بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 240 hadith
ھمام بن منبّہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ یہ باتیں ہمیں حضرت ابو ہریرہؓ نے رسول اللہﷺ سے روایت کیں۔ اُن میں سے ایک یہ ہے اور کہا کہ نماز میں اپنی صف درست کرو کیونکہ صف درست رکھنا نماز کی خوبصورتی کا حصّہ ہے۔
حضرت نعمانؓ بن بشیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ تمہیں ضرور اپنی صفوں کو سیدھا کرنا ہو گا ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے مابین مخالفت پیدا کر دے گا۔
حضرت نعمانؓ بن بشیر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری صفیں سیدھی کروایا کرتے تھے یہاں تک کہ یہ معلوم ہوتا کہ گویا آپ ان سے تیر سیدھا کر رہے ہیں حتّٰی کہ آپؐ نے دیکھ لیا کہ ہم نے اس بارہ میں آپؐ سے سمجھ لیا ہے۔ پھر ایک روز آپؐ باہر نکلے اور کھڑے ہو گئے اور قریب تھا کہ آپؐ تکبیر کہتے کہ آپؐ نے ایک آدمی دیکھا جس کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا تھا۔ تب آپؐ نے فرمایا اللہ کے بندو تمہیں ضرور اپنی صفوں کو سیدھا رکھنا ہوگا ورنہ اللہ ضرور تمہارے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر لوگ جانتے کہ اذان دینے اور پہلی صف کا ثواب کیا ہے اور وہ اس کے سوا کوئی چارہ نہ پاتے کہ وہ اس پر قرعہ اندازی کریں تو وہ ضرور قرعہ اندازی کرتے اور اگر وہ جانتے کہ (نماز کے لئے) جلدی آنے کا کیا ثواب ہے وہ اس کے سوا کوئی چارہ نہ پاتے کہ وہ اس کی طرف جلدی کرتے اور اگر وہ جانتے کہ عشاء اور فجر (کی نماز) کا کیا ثواب ہے تو وہ ان دونوں (نمازوں) کے لئے ضرور آتے خواہ گھٹنوں کے بَل (آنا پڑتا)۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنے صحابہؓ کو (مسجد میں) پیچھے رہتے دیکھا تو آپؐ نے ان سے فرمایا آگے آؤ اور میری اقتداء کرو اور جو تم سے پیچھے ہوں وہ تمہاری اقتداء کریں ہمیشہ کچھ لوگ پیچھے رہیں گے حتی کہ اللہ ان کو پیچھے کر دے گا۔ حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے کچھ لوگوں کو مسجد کے آخری حصہ میں دیکھا اور راوی نے اس جیسی روایت بیان کی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم جانتے یا (فرمایا) وہ جانتے کہ اگلی صف کا کیا ثواب ہے ضرور قرعہ ڈالنا پڑتا۔ ابن حرب نے فِیْ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ لَکَانَتْ قُرْعَۃً کی جگہ الصَّفِّ الْاَوَّلِ مَا کَانَتْ اِلَّا قُرْعَۃً کے الفاظ روایت کئے ہیں یعنی پہلی صف میں قرعہ کے سوا چارہ نہ ہوتا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مَردوں کی بہترین صف ان کی پہلی صف ہے اور سب سے کم (درجہ) کی آخری ہے۔ اور عورتوں کی بہترین صف ان کی آخری ہے اور سب سے کم (درجہ) کی پہلی ہے۔
حضرت سہلؓ بن سعد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے بعض ایسے آدمی دیکھے جو ازار کے چھوٹا ہونے کے باعث بچّوں کی طرح اپنے ازار اپنی گردنوں میں ڈال کر نبیﷺ کے پیچھے (نماز پڑھ رہے) ہوتے۔ کسی کہنے والے نے کہا کہ اے عورتوں کے گروہ! اس وقت تک اپنے سر نہ اٹھاؤ جب تک کہ مرد نہ اٹھا لیں۔
سالم اپنے والد سے (یہ روایت) نبیﷺ تک پہنچاتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کی بیوی مسجد جانے کی اجازت طلب کرے تو وہ اُسے مت روکے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تمہاری عورتیں تم سے مسجد جانے کی اجازت طلب کریں تو انہیں مت روکو۔ راوی کہتے ہیں کہ بلال بن عبداللہؓ نے کہا کہ خدا کی قسم ہم تو انہیں ضرور روکیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس پر حضرت عبداللہؓ اُن کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو بہت سخت بُرا بھلا کہا کہ میں نے ان کو اس طرح کسی کو بُرا بھلا کہتے نہیں سنا۔ وہ کہنے لگے کہ میں تمہیں رسول اللہﷺ کی حدیث بتا رہا ہوں اور تم کہتے ہو کہ خدا کی قسم ہم انہیں ضرور روکیں گے۔