بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 129 hadith
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کو جب ابو سفیان کے آنے کی خبر ملی تو آپؐ نے مشورہ کیا۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابو بکرؓ نے گفتگو کی آپؐ نے ان سے اعراض فرمایا پھر حضرت عمرؓ نے گفتگو کی۔ آپؐ نے ان سے (بھی) اعراض فرمایا پھر حضرت سعد بن عبادہؓ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے یا رسولؐ اللہ! آپؐ ہم سے مشورہ طلب کرتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر آپؐ ہمیں سمندر میں گھوڑے ڈالنے کا حکم دیں تو ہم انہیں ڈال دیں گے اور اگر آپؐ ہمیں برک الغماد تک ان کے جگر مارنے کا حکم دیں تو ہم ایسا ضرور کریں گے۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے لوگوں کو بلایا وہ چلے یہا ں تک کہ بدر میں اُترے اور وہاں قریش کے پانی لانے والے آئے اور ان میں بنو حجاج کا ایک سیاہ لڑکا بھی تھا۔ انہوں نے اسے پکڑا۔ رسول اللہﷺ کے صحابہؓ اس سے ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے بارہ میں پوچھتے رہے۔ وہ کہتا مجھے ابو سفیان کے بارہ میں کچھ علم نہیں لیکن یہ ابو جہل اور عتبہ اور شیبہ اور امیّہ بن خلف ہیں۔ جب اس نے یہ کہا تو انہوں نے اسے مارا اس نے کہا اچھا میں تمہیں بتاتا ہوں یہ ہے ابو سفیان! جب انہوں نے اسے چھوڑا اور اس سے پوچھا تو اس نے کہا مجھے ابو سفیان کا کوئی علم نہیں۔ لیکن یہ ابو جہل اور عتبہ اور شیبہ اور امیّہ بن خلف لوگوں میں موجود ہیں۔ جب اس نے ایسا کہا تو انہوں نے اسے مارا۔ رسول اللہﷺ اس وقت کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ جب آپؐ نے یہ صورت دیکھی تو سلام پھیرا اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب وہ تم سے سچ بولتا ہے تو مارتے ہو اور جب وہ تم سے جھوٹ بولتا ہے تو چھوڑ دیتے ہو۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ فلاں کے گرنے کی جگہ ہے۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھتے تھے یہاں، یہاں، راوی کہتے ہیں ان میں سے کوئی اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہیں ہٹا۔ جہاں رسول اللہﷺ نے ہاتھ سے نشاندہی کی تھی۔
عبد اللہ بن رباح سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ کئی وفود حضرت امیر معاویہؓ کے پاس گئے اور یہ رمضان کا واقعہ ہے۔ (راوی کہتے ہیں) ہم میں سے بعض دوسروں کے لئے کھانا تیار کرتے اور ابو ہریرہؓ اکثر ہمیں اپنے ڈیرہ کی طرف بلاتے۔ میں نے کہا کیا میں بھی کھانا تیار کرکے انہیں اپنے ڈیرہ کی طرف نہ بلاؤں۔ میں نے کھانے کی تیاری کا حکم دیا پھر شام کو میں حضرت ابو ہریرہؓ سے ملا میں نے کہا آج رات کی دعوت میرے ہاں ہے۔ انہوں نے کہا تم مجھ سے سبقت لے گئے ہو۔ میں نے کہا ہاں میں نے ان کو بلایا تو حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا اے گروہِ انصارؓ ! کیا میں تمہیں تمہاری باتوں میں سے ایک بات نہ بتاؤں؟ پھر انہوں نے فتح مکہ کا ذکر کیا اور کہا رسول اللہ ﷺ تشریف لائے یہانتک کہ مکہ میں داخل ہوئے تو حضرت زبیرؓ کو لشکر کے ایک پہلو پر اور حضرت خالد بن ولید ؓ کو لشکر کے دوسرے پہلو پر مقرر فرمایا اور حضرت ابو عبیدہؓ کو ان لوگوں پر جو پیادہ تھے مقرر فرمایا۔ وہ گھاٹی میں اُترے اور رسول اللہ ﷺ ایک دستہ میں تھے۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے نظر دوڑائی اور مجھے دیکھا اور فرمایا ابو ہریرہؓ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں حاضر ہوں۔ آپؐ نے فرمایا میرے پاس انصاری کے سوا کوئی نہ آئے مزید فرمایا شیبان اور راوی نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا میرے پاس انصار کو بلاؤ۔ وہ کہتے ہیں وہ آپؐ کے ارد گرد جمع ہو گئے اور قریش نے اپنے گروہ اور ساتھی اکٹھے کئے اور انہوں نے کہا ہم ان لوگوں کو آگے کرتے ہیں اگر انہیں کچھ ملا تو ہم بھی ان کے ساتھ شریک ہوں گے اور اگر انہیں کوئی نقصان پہنچا تو جو ہم سے کہا جائے گا ہم دیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ تم قریش کے گروہ اور ان کے ساتھیوں کو دیکھتے ہو‘‘ پھر آپؐ نے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مارتے ہوئے فرمایا ’’یہانتک کہ تم مجھے صفا پر ملو ‘‘ راوی کہتے ہیں پھر ہم چلے اور ہم میں سے جو بھی کسی کو مارنا چاہتا مار ڈالتا اور ان میں سے کوئی بھی ہمارا مقابلہ نہ کرسکتا۔ وہ کہتے ہیں ابو سفیان آیا اور اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! قریش کا سبزہ تباہ کردیا گیا آج کے بعد قریش نہ ہوں گے۔ پھر آپؐ نے فرمایا ’’ جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوا تو وہ امن میں ہے‘‘۔ انصار ایک دوسرے سے کہنے لگے اس شخص پر اپنے وطن کی محبت اور اپنے قبیلہ کی رافت آگئی ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں اور وحی نازل ہوئی اور جب وحی آتی تھی تو ہم پر مخفی نہ رہتی تھی۔ پس جب وہ آتی تو ہم میں سے کوئی بھی رسول اللہ ﷺ کی طرف نظر نہ اٹھاتا تھا یہاں تک کہ وحی ختم ہوگئی اور جب وحی ختم ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ اے گروہِ انصار‘‘ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! حاضر ہیں آپؐ نے فرمایا تم نے کہا ہے اس شخص پر وطن کی محبت آگئی ہے۔ انہوں نے کہا ایسے ہی ہے۔ آپؐ نے فرمایا ہرگز نہیں میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ میں نے اللہ کی طرف اور تمہاری طرف ہجرت کی اب (میری) زندگی تمہاری زندگی اور (میری) موت تمہاری موت ہے۔ پس وہ روتے ہوئے آپؐ کی طرف بڑھے اور کہنے لگے اللہ کی قسم !ہم نے جو بھی کہا وہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت اور آپؐ سے علیحدگی کے ڈر سے کہا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یقینا اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں پھر لوگ ابو سفیان کے گھر کی طرف جانے لگے اور لوگوں نے اپنے اپنے دروازے بند کر لئے۔ راوی کہتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے یہانتک کہ حجرِ اسود تک تشریف لائے اور اسے بوسہ دیا پھر بیت اللہ کا طواف کیا۔ راوی کہتے ہیں پھر بیت اللہ کے ایک طرف بتوں کے پاس جس کی وہ (اہلِ مکہ) عبادت کرتے تھے آئے اور رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں کمان تھی آپؐ کمان کا کونا پکڑے ہوئے تھے۔ جب آپؐ بُت کے پاس آئے تو اس کی آنکھ میں مارنے لگے اور فرمانے لگے حق آگیا اور باطل بھاگ گیا۔ جب حضورؐ اپنے طواف سے فارغ ہوئے تو صفا پر آئے اور اس پر چڑھے یہانتک کہ بیت اللہ کی طرف دیکھا اور اپنے دونوں ہاتھ اُٹھائے اور اللہ کی حمد کرنے لگے اور اللہ سے جو چاہا مانگنے لگے۔ ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے کہ پھر آپؐ نے ایک ہاتھ دوسرے پر رکھا اور فرمایا انہیں کاٹ کر رکھ دو اور اس روایت میں (قَالُوْا قَدْ کَانَ ذَاکَ قَالَ کَلَّا اِنِّی عَبْدُاللّٰہِ وَرَسُوْلُہُ کی بجائے) قَالُوْا قُلْنَا ذَاکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ فَمَا اسْمِیْ اِذًا کَلَّا اِنِّی عَبْدُاللّٰہِ وَرَسُوْلُہُ کے الفاظ ہیں۔ یعنی انصارؓ نے یہ بتایا، یا رسولؐ اللہ ! آپؐ نے فرمایا پھر میرا نام کیا ہوگا؟ ہر گز نہیں میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسولؐ ہوں۔
حضرت عبد اللہ بن رباحؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم معاویہ بن ابو سفیان کی طرف گئے اور ہمارے ساتھ حضرت ابو ہریرہؓ بھی تھے۔ ہم میں سے ہر شخص ایک دن اپنے ساتھیوں کے لئے کھانا بناتا تھا۔ میری باری آئی تو میں نے کہا اے ابو ہریرہؓ آج میری باری ہے۔ وہ سب گھر آئے۔ ابھی ہمارا کھانا تیار نہیں ہوا تھا میں نے کہا اے ابو ہریرہؓ آپ رسول اللہ ﷺ کی کوئی بات سنائیں یہاں تک کہ ہمارا کھانا تیار ہوجائے۔ انہوں نے کہا ہم فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپؐ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو دائیں جانب اور حضرت زُبیرؓ کو بائیں جانب اور حضرت ابو عبیدہؓ کو پیادہ لوگوں اور وادی کے نشیب کا سردار بنایا اور فرمایا اے ابو ہریرہ انصار کو میرے پاس بلاؤ میں نے انہیں بلایا۔ وہ دوڑتے ہوئے آئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اے گروہِ انصار! کیا تم قریش کی جماعت کو دیکھتے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں۔ آپؐ نے فرمایا کل جب تمہاری ان سے مڈھ بھیڑ ہو تو انہیں کاٹ کر رکھ دینا اور آپؐ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور فرمایا تمہارے وعدہ کی جگہ صفا ہے۔ راوی کہتے ہیں تو اس دن جو بھی انہیں ملا انہوں نے اسے سلا دیا راوی کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ صفا پر چڑھے انصار آئے اور صفا کو گھیرے میں لے لیا۔ پھر ابو سفیان آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ! قریش کا سبزہ تباہ کر دیا گیا۔ آج کے بعد قریش نہ ہونگے۔ ابو سفیان کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص ابو سفیان کے گھر داخل ہوگا وہ امن میں آجائے گا۔ اور جس نے ہتھیار ڈال دئیے وہ (بھی) امن میں آجائے گا اور جو اپنا دروازہ بند کر لے وہ (بھی) امن میں ہے۔ انصار نے کہا اس شخص کو اپنے قبیلہ کی محبت اور اپنی بستی کی محبت نے پکڑ لیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوئی۔ آپؐ نے فرمایا تم نے کہا تھا کہ اس شخص کو اپنے قبیلہ کی محبت اور اپنی بستی کی رغبت نے پکڑ لیا ہے غور سے سنو پھر میرا نام کیا ہو گا؟ تین مرتبہ فرمایا۔ میں محمدؐ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی میری زندگی تمہاری زندگی کے ساتھ اور میری موت تمہاری موت کے ساتھ وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم ہم نے یہ بات اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں کہی تھی اور آپؐ سے علیحدگی کے ڈر سے کہی۔ آپؐ نے فرمایا اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں۔
حضرت عبد اللہ ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں نبی ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور کعبہ کے گرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے۔ آپؐ ہر ایک کو اس لکڑی سے جو آپؐ کے ہاتھ میں تھی مارتے اور فرماتے حق آگیا اور باطل بھاگ گیا یقینا باطل بھاگ جانے والا ہے۔ حق آچکا ہے اور باطل نہ تو (کوئی ) آغاز کر سکتا ہے۔ اور نہ (اسے) دہرا سکتا ہے ابن ابی عمر نے مزید کہا فتح کے دن۔ ابن ابی نجیح سے اسی سند سے زھوقاً تک روایت ہے۔ اور وہ دوسری آیت کا ذکر نہیں کرتے۔ اور انہوں نے نُصُباً کے بجائے صَنَمًا کہا ہے۔
عبد اللہ بن مطیع اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میں نے نبی ﷺ سے سنا آپؐ نے فتح مکہ کے دن فرمایا آج سے لے کر قیامت تک کوئی قریشی باندھ کر قتل نہ کیا جائے گا۔ ایک اور روایت میں یہ مزید ہے کہ قریش کے عاصی نام کے آدمیوں میں سے مطیع کے علاوہ کوئی شخص مسلمان نہ ہوا۔ اس کا نام عاصی تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام مطیع رکھا۔
ابو اسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت براء بن عازبؓ سے سنا وہ کہتے تھے وہ صلح نامہ جو نبی ﷺ اور مشرکوں کے درمیان حدیبیہ کے دن طے پایا۔ حضرت علیؓ نے لکھا تھا۔ انہوں نے لکھا یہ وہ معاہدہ ہے جو محمدؐ رسول اللہ نے لکھوایا۔ انہوں (کفار) نے کہا رسولؐ اللہ کا لفظ نہ لکھیں۔ اگر ہم جانتے کہ آپ رسولؐ اللہ ہیں تو آپؐ سے نہ لڑتے۔ نبی ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا اسے مٹا دو۔ انہوں نے کہا میں اس کو کس طرح مٹا سکتا ہوں۔ نبی ﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے اسے مٹا دیا۔ راوی کہتے ہیں ان شرطوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ وہ (مسلمان) مکہ آئینگے اور تین دن وہاں ٹھہرینگے اور کوئی اسلحہ لے کر وہاں داخل نہ ہوگا۔ سوائے اس ہتھیار کے جو میان میں ہوں۔ راوی کہتے ہیں میں نے ابو اسحاق سے کہا جُلُبَّانُ السِّلََاحِ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا میان اور جو اس کے اندر ہو۔ ابو اسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت براء بن عازبؓ سے سنا وہ کہتے تھے جب رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ والوں سے صلح کی تو حضرت علیؓ نے ان کے درمیان تحریر لکھی۔ وہ کہتے تھے انہوں نے لکھا محمد رسول اللہ پھر باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے مگر اس میں یہ ذکر نہیں کہ یہ وہ معاہدہ ہے جو (آپؐ) نے لکھوایا۔
حضرت براءؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جب نبی ﷺ کو بیت اللہ سے روکا گیا تو اہل مکہ نے اس بات پر مصالحت کی کہ وہ اس میں داخل ہوں اور تین دن وہاں ٹھہریں اور اس طرح داخل ہوں کہ ہتھیار غلافوں میں ہوں یعنی تلوار اور اس کی میان اور اس کے باشندوں میں سے کسی کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں اور جو آپؐ کے ساتھ ہیں ان میں سے جو ٹھہرنا چاہے اسے منع نہ کریں۔ آپؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا ’’ہمارے درمیان (طے پانے والی) شرائط لکھو۔ اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت رحم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ یہ وہ ہے جس پر محمدؐ رسول اللہ نے صلح کی ہے۔ مشرکوں نے آپؐ سے کہا ’’اگر ہم جانتے کہ آپؐ رسول اللہ ہیں تو ہم آپ کی پیروی کرتے، نہیں بلکہ لکھو محمدؐ بن عبد اللہ۔ آپؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا اسے مٹا دو۔ حضرت علیؓ نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم! میں اسے کس طرح مٹا سکتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے اس کی جگہ دکھاؤ۔ انہوں نے اس کی جگہ دکھائی تو آپؐ نے اسے مٹا دیا اور لکھا ابن عبد اللہ۔ آپؐ اس (مکہ) میں تین دن ٹھہرے۔ جب تیسرا دن ہوا انہوں (مکہ والوں) نے حضرت علیؓ سے کہا تمہارے صاحب کی شرط کا یہ آخری دن ہے۔ ان سے کہیے کہ (آج) آپؐ چلے جائیں۔ انہوں نے یہ بات آپؐ کو بتائی۔ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ چنانچہ آپؐ تشریف لے گئے۔ ایک اور روایت میں (تَابَعْنَاکَ کی بجائے) بَایَعْنَاکَ کے الفاظ ہیں۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ قریش نے نبی ﷺ سے صلح کی۔ ان میں سہیل بن عمرو بھی تھا۔ نبی ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا لکھو بسم اللہ الرحمان الرحیم سہیل نے کہا بسم اللہ تو ٹھیک ہے مگر ہم نہیں جانتے کہ بسم اللہ الرحمان الرحیم کیا ہے؟ اس لئے وہ لکھیں جو ہم جانتے ہیں۔ باسمک اللھم۔ آپؐ نے فرمایا لکھو محمدؐ رسول اللہ کی طرف سے۔ انہوں نے کہا اگر ہم مانتے کہ آپ(ﷺ) اللہ کے رسول ہیں تو ہم ضرور آپؐ کی پیروی کرتے۔ اس لئے اپنا اور اپنے والد کا نام لکھئے تو نبی ﷺ نے فرمایا ’’ لکھو محمدؐ بن عبد اللہ کی طرف سے ‘‘ پھر انہوں نے نبی ﷺ کے سامنے یہ شرائط رکھیں کہ جو شخص تم میں سے ہماری طرف آئے گا ہم اسے واپس نہیں کریں گے اور جو تمہارے پاس (ہماری طرف سے) آئے گا تو تم اس کو ہماری طرف لوٹاؤ گے۔ انہوں (صحابہؓ) نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا ہم یہ لکھیں؟ آپؐ نے فرمایا ہاں کیونکہ جو ہم میں سے ان کی طرف جائے گا تو اللہ نے اسے دور کر دیا اور جو ان میں سے ہمارے پاس آئے گا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کے لئے کوئی نہ کوئی کشائش اور نکلنے کی راہ بنا دے گا۔
ابو وائل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں صفین کے دن حضرت سہل ؓ بن حنیف کھڑے ہوئے اور کہا اے لوگو اپنے آپ کو بے قصور نہ ٹھہراؤ۔ ہم حدیبیہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ اگر ہم لڑنا چاہتے تو لڑتے اور یہ اس صلح کے بارہ میں ہے جو رسول اللہ ﷺ اور مشرکوں کے درمیان ہوئی۔ حضرت عمرؓ بن خطاب آئے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں؟ آپؐ نے فرمایا کیوں نہیں! انہوں نے کہا کیا ہمارے مقتول جنتی اور ان کے مقتول جہنمی نہیں ہیں؟ آپؐ نے فرمایا کیوں نہیں! انہوں نے کہا ہم کیوں اپنے دین سے متعلق ذلت قبول کریں اور ہم لوٹ جائیں۔ جبکہ ابھی تک اللہ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا۔ آپؐ نے فرمایا اے خطاب کے بیٹے! میں اللہ کا رسولؐ ہوں اور اللہ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمرؓ چلے گئے مگر جوش کی حالت میں صبر نہ کر سکے۔ وہ حضرت ابو بکرؓ کے پاس آئے اور کہا اے ابو بکرؓ کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں؟ انہوں (حضرت عمرؓ) نے کہا کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ انہوں (حضرت عمرؓ) نے کہا تو پھر ہم اپنے دین کے بارہ میں ذلت کیوں قبول کریں اور ہم لوٹ جائیں حالانکہ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا۔ انہوں (حضرت ابو بکرؓ) نے کہا اے خطاب کے بیٹے وہ اللہ کے رسولؐ ہیں اور اللہ انہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ راوی کہتے ہیں پھر رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل ہوا۔ جس میں فتح (کا ذکر) ہے۔ آپؐ نے حضرت عمرؓ کو بلا بھیجا اور انہیں یہ سورت پڑھائی۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! کیا یہ فتح ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں تو ان کا دل خوش ہو گیا اور وہ واپس لوٹے۔
شقیق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت سہلؓ بن حنیف سے سنا انہوں نے صفین کے مقام پر کہا اے لوگو! اپنی رائے کو الزام دو اللہ کی قسم! میں اپنے آپ کو ابو جندل والے دن دیکھ رہا ہوں۔ اگر میں طاقت رکھتا کہ رسول اللہ ﷺ کے حکم کو رد کر دوں تو میں ضرور اس کو رد کر دیتا۔ اللہ کی قسم! ہم نے کبھی اپنی تلواریں اپنے کندھوں پر کسی غرض سے نہیں رکھیں مگر وہ ہمیں سہولت سے اس امر کی طرف لے گئیں جو ہمیں مانوس تھا سوائے تمہارے اس امر کے۔ ایک اور روایت میں اِلَی أَمْرٍ قَطُّ کے الفاظ نہیں ہیں۔ ایک اور روایت میں (اِلَی أَمْرٍ قَطُّ کی بجائے) اِلَی أَمْرٍ یُفْظِعُنَا کے الفاظ ہیں۔