بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 60 hadith
عَمرہ سے روایت ہے حضرت عائشہؓ نے انہیں بتایا رسول اللہﷺ ان کے پاس تشریف فرما تھے کہ اس دوران انہوں نے کسی شخص کی آواز سنی جو حضرت حفصہؓ کے گھر میں آنے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یہ شخص آپؐ کے گھر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا میرا خیال ہے یہ فلاں ہے جو حفصہ کا رضاعی چچا ہے اس پر حضرت عائشہؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! اگر فلاں شخص جو میرا رضاعی چچا تھا زندہ ہوتا کیا وہ میرے پاس آسکتا تھا؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہاں رضاعت ان رشتوں کی حرمت قائم کرتی ہے جن کی حرمت ولادت قائم کرتی ہے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا کہ رضاعت سے وہ حرام ہوجاتا ہے جو ولادت سے حرام ہوتا ہے۔
حضرت عروہ بن زبیرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ نے انہیں بتایا کہ ابو القُعَیس کے بھائی افلح آئے انہوں نے ان کے پاس آنے کی اجازت مانگی اور وہ ان کے رضاعی چچا تھے۔ یہ پردہ کے احکامات نازل ہونے کے بعد کی بات ہے حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ جب رسول اللہﷺ تشریف لائے تو میں نے جو کیا تھا آپؐ کو بتایا۔ آپؐ نے مجھے ارشاد فرمایا کہ میں انہیں اپنے پاس آنے کی اجازت دے دوں۔ ایک اور روایت میں (عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّھَا اَخْبَرَتْہُ اَنَّ اَفْلَحَ اَخَا اَبِی الْقُعَیْسِ جَائَ یَسْتَأْذِنُ عَلَیْہَا کی بجائے) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ اَتَانِی عَمِّیْ مِنَ الرِّضَاعَۃِ اَفْلَحَ بْنِ اَبِی الْقُعَیْسِ کے الفاظ ہیں۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس میں یہ مزید ہے کہ میں نے عرض کیا مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں۔ آپؐ نے فرمایا تَرِبَتْ یَدَاکِ یا فرمایا تَرِبَتْ یَمِیْنُکِ تیرا بھلا ہو۔
عروہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ نے انہیں بتایا کہ ان کے پاس ابوالقُعَیْس کے بھائی افلح آئے انہوں نے ان کے پاس آنے کی اجازت مانگی۔ یہ واقعہ پردہ کے احکام نازل ہونے سے پہلے کا ہے اور ابوالقُعَیْس حضرت عائشہؓ کے رضاعی والد تھے۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے کہا اللہ کی قسم میں افلح کو اجازت نہیں دوں گی یہانتک کہ میں رسول اللہﷺ سے اجازت لے لوں۔ کیونکہ ابوالقُعَیْس نے مجھے دودھ نہیں پلایا بلکہ ان کی بیوی نے مجھے دودھ پلایا ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں جب رسول اللہﷺ تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ابوالقُعَیْس کے بھائی افلح میرے پاس آئے اور انہوں نے میرے پاس آنے کی اجازت مانگی میں نے انہیں اجازت دینے کو ناپسند کیا جب تک کہ آپؐ سے اجازت نہ لے لوں۔ وہ فرماتی ہیں اس پر نبیﷺ نے فرمایا اسے اجازت دے دو۔ عروہ کہتے ہیں اس وجہ سے حضرت عائشہؓ کہا کرتی تھیں کہ رضاعت سے انہیں حرام قرار دو جنہیں تم نسب سے حرام ٹھہراتے ہو۔ ایک اور روایت میں فَاِنَّہُ عَمُّکِ تَرِبَتْ یَمِیْنُکِ کے الفاظ ہیں۔ تیرا بھلا ہو وہ تیرا چچا ہے۔ اور ابوالقُعَیْس اس عورت کے خاوند تھے جس نے حضرت عائشہؓ کو دودھ پلایا تھا۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں میرے رضاعی چچا آئے اور مجھ سے آنے کی اجازت مانگی۔ میں نے انہیں اجازت نہ دی یہاں تک کہ رسول اللہﷺ سے اجازت لے لوں۔ جب رسول اللہﷺ تشریف لائے تو میں نے عرض کیا میرے رضاعی چچا نے مجھ سے میرے پاس آنے کی اجازت مانگی لیکن میں نے انہیں اجازت نہ دی۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا تمہارا چچا تمہارے پاس آسکتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے تو صرف عورت نے دودھ پلایا ہے۔ مرد نے مجھے دودھ نہیں پلایا آپؐ نے فرمایا وہ تمہارا چچا ہے وہ تمہارے پاس آسکتا ہے۔ ایک اور روایت میں (جَائَ عَمِّی مِنَ الرِّضَاعَۃِ یَسْتَأْذِنُ عَلَیَّ کی بجائے) أَنَّ أَخَا اَبِی الْقُعَیْسِ اِسْتَأْذَنَ عَلَیْہَا کے الفاظ ہیں۔ اسی طرح ایک اور روایت میں استأْذَنَ عَلَیْھَا اَبُو الْقُعَیْسِ کے الفاظ ہیں۔
عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ حضرت عائشہؓ نے انہیں بتایا وہ فرماتی تھیں کہ میرے رضاعی چچا ابوالجعد نے میرے پاس آنے کی اجازت مانگی مگر میں نے انہیں انکار کردیا۔ (راوی ابن نمیر کہتے ہیں ) ہشام نے مجھے کہا کہ وہ تو ابوالقُعَیْس تھے۔ (حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں ) جب نبی ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپؐ کو یہ بات بتائی آپؐ نے فرمایا کہ تمہارا بھلا ہو تم نے انہیں اجازت کیوں نہ دی؟
عروہ کہتے ہیں حضرت عائشہؓ نے انہیں بتایا کہ ان کے رضاعی چچا نے جنکا نام افلح تھا ان کے پاس آنے کی اجازت مانگی تو حضرت عائشہؓ نے ان کو روک دیا۔ پھر حضرت عائشہؓ نے رسول اللہﷺ کو بتایا تو آپؐ نے ان سے فرمایا تم اس سے پردہ نہ کرو کیونکہ رضاعت سے وہ حرام ہو جاتا ہے جو نسب سے حرام ہوتا ہے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ افلح بن قُعَیْس نے میرے پاس آنے کی اجازت مانگی میں نے انہیں اجازت نہ دی۔ پھر انہوں نے پیغام بھجوایا کہ میں تمہارا رضاعی چچا ہوں میرے بھائی کی بیوی نے آپ کو دودھ پلایا ہے۔ لیکن میں نے اجازت نہ دی۔ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپؐ سے اس بات کا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا وہ تمہارے پاس آسکتا ہے۔ کیونکہ وہ تمہارا چچا ہے۔
حضرت علیؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا بات ہے ہمیں چھوڑ کر قریش کی طرف رجحان ہے۔ آپؐ نے فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا حضرت حمزہؓ کی بیٹی ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ میرے لئے جائز نہیں کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ سے حضرت حمزہؓ کی بیٹی (سے شادی) کی خواہش کی گئی۔ آپؐ نے فرمایا وہ میرے لئے جائز نہیں ہے کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور رضاعت سے وہ حرام ہو جاتا ہے جو رحم (کے تعلق) سے حرام ہو جاتا ہے۔ ایک اور روایت میں (یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ الرَّحِمِ کی بجائے) اِنَّہُ یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں (عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ کی بجائے) سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَیْدٍ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں اِبْنَۃُ اَخِیْ مِنَ الرَّضَاعَۃِ تک کے الفاظ ہیں۔