بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 171 hadith
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کی راہ میں قتل ہونا ہر بات کو مٹا دیتا ہے سوائے قرض کے۔
مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم نے حضرت عبد اللہؓ سے اس آیت کے بارہ میں وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوا فِی سَبیلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیآئٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُونَ: اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ان کو ہر گز مردے گمان نہ کر بلکہ وہ تو زندہ ہیں اور انہیں اپنے رب کے ہاں رزق عطا کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا سنو! ہم نے اس بارہ میں پوچھا تھا تو آپؐ نے فرمایا ان کی روحیں سبز پرندوں کے اندر ہوں گی ان کے لئے قندیلیں عرش سے لٹکی ہوں گی۔ وہ جنت میں جہاں سے چاہیں گی کھائیں گی۔ پھر وہ ان قندیلوں کی طرف لوٹیں گی ان کا رب ان کی طرف جھانک کر دیکھے گا اور فرمائے گا کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے؟ وہ کہیں گی ہمیں اور کیا چاہیے؟ ہم تو جنت میں جہاں سے چاہتے ہیں کھاتے ہیں۔ وہ ان سے تین مرتبہ فرمائے گا جب وہ دیکھیں گے کہ ان کو سوال سے چھٹکارا نہیں تو وہ کہیں گے۔ اے رب ہم چاہتے ہیں کہ ہماری روحیں ہمارے بدنوں میں لوٹا دے تاکہ ہم تیری راہ میں ایک بار پھر قتل ہوں پس جب اس نے دیکھا کہ انہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں تو انہیں چھوڑ دیا گیا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبیﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا لوگوں میں کون افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا وہ شخص جو اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کرتا ہے۔ اس نے عرض کیا پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا وہ مومن جو گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں اپنے رب کی عبادت کرتا ہے اور لوگوں کو اپنے شر سے بچاتا ہے۔
حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! لوگوں میں سے کون افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا وہ مومن جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور اپنے مال سے جہاد کرتا ہے۔ اس نے عرض کیا پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا وہ شخص جو گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں علیحدہ ہوکر اپنے رب کی عبادت کرتا ہے اور لوگوں کو اپنے شر سے بچاتا ہے۔ ایک اور روایت میں (ثُمَّ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِیْ شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ کی بجائے) وَرَجُلٌ فِیْ شِعَبٍ کے الفاظ ہیں اور ثُمَّ رَجُلٌ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ لوگوں میں سے بہترین زندگی اس شخص کی ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے اس کی پیٹھ پر بیٹھے اللہ کی راہ میں اُڑا جاتا ہے۔ جب بھی وہ شور یا خوف کی آواز سنتا ہے تو (اس گھوڑے) پر قتل ہونے اور مرنے کی جگہ کی طلب میں اڑ کر جاتا ہے۔ یا وہ شخص جو اپنی بکریوں کے ساتھ کسی پہاڑ کی چوٹی پر یا ان وادیوں میں سے کسی وادی میں ہوتا ہے۔ وہ نماز قائم کرتا ہے اور زکوٰۃ دیتا ہے اور اپنے رب کی عبادت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے موت آجاتی ہے اسے لوگوں کے ساتھ سوائے خیر کے کوئی غرض نہیں۔ ایک اور روایت میں (فِیْ رَأْسِ شَعَفَۃٍ مِنْ ہَذِہِ الشَّعَفِ کی بجائے) فِیْ شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان دو اشخاص پر خوش ہوتا ہے جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے اور وہ دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اس پر لوگوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! وہ کیسے؟ آپؐ نے فرمایا ان میں سے ایک اللہ عزوجل کی راہ میں لڑتا ہے اور شہید ہو جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ قاتل پر فضل کرتا ہے اور وہ اسلام قبول کرتا ہے اور اللہ عزوجل کی راہ میں لڑتا ہے اور شہید ہو جاتا ہے۔
ہمام بن منبہ بیان کرتے ہیں کہ یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیں۔ پھر انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ ان دو اشخاص پر خوش ہوتا ہے جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے اور وہ دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! وہ کیسے؟ آپؐ نے فرمایا یہ شخص قتل ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ دوسرے پر رجوع برحمت ہوتا ہے۔ اور اس کی اسلام کی طرف راہنمائی کرتا ہے پھر وہ اللہ کی راہ میں لڑتا ہے اور شہید ہو جاتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کافر اور اس کا قاتل کبھی آگ میں اکٹھے نہیں ہوں گے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا دو شخص جہنم میں ہرگز اکٹھے نہ ہوں گے کہ جن میں سے ایک (دنیا میں) دوسرے کو نقصان پہنچاتا ہو۔ عرض کیا گیا یا رسولؐ اللہ! وہ کون ہیں؟ آپؐ نے فرمایا ایک مومن جو کسی کافر کو قتل کرتا ہے پھر اپنے اعمال درست رکھتا ہے۔
حضرت ابو مسعود انصاریؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک شخص اپنی اونٹنی لایا جس کو نکیل ڈالی ہوئی تھی اور کہا یہ اللہ کی راہ میں (پیش) ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کے عوض میں قیامت کے دن تمہارے لئے سات سو اونٹنیاں ہوں گی۔ ہر ایک کو نکیل ڈالی ہوئی ہوگی۔