بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 129 hadith
حضرت ام عطیہؓ انصاریہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں میں رسول اللہﷺ کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہوئی۔ میں ان کے پیچھے ان کے پڑاؤ میں رہتی اور ان کے لئے کھانا بناتی اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی اور بیماروں کی خدمت کرتی۔
ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ
ابو اسحاق سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن یزید لوگوں کے ساتھ استسقاء کی نماز کے لئے نکلے انہوں نے دو رکعت (نماز) پڑھی پھر بارش کے لئے دعا مانگی۔ راوی نے کہا میں اس دن حضرت زید ؓ بن ارقم سے ملا اور انہوں نے کہا میرے اور ان کے درمیان ایک کے سوا کوئی شخص نہیں تھا یا (کہا) میرے اور ان کے درمیان ایک شخص تھا۔ وہ کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا رسول اللہ ﷺ نے کتنے غزوات کئے ؟ انہوں نے کہا انیس۔ میں نے کہا آپ حضور ﷺ کے ساتھ کتنے غزوات میں شامل تھے ؟ انہوں نے کہا سترہ غزوات۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا پہلا کونسا تھا ؟ انہوں نے کہا ذات العُسیر یا العُشیر۔
حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انیس غزوات کئے اور ہجرت کے بعد ایک ہی حج کیا یعنی حَجۃ الوَداع۔ اس کے علاوہ آپؐ نے کوئی حج نہیں کیا۔
ابو الزبیر کہتے ہیں انہوں نے حضرت جابرؓ بن عبد اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ انیس غزوات میں شامل ہوا۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں میں بدر اور احد میں شامل نہیں ہوا۔ مجھے میرے باپ نے منع کیا تھا۔ جب احد کے دن حضرت عبد اللہؓ شہید ہوئے تو پھر میں رسول اللہ ﷺ سے کسی غزوہ میں کبھی پیچھے نہیں رہا۔
عبد اللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انیس غزوات کئے جن میں سے آٹھ میں لڑائی ہوئی۔ راوی ابو بکر نے مِنْھُنَّ کا لفظ نہیں بولا۔
یزید سے روایت ہے اور وہ ابن ابی عبید ہیں وہ کہتے ہیں میں نے حضرت سلمہؓ کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں سات غزوات کئے اور جو آپؐ نے لشکر بھیجے، ان میں سے نو کے ساتھ میں نکلا، ایک دفعہ ہمارے امیر حضرت ابو بکرؓ اور ایک دفعہ ہمارے امیر اسامہ بن زیدؓ تھے۔ ایک اور روایت میں دونوں جگہ سات سات (غزوات) کا ذکر کیا ہے۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم ایک غزوہ کے لئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہم چھ آدمیوں کیلئے ایک اونٹ تھا ہم اس پر باری باری سواری کرتے تھے وہ کہتے ہیں ہمارے پاؤں زخمی ہوگئے اور میرے بھی دونوں پاؤں زخمی ہوگئے اور میرے ناخن جھڑ گئے اور ہم اپنے پاؤں پر کپڑے کے ٹکڑے لپیٹتے تھے اس لئے اس کا نام غزوئہ ذات الرقاع رکھا گیا کیونکہ ہم نے اپنے پیروں پر کپڑے کے ٹکڑے باندھے تھے۔ ابو بردہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ ؓ نے یہ روایت بیان کردی۔ پھر انہوں نے اسے ناپسند کیا۔ ابو بردہ کہتے ہیں گویا انہوں (ابو موسیٰ ؓ) نے یہ ناپسند کیا کہ انہوں نے اپنے عمل کی تشہیر کردی ہے۔ ابو اسامہ کہتے ہیں کہ برید کے علاوہ راوی نے یہ مزید بتایا کہ اللہ اس کو اس کی جزا دے گا۔
نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ بدر کی طرف نکلے جب آپؐ حرۃ الوبرہ پہنچے تو آپؐ کو ایک شخص ملا جس کی جرأت اور بہادری کا ذکر کیا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ نے جب اسے دیکھا تو بہت خوش ہوئے جب وہ آپؐ سے ملا تو اس نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا میں آپؐ کے ساتھ جانے اور آپؐ کے ساتھ حصہ پانے کے لئے آیا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہو؟ اس نے کہا نہیں آپؐ نے فرمایا واپس چلے جاؤ کیونکہ میں کسی مشرک سے مدد نہیں لوں گا وہ کہتی ہیں وہ چلا گیا یہاں تک کہ جب ہم شجرہ پہنچے وہ شخص پھر آپؐ کو ملا۔ اس شخص نے آپؐ کو پایا اور ویسا ہی کہا جیسا پہلی مرتبہ کہا تھا۔ نبی ﷺ نے اُسے ویسا ہی فرمایا جیسے پہلے فرمایا تھا۔ آپؐ نے فرمایا لوٹ جاؤ میں کسی مشرک سے مدد نہیں لوں گا۔ پھر وہ لوٹا اور آپؐ کو بیداء میں ملا تو آپ ﷺ نے اُسے فرمایا جیسے پہلے فرمایا تھا کہ کیا تم اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لاتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں تو رسول اللہ ﷺ نے اُسے فرمایا تو اب چلو۔