بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 240 hadith
حضرت عائشہؓ اللہ عزّوجل کے قول ’’وَلَا تَجْھَرْ بِصَلََاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِھَا‘‘ کے بارہ میں بیان فرماتی ہیں کہ یہ (آیت) دعا کے بارہ میں نازل کی گئی۔
حضرت ابن عباسؓ اللہ عزّوجل کے قول ’’لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ‘‘ کے بارہ میں بیان کرتے ہیں انہوں نے بتایا کہ جب حضرت جبرائیل نبیﷺ پر وحی لے کر اترتے تو آپؐ (قرآن) کے ساتھ ساتھ اپنی زبان اور ہونٹوں کو حرکت دیتے اور یہ آپؐ پر گراں ہوتا تھا اور یہ کیفیت آپؐ (کے چہرہ مبارک) سے عیاں ہو جاتی تھی۔ تب اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی { لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہِ { (تو اس کی قراءت کے وقت اپنی زبان کو اس لئے تیز حرکت نہ دے کہ تو اسے جلد جلد یاد کرے (یعنی) اسے اخذ کرلے۔ } اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنہٗ { (یقینًا اس کا جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہماری ذمہ داری ہے) یعنی اس کو آپؐ کے سینہ میں جمع کرنا اور اس کا پڑھانا ہمارے ذمّہ ہے پس تم اس کو پڑھو گے } فَاِذَا قَرَأْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ { (پس جب ہم اسے پڑھ چکیں تو تُو اس کی قراءت کی پیروی کر) یعنی فرمایا ہم نے اسے اتارا ہے تم اسے توجہ سے سنو۔ } اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ} (یقینا اس کا واضح بیان بھی ہمارے ہی ذمّہ ہے) یعنی ہم اسے آپؐ کی زبان کے ذریعہ کھول کر بیان کریں۔ چنانچہ جب جبرائیلؑ آپؐ کے پاس آتے تو آپؐ خاموشی سے سر جھکا لیتے اور جب وہ چلے جاتے تو آپؐ اس کو ویسے ہی پڑھتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا۔
حضرت ابن عباسؓ اللہ کے قول { لَاتُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ {(القیامۃ: 17) کے بارہ میں بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ قرآن مجید کی وحی نازل ہونے سے (احساسِ ذمہ داری کی وجہ سے) بوجھ محسوس کرتے تھے اور آپؐ اپنے ہونٹ ہلایا کرتے تھے۔ حضرت ابن عباسؓ نے مجھ (سعید بن جبیر) سے کہا کہ میں ہونٹوں کو اسی طرح ہلاتا ہوں جس طرح حضرت رسول اللہﷺ (ہونٹوں کو) ہلاتے تھے۔ سعید کہتے ہیں کہ میں ان (ہونٹوں) کو اسی طرح ہلاتا ہوں جس طرح حضرت ابنِ عباسؓ (ہونٹوں کو) ہلاتے تھے، پھر انہوں نے اپنے ہونٹ ہلائے۔ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا } لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنہٗ{(تو اس کی قراءت کے وقت اپنی زبان کو اس لئے تیز حرکت نہ دے کہ تو اسے جلد جلد یاد کرے یقینا اس کا جمع کرنا اور اس کی تلاوت کرنا ہماری ذمہ داری ہے) فرمایا تمہارے سینہ میں اس کا جمع کرنا۔ اور پھر آپؐ اس کو پڑھیں گے } فَاِذَا قَرَأْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ }(پس جب ہم اسے پڑھ چکیں تو تُو اس کی قراءت کی پیروی کر) فرمایا غور سے سنیں اور خاموش رہیں پھر ہماری ذمہ داری ہے کہ آپؐ اسے پڑھیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر جب رسول اللہﷺ کے پاس جبرائیل آتے تو آپؐ توجہ سے سنتے پھر جب جبرائیل چلے جاتے نبیﷺ اسے پڑھتے جس طرح انہوں نے وہ آپؐ کو پڑھایا تھا۔
حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے نہ ہی جنوّں پر قراءت کی نہ ہی ان کو دیکھا۔ رسول اللہﷺ اپنے صحابہؓ کے ایک گروہ کے ہمراہ عکاظ کی منڈی کا قصد کرتے ہوئے روانہ ہوئے جبکہ آسمانی خبروں اور شیطانوں کے درمیا ن روک ڈال دی گئی تھی اور ان پر شعلے چھوڑ دئے گئے تھے۔ تو یہ شیاطین اپنی قوم کی طرف لوٹ کر آئے۔ انہوں نے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے اور آسمانی خبر کے درمیان روک ڈال دی گئی ہے اور ہم پر شعلے پھینکے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ضرور کوئی نئی بات ہو ئی ہے۔ اس لئے زمین کے مشرق و مغرب میں پھر کر دیکھو کہ کیا بات ہے جو ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیا ن روک حائل ہے چنانچہ وہ مشرق و مغرب میں پھرنے لگے ان میں سے ایک گروہ جس نے تہامہ کی طرف راہ لی تھی نکلا اور آپ(ﷺ) نخلہ میں تھے (اور آپؐ صحابہؓ کے ساتھ) عکاظ کی منڈی کا قصد کئے ہوئے تھے اور آپؐ صحابہؓ کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے پس جب انہوں (جنّوں) نے قرآن سنا تو اس کی طرف دھیان لگایا۔ اور کہنے لگے کہ یہ ہے جو ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان حائل ہو گیا ہے۔ پھر وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ کر گئے اور انہوں نے کہا اے ہماری قوم! اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا یَھْدِیْ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِہِ وَلَنْ نُشْرِکَ بِرَبِّنَا اَحَدًا (جن: 2، 3) اے ہماری قوم یقینًا ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے جو بھلائی کی طرف ہدایت دیتا ہے پس ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ تب اللہ عزّ وجل نے اپنے نبی محمدﷺ پر یہ کلام اتارا { قُلْ اُوحِیَ اِلَیَّ اَنَّہٗ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ} یعنی تو کہہ دے میری طرف وحی کیا گیا ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (قرآن کو) توجہ سے سُنا۔
عامر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے علقمہ سے پوچھا کہ کیا حضرت ابن مسعودؓ جنّوں والی رات رسول اللہﷺ کے پاس موجود تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ علقمہ نے کہا کہ میں نے حضرت ابنِ مسعودؓ سے پوچھا تھا کیا آپ لوگوں میں سے کوئی جنوں والی رات رسول اللہﷺ کے پاس موجود تھا؟ انہوں نے کہا کہ نہیں لیکن ہم ایک رات رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے کہ ہم نے آپؐ کو موجود نہ پایا۔ پھر ہم نے آپ کو وادیوں میں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا تو ہم نے خیال کیا کہ یا تو آپؐ کو اُچک لیا گیا ہے یا آپؐ کو دھوکہ سے شہید کر دیا گیا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ بدترین رات تھی جو کسی قوم نے گذاری ہوگی۔ پھر جب ہم نے صبح کی تو دیکھا کہ آپؐ حرا (پہاڑ) کی طرف سے تشریف لا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ ہم نے آپ کو یہاں موجود نہ پاکر آپؐ کو تلاش کیا تو آپؐ کو نہ پاکر بدترین رات گذاری جو کسی قوم نے گزاری ہوگی۔ آپؐ نے فرمایا کہ جنّوں کا قاصد میرے پاس آیا۔ میں اس کے ساتھ گیا میں نے انہیں قرآن پڑھ کر سنایا، راوی کہتے ہیں کہ پھر آپؐ ہمارے ساتھ چلے اور آپؐ نے ہمیں ان کے نشان اور ان کی آگوں کے نشان دکھائے اور انہوں نے آپؐ سے زادِ راہ طلب کیا، آپؐ نے فرمایا کہ تمہارے لئے ہر ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور وہ تمہارے ہاتھ میں پڑے اور اس پر خوب گوشت ہو وہ تمہارے لئے ہے۔ اور ہر مینگنی بھی تمہارے جانوروں کا چارہ ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا پس ان دونوں سے استنجاء مت کرو کیونکہ یہ دونوں تمہارے بھائیوں کی خوراک ہیں۔ شعبی کہتے ہیں کہ انہوں نے آپؐ سے زاد مانگا اور وہ جزیرہ کے جنّ تھے۔ روایت کے آخر تک بیان کیا ہے۔ علقمہ نے حضرت عبداللہؓ کی روایت کو جو نبیﷺ کے قول آثَارَ نِیْرَانِھِمْ تک ہے۔ روایت کی ہے لیکن اس کے بعد کا ذکر نہیں کیا۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتے ہیں کہ جنّوں والی رات میں رسول اللہﷺ کے پاس موجود نہ تھا لیکن میری خواہش تھی کہ میں آپؐ کے ساتھ ہوتا۔
معن کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا انہوں نے کہا میں نے مسروق سے پوچھا کہ حضور نبی ﷺ کو اس رات جب جنّوں نے قرآن سنا اُن کے بارہ میں کس نے اطلاع دی؟ تو انہوں نے کہا کہ مجھے تمہارے باپ یعنی حضرت ابن مسعودؓ نے بتایا کہ ان کے بارہ میں ایک درخت نے آپؐ کو اطلاع دی۔
حضرت ابو قتادہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ہمیں نماز پڑھایا کرتے تھے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھا کرتے تھے اور بعض اوقات ہمیں کوئی آیت بھی سُنا دیتے اور آپ ظہر کی پہلی رکعت کو لمبا کرتے اور دوسری کو چھوٹا کرتے اور اسی طرح صبح (کی نماز) میں۔
عبداللہ بن ابی قتادہؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ ظہر و عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور کوئی سورۃ پڑھا کرتے اور بعض اوقات ہمیں کوئی آیت سنا دیتے اور دوسری دونوں رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھتے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم ظہر و عصر میں رسول اللہﷺ کے قیام کا اندازہ کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ہم نے ظہر کی نماز کی پہلی رکعتوں میں آپؐ کے قیام کا جو اندازہ لگایا وہ سورۃ الم تنزیل السجدہ کی قراءت کے برابر تھا اور بعد کی دو رکعتوں کا قیام پہلی دو کے نصف کے برابر تھا۔ اور نماز عصر کی پہلی دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ نماز ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر تھا اور عصر کی دوسری دو رکعتوں میں (قیام) ان کے نصف کے برابر تھا۔ ابوبکر نے اپنی روایت میں الم تنزیل کا ذکر نہیں کیا۔ یہ کہا ہے کہ تیس آیات کے برابر