بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 130 hadith
علقمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں حضرت عبداللہؓ کے ساتھ منٰی میں چل رہا تھا تو اُن سے حضرت عثمانؓ ملے اور ان کے ساتھ کھڑے ہو کر ان سے باتیں کرنے لگے۔ حضرت عثمانؓ نے ان سے کہا اے ابو عبدالرحمان! کیا ہم آپ کی شادی ایک نوجوان لڑکی سے نہ کرادیں شاید کہ وہ تمہیں تمہارا گزرا ہوا کچھ زمانہ یاد کرا دے۔ راوی کہتے ہیں حضرت عبداللہؓ نے کہا اگر آپ یہ کہتے ہیں تو رسول اللہﷺ نے ہمیں فرمایا تھا اے نوجوانوں کے گروہ! جو تم میں سے شادی کی طاقت رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ شادی کرے کیونکہ یہ غضِ بصر کا باعث اور عصمت کی خوب حفاظت کرنے والی ہے۔ اور جسے طاقت نہ ہو تو وہ روزے رکھے کیونکہ یہ اس کے ضبطِ نفس کا ذریعہ ہے۔ علقمہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عبداللہؓ بن مسعود کے ساتھ منٰی میں چل رہا تھا۔ جب انہیں حضرت عثمانؓ بن عفّان ملے اور کہا اے ابو عبدالرحمان! اِدھر آئیں۔ راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے ان سے علیحدگی میں بات کی۔ جب حضرت عبداللہؓ نے دیکھا کہ انہیں اور کچھ نہیں کہنا۔ وہ (علقمہ) کہتے ہیں تو انہوں نے مجھ سے کہا اے علقمہ آؤ۔ وہ کہتے ہیں میں گیا تو حضرت عثمانؓ نے انہیں کہا اے ابو عبدالرحمان! کیا ہم آپ کی شادی کنواری لڑکی سے نہ کردیں شاید آپ کے لئے جو آپ دیکھ چکے ہیں وہ واپس آجائے۔ حضرت عبداللہؓ نے کہا اگر آپ یہ کہتے ہیں۔۔۔ باقی روایت ابو معاویہ جیسی ہے۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہمیں رسول اللہﷺ نے فرمایا اے نوجوانوں کے گروہ! جو تم میں سے شادی کی طاقت رکھتا ہو تو اس کو چاہئے کہ شادی کرے کیونکہ وہ غضِ بصر کا ذریعہ اور عصمت کی حفاظت کرنے والی ہے اور جسے اس کی طاقت نہ ہو تو وہ روزے رکھے کیونکہ یہ اس کے ضبطِ نفس کا ذریعہ ہے۔ ایک اور روایت عبدالرحمان بن یزید سے مروی ہے وہ کہتے ہیں میں اور میرے چچا علقمہ اور اسود حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے پاس گئے۔ راوی کہتے ہیں میں ان دنوں جوان تھا۔ پھر انہوں نے ایک حدیث کا ذکر کیا۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے وہ حدیث میری وجہ سے بیان کی۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ اس کے تھوڑے عرصہ بعد میں نے شادی کر لی ایک اور روایت میں فَلَمْ أَلْبَثْ حَتَّی تَزَوَّجْتُ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کے صحابہؓ میں سے بعض لوگوں نے نبیﷺ کی ازواج مطہرات سے آپؐ کے ان کاموں کے بارہ میں پوچھا جو آپؐ تنہائی میں کرتے تھے۔ اس کے بعد ان (پوچھنے والوں) میں سے ایک نے کہا میں کبھی عورتوں سے شادی نہیں کروں گا اور دوسرے نے کہا میں کبھی گوشت نہیں کھاؤں گا اور تیسرے نے کہا میں بستر پر نہیں سوؤں گا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی اور فرمایا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جو اس طرح کہتے ہیں؟ میں تو نماز (بھی) پڑھتا ہوں اور سوتا (بھی) ہوں اور روزہ رکھتا ہوں اور روزہ چھوڑتا (بھی) ہوں اور میں عورتوں سے شادی (بھی) کرتا ہوں۔ پس جو میری سنّت سے بے رغبتی کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں۔
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے حضرت عثمانؓ بن مظعون کے تبتّل (دنیا سے انقطاع کی درخواست) کو رد کر دیا تھا۔ اگر آپؐ ان کو اجازت دے دیتے تو ہم ضرور رہبانیت اختیار کر لیتے۔
سعید بن مسیب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت سعدؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے حضرت عثمانؓ بن مظعون کی تبتّل (دنیا سے انقطاع کی درخواست) کو رد کر دیا گیا تھا۔ اگر انہیں اجازت دی جاتی تو ہم ضرور رہبانیت اختیار کر لیتے۔
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو کہتے ہوئے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ حضرت عثمان بن مظعونؓ نے ترکِ دنیا کا فیصلہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں منع فرما دیا۔ اگر آپؐ ان کو اجازت دے دیتے تو ہم سب رہبانیت اختیار کر لیتے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک عورت کو دیکھا۔ آپؐ اپنی بیوی حضرت زینبؓ کے پاس آئے اور وہ اپنے چمڑے کو مل رہی تھیں۔ آپؐ نے اپنی ضرورت پوری کی۔ پھر اپنے صحابہؓ کے پاس آئے اور فرمایا یقینا عورت بہکانے والے کی صورت میں آتی ہے اور بہکانے والے کی صورت میں واپس جاتی ہے۔ اس لئے جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو دیکھے تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے۔ یہ بات اس چیز کو زائل کر دے گی جو اس کے دل میں ہے۔ ایک اور روایت میں (عَنْ جَابِرٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ کی بجائے) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ اَنَّ النَّبِیَّﷺ کے الفاظ ہیں اور اس روایت میں تُدْبِرُ فِیْ صُوْرَۃِ شَیْطَانٍ کے الفاظ نہیں ہیں۔
ابو زبیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت جابرؓ نے کہا میں نے نبیﷺ کو فرماتے سنا۔ جب تم میں سے کسی کو کوئی عورت اچھی لگے اور اس کے دل میں کوئی خیال پیدا ہو تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور اس سے تعلق قائم کرے تو یہ بات اس چیز کو زائل کر دے گی جو اس کے دل میں ہے۔
قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عبداللہؓ کو کہتے سنا ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے۔ ہمارے ساتھ عورتیں نہ تھیں۔ ہم نے کہا کیا ہم مردانہ قوّت ختم نہ کر لیں۔ آپؐ نے ہمیں اس سے منع فرمایا۔ پھر ہمیں اجازت دی کہ ہم کسی عورت سے ایک کپڑے کے عوض ایک مقررہ مدت تک نکاح کر لیں۔ پھر حضرت عبداللہؓ نے یہ آیت پڑھی یَاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰ مَنُوْا لَا تُحَرِّمُوا طَیِّبٰتِ مٓا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ: اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو! اُن پاکیزہ چیزوں کو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کردی ہیں حرام نہ ٹھہرایا کرو اور حد سے تجاوز نہ کرو، یقینا اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ایک اور روایت میں (قَرَآءَ عَبْدُ اللّٰہِ کی بجائے) قَرَآءَ عَلَیْنَا ھٰذِہِ الْآیَۃُ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ہم جوان تھے اور ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا ہم مردانہ قوت ختم نہ کر دیں مگر اس روایت میں نَغْزُوْ کا ذکر نہیں۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ اور سلمہ بن اکوعؓ سے روایت ہے وہ دونوں بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہﷺ کا منادی آیا اور اس نے کہا بے شک رسول اللہﷺ نے تمہیں اجازت دی ہے کہ تم فائدہ اٹھا لو یعنی عورتوں سے متعہ کی۔