو۔ اور اس میں سے کوئی چیز روک نہ رکھنا اللہ کی قسم! اس سے کوئی چیز روک نہ رکھنا تیرے لئے اس میں برکت رکھ دی جائے گی۔
حضرت زید بن خالدؓ جہنی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو سامان دیا تو گویا اس نے جہاد کیا اور جس نے اس کے اہل کی اچھی طرح دیکھ بھال کی تو اس نے بھی جہاد کیا۔
حضرت زید بن خالدؓ جہنی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا جو کسی مجاہد کو سامان دیتا ہے تو وہ گویا خود جہاد کرتا ہے اور جو اس کے گھر والوں کی خبر گیری کرتا ہے تو وہ بھی جہاد کرتا ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک لشکر بنو لحیان جو ہذیل میں سے ہیں کی طرف بھیجا اور آپؐ نے فرمایا ہر دو آدمیوں میں سے ایک ضرور نکلے اور اجر دونوں میں (تقسیم) ہو گا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک لشکر بنو لحیان کی طرف بھیجا (اور فرمایا) کہ ہر دو اشخاص میں سے ایک شخص ضرور نکلے پھر آپؐ نے پیچھے رہنے والے سے فرمایا جو کوئی تم میں سے (جہاد کے لئے) نکلنے والے کے گھر کی اور اس کے مال کی اچھی طرح دیکھ بھال کرے گا تو اسے نکلنے والے سے آدھا اجر ملے گا۔
سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجاہدین کی خواتین کا احترام (پیچھے) بیٹھ رہنے والوں کے لئے ان کی ماؤں کے احترام کی طرح ہے اور پیچھے بیٹھ رہنے والوں میں سے جو شخص بھی مجاہدین کے گھر والوں کی خبر گیری کرتا ہے اور اس کی، اُن کے (اہل) کے بارہ میں خیانت کرتا ہے تو وہ قیامت کے دن اس مجاہد کے لئے کھڑا کیا جائے گا اور وہ (مجاہد) اس کے عمل میں سے جو چاہے گا لے لے گا۔ پس تمہارا کیا خیال ہے؟ ایک اور روایت میں (فَیَأْخُذُ مِنْ عَمَلِہِ مَا شَائَ فَمَا ظَنُّکُمْ کی بجائے) فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِہِ مَا شِئْتَ فَاَلْتَفَتَ اِلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ فَمَا ظَنُّکُمْ کے الفاظ ہیں۔ (اس کو کہا جائے گا کہ) اس کی نیکیوں میں سے جو چاہے لے لو۔ پھر رسول اللہ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ فَمَا ظَنُّکُمْ
ابو اسحاق سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت براءؓ کو اس آیت لَا یَسْتَوِی الْقاَعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۔۔۔ وَالْمُجَاہِدُوْنَ فیْ سَبِیْلِ اللَّہِ کہ: مومنوں میں سے بغیر کسی بیماری کے گھر بیٹھ رہنے والے اور (دوسرے) اللہ کی راہ میں اپنے اموال اور جانوں کے ذریعہ جہاد کرنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔۔۔ کے بارہ میں کہتے ہوئے سنا کہ (جب یہ آیت اتری تو) رسول اللہﷺ نے حضرت زیدؓ کو ارشاد فرمایا۔ وہ ایک کتف لے کر آئے تاکہ وہ (آیت) لکھیں۔ اس پر حضرت ابن امّ مکتومؓ نے اپنی نابینائی کی شکایت کی۔ تو یہ آیت نازل ہوئی لَا یَسْتَوِی الْقاَعِدُونَ مِنَ الْمُؤمِنینَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَر، مومنوں میں سے بغیر کسی بیماری کے گھر بیٹھ رہنے والے۔۔۔ برابر نہیں ہو سکتے۔
حضرت براءؓ سے روایت ہے جب یہ (آیت) نازل ہوئی کہ لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤمِنِیْنَ مومنوں میں سے گھر بیٹھ رہنے والے۔۔۔ برابر نہیں ہو سکتے۔ تو ابن امّ مکتومؓ نے آپؐ سے بات کی۔ تب یہ نازل ہوا غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ بغیر کسی بیماری کے۔
حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! اگر میں مارا جاؤں تو میں کہاں ہوں گا؟ آپؐ نے فرمایا جنت میں تو اُس نے وہ چند کھجوریں جو اس کے ہاتھ میں تھیں پھینک دیں پھر وہ لڑا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے احد کے دن نبیﷺ سے پوچھا تھا۔۔۔