بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 297 hadith
حضرت عمرانؓ بن حصین سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعتوں کے بعد آپؐ نے سلام پھیر دیا۔ پھر آپؐ اپنے گھر تشریف لے گئے۔ آپؐ کی خدمت میں ایک شخص خرباق نامی جس کے ہاتھ لمبے تھے حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! … اور پھر جو آپؐ نے کیا تھا اس کا ذکر کیا۔ چنانچہ آپؐ ناراضگی کے عالم میں اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے گھر سے نکلے یہاں تک کہ لوگوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کیا اس نے سچ کہا ہے؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں یا رسولؐ اللہ! چنانچہ آپؐ نے ایک رکعت پڑھی سلام پھیرا اور دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔
حضرت عمرانؓ بن حصین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے نماز عصر کی تین رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور اپنے حجرہ میں تشریف لے گئے۔ ایک لمبے ہاتھوں والا آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا نماز چھوٹی کر دی گئی ہے؟ آپؐ ناراضگی کی حالت میں باہر تشریف لائے اور وہ رکعت جو آپؐ نے چھوڑ دی تھی ادا فرمائی۔ پھر سلام پھیرا پھر دو سجدۂ سہو کئے پھر سلام پھیرا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ قرآن پڑھا کرتے اور آپؐ ایسی سورت پڑھتے جس میں سجدہ ہوتا تو سجدہ کرتے تھے اور ہم بھی آپؐ کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم میں سے بعض اپنی پیشانی رکھنے کے لئے جگہ نہ پاتے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ بعض اوقات رسول اللہ ﷺ قرآن پڑھتے اور (آیتِ) سجدہ سے گزرتے تو ہم سب (آپؐ کے ساتھ) سجدہ کرتے اور آپؐ کے پاس ہمارا اتنا ہجوم ہو جاتا کہ ہم میں سے بعض کو سجدہ کی جگہ نہ ملتی۔ یہ نماز کے علاوہ (کا ذکر ہے)۔
حضرت عبداللہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے سورۃ النجم کی تلاوت کی تو اس میں سجدہ کیا اور جو آپؐ کے ساتھ تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا۔ سوائے ایک بوڑھے کے جس نے کنکریوں کی یا مٹی کی ایک مٹھی لی اور اٹھا کر اپنی پیشانی تک بلند کی اور کہا میرے لئے یہ کافی ہے۔ حضرت عبداللہؓ کہتے ہیں کہ بعد میں میں نے اسے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں مارا گیا۔
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت زید بن ثابتؓ سے امام کے ساتھ قراءت کے بارہ میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ امام کے ساتھ کوئی قراءت نہیں ہوتی اور انہوں نے کہا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سورۃ {وَالنَّجْمِ اِذَا ھَوٰی} (النجم: 2) پڑھ کر سنائی اور آپؐ نے سجدہ (تلاو ت) نہ کیا۔
ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے ان کے سامنے سورۃ {اِذَا السَّمَآئُ انْشَقَّتْ} (انشقاق: 2) کی قراءت کی اور پھر اس میں سجدہ کیا۔ جب وہ (سجدہ سے) فارغ ہوئے تو انہوں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی اس میں سجدہ کیا تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبیﷺ کے ساتھ سورۃ { اِذَا السَّمَآئُ انْشَقَّتْ} (انشقاق: 2) اور } اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ} (العلق: 2) میں سجدہ کیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے سورۃ { اِذَا السَّمَآئُ انْشَقَّتْ{ (انشقاق: 2) اور } اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ} (العلق: 2) میں سجدہ کیا۔
ابو رافع سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہؓ کے ساتھ عشاء کی نماز ادا کی تو انہوں نے {اِذَا السَّمَآئُ انْشَقَّتْ} (انشقاق: 2) کی تلاوت فرمائی اور اس میں سجدہ کیا۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ سجدہ کیسا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے یہ سجدہ ابو القاسمﷺ کی اقتداء میں کیا تھا اور میں اس وقت تک سجدہ کرتا چلا جاؤں گا جب تک کہ آپؐ سے جا مِلوں۔ ابن عبدالاعلیٰ کی روایت میں فََلَا اَزَالُ اَسْجُدُ بِھَا کی بجائے فَلَا اَزَالُ اَسْجُدُھَا کے الفاظ ہیں۔ بعض روایات میں خلف ابی القاسمﷺ کے الفاظ نہیں ہیں۔