بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 240 hadith
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نمازِ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کے برابر تلاوت فرماتے اور دوسری دونوں رکعتوں میں پندرہ آیات تلاوت فرماتے یا انہوں نے کہا کہ ان کا نصف اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں پندرہ آیات جتنی قرأت فرماتے اور دوسری دونوں رکعتوں میں ان کا نصف۔
حضرت جابرؓ بن سمرہ سے روایت ہے کہ اہل کوفہ نے حضرت عمر بن خطابؓ کی خدمت میں حضرت سعدؓ کی شکایت کی اور ان کی نماز کا (بھی) ذکر کیا تو حضرت عمرؓ نے ان کو بلا بھیجا۔ چنانچہ وہ (سعدؓ) آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت عمرؓ نے آپ (سعدؓ) سے اُس نکتہ چینی کا ذکر کیا جو انہوں (اہلِ کوفہ) نے نماز کے بارہ میں اُن (سعدؓ) پر کی۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں تو انہیں رسول اللہﷺ کی نماز جیسی (نماز) ہی پڑھاتا ہوں اور اس میں سے کچھ کمی نہیں کرتا اور (آپؐ کے) طریق سے ذرا نہیں ہٹتا اور ان کو پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھاتا ہوں اور دوسری دو کو مختصر کرتا ہوں۔ اس پر آپؓ (حضرت عمرؓ) نے فرمایا کہ اے ابو اسحاق! مجھے آپ کے متعلق یہی خیال تھا۔
حضرت جابر بن سمرہؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے حضرت سعدؓ سے فرمایا کہ لوگوں نے تمہاری ہر امر میں شکایت کی ہے یہاں تک کہ نماز کے بارہ میں بھی۔ وہ کہنے لگے کہ میں تو پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھاتا ہوں اور دوسری دو چھوٹی، اور میں رسول اللہﷺ کی نماز کی پیروی میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا۔ آپؓ (حضرت عمرؓ) نے فرمایا کہ آپ کے متعلق یہی خیال تھا یا فرمایا آپ کے متعلق میرا یہی خیال تھا۔ ابو کریب حضرت جابر بن سمرہؓ کی روایت ان (راویوں) کے ہم معنیٰ بیان کرتے اور مزید کہتے ہیں کہ (اب) بدّو لوگ مجھے نماز سکھائیں گے!
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ظہر کی نماز کھڑی ہوتی تو ایک جانے والا بقیع کی طرف جاتا اور اپنی حاجت سے فارغ ہوتا پھر وضوء کرتا پھر آتا تو رسول اللہ ﷺ ابھی پہلی رکعت میں ہوتے اس وجہ سے کہ آپؐ اسے لمبا کرتے۔
قَزعَہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو سعید خدریؓ کے پاس آیا۔ اس وقت ان کے پاس لوگ کثیر تعداد میں موجود تھے، جب لوگ ان کے پاس سے چلے گئے تو میں نے کہا کہ میں آپؓ سے اس چیز کے بارہ میں نہیں پوچھوں گا جس کے بارہ میں اِن لوگوں نے سوال کیا۔ میں نے کہا کہ میں آپؓ سے رسول اللہﷺ کی نماز کے بارہ میں سوال کروں گا۔ انہوں نے جواب دیا کہ تمہیں اس سے کوئی سہولت نہیں ہوگی۔ (قزعہ) نے سوال ان پر دہرایا تب انہوں نے بتایا کہ ظہر کی نماز کی اقامت کہی جاتی تو ہم میں سے کوئی بقیع کی طرف جاتا اور وہاں اپنی حاجت سے فارغ ہو کر اپنے اہل کے پاس واپس آتا اور وضوء کرتا۔ پھر مسجد کی طرف لوٹتا تو رسول اللہﷺ ابھی پہلی رکعت میں ہوتے۔
حضرت عبداللہؓ بن سائب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں نبی ﷺ نے ہمیں مکہ میں صبح کی نماز پڑھائی تو آپؐ نے سورہ ا لمؤمنون سے شروع کیا یہاں تک کہ حضرت موسیؑ و حضرت ہارونؑ یا حضرت عیسیٰؑ کا ذکر آگیا۔ محمد بن عبّاد اس میں شک کرتے ہیں یا اس بارہ میں اختلاف ہے، (بہر حال) اس وقت نبی ﷺ کو کھانسی اٹھی اور آپؐ نے رکوع کیا۔ عبداللہؓ بن سائب وہاں موجود تھے۔ عبدالرزاق کی روایت میں ہے کہ آپؐ وہاں رک گئے اور رکوع فرمایا۔
حضرت عمرؓ بن حریث سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فجر کی نماز میں وَاللَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَ (قسم ہے رات کی جب وہ خاتمہ کو پہنچ جاتی ہے) کی قراءت فرماتے ہوئے سنا۔
حضرت قطبہؓ بن مالک سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نماز پڑھی۔ اور رسول اللہﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی تو آپؐ نے ق ۤ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ کی تلاوت فرمائی یہاں تک کہ آپؐ نے پڑھا وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ یعنی اور کھجوروں کے اونچے درخت۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اس کو دہرانے لگا لیکن مجھے پتہ نہ لگا کہ آپؐ نے کیا پڑھا ہے۔
حضرت قطبہؓ بن مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فجر کی نماز میں وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَھَا طَلْعٌ نَضِیْدٌ اور کھجوروں کے اونچے درخت جن کے تہ بہ تہ خوشے ہوتے ہیں پڑھتے ہوئے سنا۔
زیاد بن علاقہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی تو آپؐ نے پہلی رکعت میں وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَھَا طَلْعٌ نَضِیْدٌ ’’اور کھجوروں کے اونچے درخت جن کے تہ بہ تہ خوشے ہوتے ہیں ‘‘۔ کی تلاوت کی بسا اوقات وہ (سورۃ) قٓ کہتے۔