وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلاَنِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ أَرَأَيْتَ يَا عَاصِمُ لَوْ أَنَّ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَسَلْ لِي عَنْ ذَلِكَ يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا . قَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لاَ أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا . فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
ابن شہاب سے روایت ہے کہ انہیں سہل بن سعد ساعدی نے بتایا کہ حضرت عویمر عجلانیؓ، حضرت عاصمؓ بن عدی انصاری کے پاس آئے اور انہوں نے ان سے کہا اے عاصم! تمہارا کیا خیال ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے کیا وہ اسے قتل کر دے؟ پھر تم لوگ اسے قتل کر دو گے یا وہ کیا کرے؟ اے عاصم! تم میرے لئے رسول اللہ ﷺ سے پوچھو۔ عاصم نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے ایسے سوالات کو ناپسند فرمایا اور ان کو بُرا قرار دیا یہانتک کہ عاصم پر وہ بات جو اس نے رسول اللہ ﷺ سے سنی گراں گذری۔ جب عاصم اپنے گھر والوں کی طرف واپس آئے تو ان کے پاس عویمر آئے اور انہوں نے کہا اے عاصم! رسول اللہ ﷺ نے تمہیں کیا فرمایا؟ عاصم نے عویمر سے کہا تم میرے پاس کوئی بھلائی نہیں لائے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سوال کو جو میں نے آپؐ سے پوچھا ناپسند فرمایا ہے۔ عویمر نے کہا اللہ کی قسم! میں نہیں رُکوں گا یہانتک کہ آپؐ سے اس کے بارہ میں پوچھ نہ لوں۔ پس عویمر آئے اور لوگوں کے درمیان رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے اور انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! آپؐ اس شخص کے بارہ میں فرمائیے جو اپنی عورت کے پاس کسی اور شخص کو پاتا ہے کیا وہ اسے قتل کردے؟ اور پھر آپ لوگ اسے قتل کر دیں یا وہ کیا کرے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرے اور تیری بیوی کے بارہ میں (حکم) نازل ہوا ہے جاؤ اور اسے لے آؤ۔ سہل کہتے ہیں پھر ان دونوں نے لعان کیا اور میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا۔ پس جب دونوں فارغ ہوئے۔ عویمر نے کہا یا رسولؐ اللہ! اگر میں اسے روک رکھوں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ بولا۔ پھر قبل اس کے کہ رسول اللہ ﷺ اسے حکم دیں اس نے اسے تین طلاقیں دے دیں۔ ابن شہاب کہتے ہیں تو پھر دو لعان کرنے والوں کے لئے سنت ہوگئی۔
ایک اور روایت میں (جَائَ کی بجائے) اَتَی کے الفاظ ہیں اور (اَلْعَجْلَانِیَّ کی بجائے) مِنْ بَنِیْ الْعَجْلَانِ کے الفاظ ہیں۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس میں راوی نے یہ بات شامل کر دی ہے کہ پھر مرد کی عورت سے جدائی لعان کرنے والوں کے لئے سنت ٹھہری اور اس میں مزید یہ بھی ہے کہ سہل کہتے ہیں وہ حاملہ تھی اور اس کے بیٹے کو اس کی ماں کی نسبت سے پکارا جاتا تھا پھر یہ سنت جاری ہوئی کہ وہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور وہ اس کی وارث ہوگی اس میں جو اللہ نے اس کے لئے مقرر کیا ہے۔ ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابن شہاب نے دو لعان کرنے والوں کے بارہ میں جو سنت ہے حضرت سہل بن سعد ؓ جو بنی ساعدہ میں سے تھے کی (بیان کردہ) حدیث کی بنا پر بتایا کہ انصار کا ایک شخص نبی
أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ . وَزَادَ فِيهِ فَتَلاَعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ . وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
ذَاكُمُ التَّفْرِيقُ بَيْنَ كُلِّ مُتَلاَعِنَيْنِ
.
ﷺ
کے پاس آیا اور اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! آپؐ کا اس شخص کے بارہ میں کیا ارشاد ہے جو اپنی بیوی کے پاس ایک شخص کو پاتا ہے اور راوی نے سارا قصہ بیان کیا اور اس میں یہ مزید بیان کیا کہ انہوں نے مسجد میں لعان کیا تھا اور میں موجود تھا اور روایت میں ہے کہ اس نے اس (عورت) کو تین طلاقیں قبل اس کے کہ رسول اللہ
ﷺ
اس کو ارشاد فرماتے دیں پھر نبی
ﷺ
کی موجودگی میں انہوں نے اس کو چھوڑ دیا۔ نبی
ﷺ
نے فرمایا تمام لعان کرنے والوں کے لئے یہ جدائی ہے۔
سعید بن جبیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھ سے مصعب کے زمانہ میں لعان کرنے والوں کا مسئلہ پوچھا گیا کیا ان دونوں کے درمیان جدائی ڈالی جائے گی؟ انہوں نے کہا میں نہیں جانتا کہ کیا کہوں؟ تو میں مکّہ میں حضرت ابن عمرؓ کے مکان پر گیا اور خادم سے کہا میرے لئے اجازت لو۔ اس نے کہا وہ قیلولہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے میری آواز سنی۔ انہوں نے کہا ابن جبیر؟ میں نے کہا ہاں۔ انہوں نے کہا اندر آ جاؤ، اللہ کی قسم! تم اس وقت صرف کسی ضرورت کے لئے ہی آئے ہو۔ میں داخل ہوا وہ ایک کمبل بچھائے تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ میں نے کہا اے عبدالرحمان! کیا لعان کرنے والوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی۔ انہوں نے کہا اللہ پاک ہے ہاں، یقینا وہ پہلا شخص جس نے اس بارے میں سوال کیا وہ فلاں بن فلاں تھا۔ اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! آپؐ کا کیا ارشاد ہے اگر ہم میں سے کوئی اپنی عورت کو بے حیائی کرتے دیکھے تو وہ کیا کرے؟ اگر وہ بات کرے تو بہت بُری بات کرتا ہے اور اگر خاموش رہے تو اس جیسی بات پر خاموش رہتا ہے۔ نبی ﷺ خاموش رہے اور اسے جواب نہ دیا۔ جب اس کے بعد وہ آپؐ کے پاس آیا تو اس نے کہا جس بات کے بارہ میں نبی ﷺ سے پوچھا تھا میں ہی اس میں مبتلاء ہوں تو اللہ تعالیٰ نے سورہ النور میں یہ آیات نازل فرمائیں۔ وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَھُمْ اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں۔ آپؐ نے یہ آیات اس کے سامنے پڑھیں اور اس کو وعظ اور نصیحت کی اور اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے آسان ہے۔ اس نے کہا نہیں اس ذات کی قسم ! جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے اس پر جھوٹ نہیں باندھا۔ پھر آپؐ نے اس (عورت) کو بلایا اور اسے وعظ و نصیحت کی اور اُسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے آسان ہے۔ اس نے کہا نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے یقینا وہ جھوٹا ہے۔ آپؐ نے مرد سے شروع کیا اس نے اللہ کی قسم کھا کر چار گواہیاں دیں کہ وہ سچا ہے اور پانچویں مرتبہ کہا اس پر لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہے۔ پھر آپؐ نے عورت سے گواہی کے لئے ارشاد فرمایا تو اس نے اللہ کی قسم کھا کر چار گواہیاں دیں کہ یقینا وہ جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ کہا کہ اس( عورت) پر اللہ کا غضب ہو اگر وہ(مرد) سچوں میں سے ہے۔ پھر آپؐ نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروادی۔
ایک اور روایت میں ہے سعید بن جبیر ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے مصعب بن زبیر کے زمانہ میں دو لعان کرنے والوں کے بارہ میں پوچھا گیا تو میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے پاس آیا اور میں نے کہا آپ کا دو لعان کرنے والوں کے بارہ میں کیا خیال ہے ؟ کیا دونوں میں علیحدگی کر دی جائے گی؟۔۔۔ باقی روایت سابقہ روایت کے مطابق ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے دو لعان کرنے والوں سے فرمایا تم دونوں کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ تم دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔ (حضورؐ نے اس مرد کو فرمایا) تیرا اس (عورت) پر کوئی حق نہیں۔ اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! میرا مال؟ آپؐ نے فرمایا تیرا کوئی مال نہیں۔ اگر تو نے اس کے بارہ میں سچ بولا ہے تو وہ مال اس کا بدلہ ہے جو تم نے اس سے ازدواجی تعلق قائم کیا اور اگر تو نے اس کے بارہ میں جھوٹ بولا ہے تو وہ مال تیرے لئے اس سے بھی زیادہ دور ہے۔
سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ اللِّعَانِ . فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے بنی عجلان (قبیلہ) کے جوڑے کے درمیان جدائی کر دی تھی۔ اور فرمایا اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم میں سے کوئی توبہ کرتا ہے ؟
. فَقَالَ فَرَّقَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَخَوَىْ بَنِي الْعَجْلاَنِ .
سعید بن جبیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مصعب نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان جدائی نہیں ڈلوائی۔ سعید کہتے ہیں یہ بات حضرت عبداللہؓ بن عمر سے بیان کی گئی تو انہوں نے کہا نبی ﷺ نے بنی عجلان کے جوڑے میں جدائی ڈلوائی تھی۔
أَنَّ رَجُلاً لاَعَنَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِأُمِّهِ قَالَ نَعَمْ .
یحی کہتے ہیں میں نے مالک سے پوچھا آپ کو نافع نے بتایا ہے کہ حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اپنی عورت سے لعان کیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں میں جدائی ڈال دی اور بچّے کو اس کی ماں سے ملحق کردیا۔ انہوں نے کہا ہاں۔
حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم جمعہ کی رات مسجد میں تھے کہ انصار میں سے ایک شخص آیا اور کہا اگر کوئی شخص اپنی عورت کے پاس کسی شخص کو پائے اور وہ اس بات کو بیان کرے تو تم لوگ اسے کوڑے مارو گے یا اگر وہ قتل کرے تو تم اسے قتل کر دو گے اور اگر وہ خاموش رہے تو غصہ کی حالت میں خاموش رہے گا۔ اللہ کی قسم! میں اس بارہ میں ضرور رسول اللہ ﷺ سے پوچھوں گا۔ جب اگلا دن ہوا تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپؐ سے پوچھا، اس نے کہا اگر کوئی اپنی بیوی کے پاس کسی شخص کو پائے اور وہ بات کو بیان کرے تو آپ اسے کوڑے ماریں گے یا وہ قتل کرے تو آپ اسے قتل کریں گے۔ یا خاموش رہے تو غصہ کی حالت میں خاموش رہے گا۔ آپؐ نے کہا اے اللہ (مجھ پر معاملہ) کھول دے اور آپؐ دعا کرنے لگے تو آیت لعان نازل ہوئی وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَھُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَھُمْ شُھَدَائُ اِلَّا اَنْفُسُھُم۔ ترجمہ: اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس اپنی ذات کے سوا اور کوئی گواہ نہ ہو تو۔۔۔ اور سب لوگوں میں یہی شخص اس آزمائش میں ڈالا گیا۔ وہ اور اس کی بیوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور ان دونوں نے لعان کیا۔ مرد نے اللہ تعالیٰ کی چار قسمیں کھائیں کہ وہ سچا ہے اور پھر اس نے پانچویں بار لعنت کی کہ اس پر اللہ لعنت کرے اگر وہ جھوٹا ہو۔ وہ عورت بھی لعان کرنے لگی۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا سوچ لو، اس نے انکار کیا اور لعنت کی۔ پس جب وہ دونوں واپس چلے گئے ، آپؐ نے فرمایا شاید اس کے کالے رنگ گھنگریالے بالوں والا بچہ ہو۔ پھر اس نے (واقعۃً) وہ کالا گھنگریالے بالوں والا بچہ جنا۔
محمد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت انسؓ بن مالک سے پوچھا اور میرا خیال تھا کہ انہیں اس بارہ میں علم ہے۔ انہوں نے کہا یقینا ہلال بن امیّہ نے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء سے بدکاری کا الزام لگایا اور وہ براء بن مالک کا ماں کی طرف سے بھائی تھا۔ اور وہ پہلا شخص تھا جس نے اسلام میں لعان کیا۔ راوی کہتے ہیں چنانچہ اس نے اس عورت سے لعان کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس پر نظر رکھو۔ اگر وہ سفید رنگ، سیدھے بال اور سرخ آنکھوں والا (بچہ) جنے تو وہ ہلال بن امیّہ کا ہے اور اگر وہ سرمئی آنکھوں، گھنگریالے بالوں پتلی پنڈلیوں والا لائے تو وہ شریک ابن سحماء کا ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر مجھے بتایا گیا کہ اس نے سرمئی آنکھوں گھنگریالے بالوں پتلی ٹانگوں والے بچے کو جنم دیا۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ وَعِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيَّانِ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رُمْحٍ - قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ ذُكِرَ التَّلاَعُنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلاً ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْكُو إِلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ أَهْلِهِ رَجُلاً . فَقَالَ عَاصِمٌ مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلاَّ لِقَوْلِي فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبِطَ الشَّعَرِ وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ خَدْلاً آدَمَ كَثِيرَ اللَّحْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اللَّهُمَّ بَيِّنْ . فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا فَلاَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا فَقَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لاَ تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ فِي الإِسْلاَمِ السُّوءَ . وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لعان کا ذکر ہوا تو عاصم بن عدی نے اس بارہ میں کوئی بات کہہ دی۔ پھر وہ واپس گئے تو ان کے پاس ان کی قوم کا ایک شخص آیا اور ان سے شکایت کرنے لگے کہ اس نے اپنی بیوی کے پاس ایک شخص کو پایا ہے۔ عاصم نے کہا میں اس میں معاملہ میں اپنی بات کی وجہ سے ہی آزمائش میں پڑا ہوں۔ پھر وہ اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئے اور اس نے آپؐ کو اس شخص کے بارہ میں بتایا جسے اس نے اپنی بیوی کے پاس پایا تھا وہ شخص زرد رنگ کا دبلا پتلا، سیدھے بالوں والا تھا اور جس کے خلاف وہ دعوٰی کرتا تھا کہ اس نے اس کو اپنی بیوی کے پاس پایا ہے وہ موٹی پنڈلیوں والا، گندمی رنگ اور موٹا تازہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی اے اللہ! (معاملہ کو) کھول دے۔ پھر اس عورت نے اس شخص سے ملتے جلتے کو جنم دیا جس کا ذکر اس کے خاوند نے کیا تھا کہ اس کو اس نے اس کے پاس پایا ہے رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان لعان کرایا ایک شخص نے حضرت ابن عباسؓ سے ایک مجلس میں کہا کیا یہ وہی عورت ہے جس کے بارہ میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں کسی کو بغیر دلیل کے سنگسار کرتا تو اس عورت کو سنگسار کرتا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا نہیں وہ تو وہ عورت تھی جو اسلام میں علانیہ برائی پھیلاتی تھی۔ ایک اور روایت میں (ذِکْرُ التَّلاعِنِ کی بجائے) ذُکِرَ المُتَلاعِنَانِ کے الفاظ ہیں۔ اسی طرح اس روایت میں کَثِیْرَ اللَّحْم کے بعد جَعْدًا قِطَطًا کے الفاظ ہیں یعنی گھنگریالے بالوں والا۔