بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 130 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے (ایک شخص کے نکاح میں) چار قسم کی عورتوں کے باہم اکٹھا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ عورت اور اس کی پھوپھی اور ایک عورت اور اس کی خالہ۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا بھتیجی پر پھوپھی سے نکاح اور بھانجی پر اس کی خالہ سے نکاح نہ کیا جائے۔
قبیصہ بن ذؤیب کعبی کہتے ہیں انہوں نے حضرت ابو ہریرہؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہﷺ نے مرد کو منع فرمایا ہے کہ وہ عورت اور اس کی پھوپھی اور عورت اور اس کی خالہ کو (اپنے نکاح) میں جمع کرے۔ ابن شہاب کہتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ والد کی خالہ اور والد کی پھوپھی کا یہی مقام ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی عورت کا نکاح اس کی پھوپھی پر اور نہ ہی اس کی خالہ پر کیا جائے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام نہ دے اور نہ ہی اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے اور کسی عورت کا نکاح اس کی پھوپھی نہ ہی خالہ پر کیا جائے اور نہ ہی کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ وہ اس کے برتن کو انڈیل لے بلکہ نکاح کرے۔ کیونکہ اس کے لئے وہی ہے جو اللہ نے اس کے لئے لکھ دیا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے منع فرمایا ہے کہ کسی عورت کا نکاح اس کی پھوپھی یا خالہ پر کیا جائے یا کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق مانگے تاکہ وہ اسے انڈیل لے جو اس کے برتن میں ہے۔ اللہ عزوجل ہی اس کا رازق ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے منع فرمایا ہے کہ کسی عورت کو اس کی پھوپھی کے ساتھ (نکاح میں) اکٹھا کیا جائے اور کسی عورت کو اس کی خالہ کے ساتھ (نکاح میں) اکٹھا کیا جائے۔
نُبیہ بن وہب سے روایت ہے کہ عمر بن عبیداللہ نے طلحہ بن عمر کا نکاح شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے کرنے کا ارادہ کیا اور انہوں نے ابان بن عثمان کو جو امیر حج تھے تشریف لانے کی درخواست کی۔ ابان نے کہا میں نے حضرت عثمانؓ بن عفان سے سنا ہے وہ کہتے تھے رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے محرم نکاح نہ کرے اور نہ اس کا نکاح کیا جائے اور نہ وہ نکاح کا پیغام دے۔
نُبیہ بن وہب کہتے ہیں مجھے عمر بن عبیداللہ بن معمر نے بھجوایا اور وہ اپنے بیٹے سے شیبہ بن عثمان کی بیٹی کی منگنی کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے مجھے ابان بن عثمانؓ کے پاس بھجوایا جو حج کے موقعہ پر امیر تھے۔ انہوں نے کہا میں اُسے محض ایک بدوی خیال کرتا ہوں۔ مُحرِم نکاح نہیں کر سکتا اور نہ اس کا نکاح کیا جاتا ہے۔ ہمیں یہ بات حضرت عثمانؓ نے رسول اللہﷺ کی طرف سے بتائی ہے۔
حضرت عثمانؓ بن عفان سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مُحِرم نہ نکاح کرے، نہ ہی اس کا نکاح کیا جائے اور نہ نکاح کا پیغام بھیجے۔