بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 297 hadith
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو نماز کے بارہ میں شک ہو اور وہ جانتا نہ ہو کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے تین پڑھی ہیں یا چار تو اسے چاہیے کہ وہ شک کو دور کرے اور یقین پر بنیاد رکھے۔ پھر دو سجدے کرے پہلے اس کے کہ وہ سلام پھیرے اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھیں تو دو سجدے اس کی نماز کو شفع کر دیں گے اور اگر اس نے پوری چار رکعتیں ادا کی ہیں تو وہ دونوں (سجدے) شیطان کے لئے موجبِ ذِلّت ہوں گے۔
حضرت عبداللہؓ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے نماز پڑھائی تو {ابراہیم راوی کی روایت میں ہے} آپؐ نے نماز میں کچھ اضافہ کیا یا اس میں کچھ کمی کی۔ جب آپؐ نے سلام پھیرا تو آپؐ کی خدمت میں عرض کیا گیا یا رسولؐ اللہ! کیا نماز میں کوئی نئی بات ہو گئی ہے؟ آپؐ نے فرمایا کیا بات ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپؐ نے اس اس طرح نماز پڑھائی ہے۔ چنانچہ آپؐ نے اپنے پاؤں موڑے اور قبلہ رُخ ہوئے، دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا اور ہماری طرف اپنا چہرہ پھیرا اور فرمایا کہ اگر نماز میں کوئی نئی بات ہوتی تو میں نے تمہیں اس بارہ میں بتا دیا ہوتا لیکن میں تو ایک بشر ہوں اور میں بھولتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو۔ جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد کرا دیا کرو اور جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارہ میں شک پیدا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ کوشش کر کے حقیقت حال معلوم کرے اور اس کے مطابق (نماز) پوری کرے۔ ابن بشر کی روایت میں فَلْیَنْظُرْ اَحْرَی ذَلِکَ بِالصَّوَابِ کے الفاظ ہیں۔ وکیع کی روایت میں فَلْیَتَحَرَّ الصَّوَابَ کے الفاظ ہیں۔ منصور کی روایت میں (فَلْیَتَحَرَّ الصَّوَبَ) کے بجائے فَلْیَنْظُرْ اَحْرَی ذَلِکَ بِالصَّوَابِ کے الفاظ ہیں۔ شعبہ کی روایت میں فَلْیَتَحَرَّ اَقْرَبَ ذَلِکَ اِلَی الصَّوَابِ کے الفاظ ہیں۔ فضیل بن عیاض کی روایت میں فَلْیَتَحَرَّ الَّذِی یَرَی اَنَّہُ الصَّوَابُ کے الفاظ ہیں۔ عبدالعزیز کی روایت میں فَلْیَتَحَرَّ الصَّوَابَ کے الفاظ ہیں۔ (ان سب کا مفہوم ایک ہی ہے۔)
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ظہر کی نماز کی پانچ رکعتیں پڑھائیں جب آپؐ نے سلام پھیرا تو آپؐ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ کیا نماز کو بڑھا دیا گیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ آپؐ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں۔ چنانچہ آپؐ نے دو سجدے کئے۔
ابراہیم بن سوید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ علقمہ نے ہمیں ظہر کی نماز پانچ رکعتیں پڑھائیں۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو لوگوں نے کہا کہ اے ابو شبل! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھا دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے ہر گز ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں، ایسا کیا ہے۔ میں لوگوں سے ہٹ کر ایک طرف تھا اور لڑکا تھا۔ میں نے بھی کہا کیوں نہیں۔ آپ نے پانچ ہی پڑھائی ہیں۔ انہوں نے مجھے کہا اے اعور! تم بھی یہی کہتے ہو؟ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ ہاں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس پر وہ واپس مڑے اور دو سجدے کئے۔ پھر سلام پھیرا اور کہا کہ حضرت عبداللہؓ نے کہا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھائیں تھیں۔ جب آپؐ نے نماز پڑھا کر (لوگوں کی طرف) رُخ کیا تو لوگوں نے آپس میں باتیں کیں۔ آپؐ نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! کیا نماز میں کچھ اضافہ ہوا ہے؟ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آپؐ نے تو پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ چنانچہ آپؐ واپس مڑے اور دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا اور فرمایا کہ میں بھی تمہاری طرح کا انسان ہوں۔ میں بھولتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو۔ ابن نمیر اپنی روایت میں مزید کہتے ہیں کہ (آپؐ نے فرمایا) جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو اسے چاہیے کہ دو سجدے کر لے۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہﷺ نے پانچ رکعتیں پڑھائیں۔ ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! کیا نماز بڑھا دی گئی ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ کیا بات ہے؟ انہوں نے عرض کیا آپؐ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا میں تو تمہاری طرح ایک بشر ہوں۔ میں یاد رکھتا ہوں جس طرح تم یاد رکھتے ہو اور بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو۔ پھر آپؐ نے دو سجدئہ سہو کئے۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے نماز پڑھائی تو کچھ زیادہ کیا یا کچھ کمی کی۔ راوی ابراہیم کہتے ہیں یہ شک مجھے ہے۔ عرض کیا گیا کہ یا رسولؐ اللہ! کیا نماز میں کچھ اضافہ کیا گیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ میں تو تمہاری طرح ایک بشر ہوں، میں بھولتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو پس جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو اسے چاہیے کہ وہ دو سجدے کرے جبکہ وہ بیٹھا ہوا ہو۔ پھر رسول اللہﷺ نے اپنا رخ موڑا اور دو سجدے کئے۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے سلام پھیرنے اور گفتگو کرنے کے بعد دو سجدئہ سہو کئے۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپؐ نے یا زیادہ نماز پڑھا دی یا کم پڑھائی۔ اور ابراہیم کہتے ہیں خدا کی قسم! یہ بات میری طرف سے ہے۔ وہ (حضرت عبداللہؓ ) کہتے ہیں ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا نماز میں کوئی نئی بات ہوئی ہے؟ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر جو حضورؐ نے کیا تھا وہ ہم نے بتایا تو آپؐ نے فرمایا: جب آدمی (نماز میں) کچھ کمی بیشی کرے تو وہ دو سجدے کرے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر آپؐ نے دو سجدے کئے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہﷺ نے بعد دوپہر کی نمازوں ظہر یا عصر میں سے کوئی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد آپؐ نے سلام پھیر دیا۔ پھر آپؐ ایک تنے کے پاس جو مسجد کے قبلہ کی طرف تھا گئے اور آپؐ نے اس کے ساتھ سہارا لیا اور آپؐ ناراض تھے۔ اور لوگوں میں حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ شامل تھے۔ وہ دونوں ڈرے کہ بات کریں۔ اور جلد جانے والے (یہ کہتے ہوئے) باہر چلے گئے کہ نماز چھوٹی کر دی گئی ہے۔ ذوالیدینؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! کیا نماز چھوٹی ہو گئی ہے یا آپؐ بھول گئے ہیں؟ نبیﷺ نے دائیں اور بائیں نظر دوڑائی اور فرمایا کہ ذوالیدین کیا کہ رہا ہے؟ (لوگوں ) نے عرض کیا کہ یہ ٹھیک کہہ رہا ہے۔ آپؐ نے صرف دو رکعتیں پڑھائی ہیں۔ تو آپؐ نے دو رکعتیں (اور) پڑھائیں اور سلام پھیرا پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر اٹھے۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر سجدہ کیا پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا تو ذوالیدینؓ کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! کیا نماز چھوٹی کر دی گئی ہے یا آپؐ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان میں سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ اس نے کہا کہ ان میں سے ایک بات تو ہوئی ہے یا رسولؐ اللہ! چنانچہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور استفسار فرمایا کہ کیا ذوالیدینؓ درست کہتا ہے؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں یا رسولؐ اللہ! تب رسول اللہ ﷺ نے باقی نماز مکمل فرمائی۔ پھر آپؐ نے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے ہوئے دو سجدے کئے۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا۔ اسی اثناء میں بنی سلیم کا ایک آدمی آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا نماز چھوٹی کر دی گئی ہے یا آپؐ بھول گئے ہیں؟ اور راوی نے پوری روایت بیان کی۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ اس اثناء میں بنی سلیم کا ایک آدمی کھڑا ہوا۔ آگے وہی روایت بیان کی۔