بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 240 hadith
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد سے مت روکو۔
حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تم سے تمہاری عورتیں مساجد میں جانے کی اجازت چاہیں تو انہیں اجازت دے دو۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا عورتوں کو رات کے وقت مساجد میں جانے سے مت روکو۔ اس پر حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے بیٹے کہنے لگے کہ ہم تو ان کو باہر نکلنے نہیں دیں گے کہ وہ اس کو خرابی کا ذریعہ نہ بنا لیں۔ راوی کہتے ہیں کہ اس پر حضرت ابن عمرؓ نے اُسے ڈانٹا اور کہا کہ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں اور تم کہتے ہو کہ ہم انہیں اجازت نہیں دیں گے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ عورتوں کو رات کے وقت مساجد میں جانے کی اجازت دے دو تو ان کا بیٹا جو واقد کہلاتا تھا کہنے لگا کہ تب تو وہ اسے کسی خرابی کا ذریعہ بنا لیں گی۔ وہ کہتے ہیں کہ تب انہوں نے اس کے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا کہ میں تمہیں رسول اللہﷺ سے حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم کہتے ہو نہیں!
بلال بن عبداللہ بن عمر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم عورتوں کو مساجد سے ان کی خیر و برکت سے محروم نہ کرو۔ جب وہ تم سے اجازت چاہیں۔ بلال (ان کے بیٹے) کہنے لگے کہ اللہ کی قسم ہم تو ان کو ضرور روکیں گے تو حضرت عبداللہؓ نے انہیں کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان سُنا رہا ہوں اور تم کہہ رہے ہو کہ ہم ضرور روکیں گے۔
حضرت زینب ثقفیّہؓ رسول اللہﷺ سے بیان کیا کرتی تھیں کہ آپؐ نے فرمایا کہ اگر تم (خواتین) میں سے کوئی نماز عشاء پر جائے تو (جاتے ہوئے) اس رات خُوشبو نہ لگائے۔
حضرت عبداللہؓ کی بیوی حضرت زینبؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم (خواتین) سے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو خوشبو نہ لگائے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو عورت دھونی کی خوشبو لگائے تو وہ ہمارے ساتھ نماز عشاء میں شامل نہ ہو۔
عمرہ بنتِ عبدالرحمٰن نے نبیﷺ کی زوجہ مطہّرہ حضرت عائشہؓ سے سنا۔ وہ فرماتی تھیں کہ اگر رسول اللہﷺ وہ دیکھ لیتے جو نئی نئی باتیں عورتیں کرنے لگی ہیں تو ضرور ان کو مسجد میں آنے سے اسی طرح منع فرما دیتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عمرہ سے پوچھا کہ کیا بنی اسرائیل کی عورتیں مسجد آنے سے روکی گئی تھیں؟ انہوں نے کہا ہاں۔
حضرت ابن عباسؓ سے اللہ عزّوجل کے قول ’’وَلَا تَجْھَرْ بِصَلََاتِکَ وَلََا تُخَافِتْ بِھَا‘‘ کے بارہ میں روایت ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ مکّہ میں اخفاء سے کام کر رہے تھے۔ جب آپؐ اپنے صحابہؓ کو نماز پڑھاتے اور اس میں قرآن (پڑھتے ہوئے) اپنی آواز بلند فرماتے۔ جب مشرک یہ سُنتے تو وہ قرآن کو اور جس نے وہ اتارا اور جو اسے لایا سب کو گالیاں دیتے۔ تب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ’’لَا تَجْھَرْ بِصَلََاتِکَ یعنی اپنی نماز بہت اونچی آواز میں نہ پڑھ کہ مشرک تیری قرأت سُنیں ’’وَلَا تُخَافِتْ بِھَا‘‘ اور نہ اسے بہت دھیما پڑھ‘‘ اپنے صحابہؓ سے۔ ان کو قرآن سنا اور اتنا اونچا نہ پڑھ ’’وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا اور ان کے درمیان کی راہ اختیار کر یعنی اونچی اور ہلکی آواز کے درمیان۔