بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 240 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ امام اس لئے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے پس جب وہ تکبیر کہے تو تکبیر کہو جب وہ رکوع کرے تو رکوع کرو اور جب وہ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہے (سن لی اللہ نے اس کی جس نے اس کی تعریف کی) تو کہو اللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہ اے اللہ ہمارے رب! تمام تعریف تیرے ہی لئے ہے۔ اور جب وہ (امام) کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔
عبید اللہ بن عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ کیا آپؓ مجھے رسول اللہﷺ کی بیماری کے بارہ میں بتائیں گی؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں۔ جب نبیﷺ کی بیماری شدّت اختیار کر گئی تو آپؐ نے فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ نہیں بلکہ وہ آپؐ کا انتظار کر رہے ہیں یا رسولؐ اللہ!۔ آپؐ نے فرمایا کہ میرے لئے لگن میں پانی رکھ دو۔ چنانچہ ہم نے ایسا ہی کیا۔ آپؐ نے غسل فرمایا پھر آپؐ کوشش کر کے اٹھنے لگے مگر آپؐ پر غشی طاری ہو گئی۔ پھر افاقہ ہوا تو آپؐ نے فرمایا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ نہیں وہ تو آپؐ کا انتظار کر رہے ہیں یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا کہ میرے لئے لگن میں پانی رکھ دو۔ چنانچہ ہم نے ایسا ہی کیا۔ اور آپؐ نے غسل فرمایا پھر آپؐ کوشش کر کے اٹھنے لگے مگر آپؐ پر غشی طاری ہو گئی۔ پھر افاقہ ہوا تو آپؐ نے پوچھا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ نہیں وہ تو آپؐ کا انتظار کر رہے ہیں یا رسول اللہ! آپؓ (حضرت عائشہؓ) کہتی ہیں کہ لوگ نماز عشاء کے لئے مسجد میں بیٹھے رسول اللہﷺ کا انتظار کر رہے تھے۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ آپؐ نے حضرت ابوبکرؓ کو کہلا بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ قاصد ان کے پاس آیا اور کہا کہ رسول اللہﷺ نے آپؓ کو ارشاد فرمایا ہے کہ آپؓ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت ابوبکرؓ جو رقیق القلب انسان تھے کہنے لگے اے عمر! آپؓ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمرؓ نے کہا آپؓ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ پھر حضرت ابوبکرؓ ان دنوں انہیں نماز پڑھاتے رہے۔ پھر رسول اللہﷺ نے طبیعت میں افاقہ محسوس کیا تو آپؐ دو آدمیوں کے درمیان جن میں سے ایک عباسؓ تھے (کے سہارے) نماز ظہر کے لئے نکلے۔ جبکہ حضرت ابو بکرؓ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب حضرت ابو بکرؓ نے رسول اللہﷺ کو دیکھا تو آپؓ پیچھے ہٹنے لگے، نبیﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ پیچھے نہ ہٹیں اور آپؐ نے ان دونوں سے کہا کہ مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو۔ چنانچہ انہوں نے آپؐ کو حضرت ابوبکرؓ کے پہلو میں بٹھا دیا اور حضرت ابو بکرؓ کھڑے ہو کر نبیﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ نماز میں حضرت ابو بکرؓ کی اقتداء کر رہے تھے جبکہ نبیﷺ بیٹھے ہوئے تھے۔ عبید اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے پاس گیا اور میں نے ان سے کہا کہ کیا میں آپ کے سامنے وہ روایت پیش نہ کروں جو حضرت عائشہؓ نے رسول اللہﷺ کی بیماری کے بارہ میں مجھ سے بیان کی؟ انہوں نے کہا کہ بیان کرو۔ چنانچہ میں نے (حضرت عائشہؓ) کی روایت اُن کے سامنے پیش کی تو انہوں نے اس میں کسی بات کا انکار نہ کیا سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ کیا انہوں (حضرت عائشہؓ) نے تمہارے سامنے اس شخص کا نام لیا تھا جو حضرت عباسؓ کے ساتھ تھا؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ حضرت علیؓ تھے۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ پہلے پہل جب رسول اللہﷺ بیمار ہوئے تو (جب) آپؐ حضرت میمونہؓ کے گھر میں تھے۔ آپؐ نے اپنی بیویوں سے اجازت چاہی کہ آپؐ کی تیمار داری اُن (حضرت عائشہؓ) کے گھر میں ہو اور انہوں نے آپؐ کو اجازت دے دی۔ وہ (حضرت عائشہؓ) بیان کرتی ہیں کہ آپؐ تشریف لائے۔ آپؐ کا ایک ہاتھ فضل بن عباسؓ پر اور دوسرا ایک اور شخص پر تھا اور آپؐ کے پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے اس بارہ میں ابن عباسؓ کو بتایا تو انہوں نے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ وہ جس کا نام حضرت عائشہؓ نے نہیں لیا وہ کون تھا؟ وہ حضرت علیؓ تھے۔
نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی بیماری شدّت اختیار کر گئی اور آپؐ کی تکلیف بہت بڑھ گئی۔ تو آپؐ نے اپنی بیویوں سے اجازت چاہی کہ آپؐ کی تیمارداری میرے گھر میں کی جائے۔ تو انہوں نے آپؐ کو اجازت دے دی۔ آپؐ دو آدمیوں کے درمیان (سہارا لے کر) باہر تشریف لائے جبکہ آپؐ کے پاؤں گھسٹ رہے تھے۔ آپؐ عباس بن مطلب اور ایک دوسرے شخص کے درمیان تھے۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے اس بارہ میں عبداللہ کو بتایا جو حضرت عائشہؓ نے کہا تھا کہ حضرت عبداللہؓ بن عباس نے مجھے کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ وہ دوسرا شخص کون تھا جس کا نام حضرت عائشہؓ نے نہیں لیا؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا نہیں۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا کہ وہ حضرت علیؓ تھے۔
نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے اس (نماز کی امامت) کے بارہ میں رسول اللہﷺ سے بار بار جو عرض کی۔ مجھے کثرت سے عرض کرنے پر مجھے کسی چیز نے آمادہ نہیں کیا۔ ہاں مگر میرے دل میں یہ خیال نہیں آیا کہ لوگ آپؐ کے بعد کبھی ایسے شخص سے محبت کریں گے جو آپؐ کی جگہ پر کھڑا ہوا۔ ہاں مگر میرا خیال تھا کہ آپؐ کی جگہ کوئی شخص بھی کھڑا نہ ہوگا مگر لوگ اس سے بد شگونی کریں گے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب (آخری بیماری میں) رسول اللہﷺ میرے گھر تشریف لائے تو فرمایا کہ ابوبکرؓ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ابوبکرؓ بہت نرم دل آدمی ہیں جب قرآن کی تلاوت کریں گے تو اپنے آنسو ضبط نہیں کرسکیں گے۔ کیوں نہ آپؐ حضرت ابوبکرؓ کے علاوہ کسی اور کو یہ ارشاد فرمائیں۔ وہ کہتی ہیں کہ خدا کی قسم مجھے رسول اللہﷺ کی جگہ کھڑے ہونے والے شخص سے لوگوں کی بد شگونی کی ناپسندیدگی کے سوا کوئی خیال نہ تھا کہ یہ پہلا شخص ہے جس نے رسول اللہﷺ کی جگہ لے لی۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے دو یا تین دفعہ آپؐ سے یہ بات کی مگر آپؐ نے یہی فرمایا کہ ابوبکرؓ ہی لوگوں کو نماز پڑھائیں یقینًا تم یوسف والیاں ہو۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہﷺ کی بیماری نے شدّت اختیار کر لی تھی تو حضرت بلالؓ آپؐ کو نماز کی اطلاع دینے آئے تو آپؐ نے فرمایا کہ ابو بکرؓ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ابو بکرؓ تو نہایت نرم دل انسان ہیں اور جب وہ آپؐ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو لوگوں تک آواز پہنچا نہیں سکیں گے۔ آپؐ عمرؓ کو کیوں نہ ارشاد فرما دیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ ابو بکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے حفصہؓ سے کہا کہ تم (حضورؐ) سے عرض کرو کہ ابو بکرؓ نہایت نرم دل آدمی ہیں اور جب وہ آپؐ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو لوگوں تک آواز پہنچا نہیں سکیں گے۔ آپؐ عمرؓ کو کیوں نہیں کہہ دیتے۔ چنانچہ انہوں (حضرت حفصہؓ) نے حضورؐ کی خدمت میں عرض کیا۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ یقینًا تم تو یوسف والیاں ہو، ابو بکرؓ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ وہ کہتی ہیں کہ تب انہوں نے حضرت ابو بکرؓ سے کہا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جب انہوں نے نماز شروع کی تو رسول اللہﷺ نے اپنی طبیعت میں افاقہ محسوس کیا تو آپؐ دو آدمیوں کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے جبکہ آپؐ کے پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب آپؐ مسجد میں داخل ہوئے تو حضرت ابو بکرؓ نے آپؐ کی آہٹ محسوس کر لی اور پیچھے ہٹنے لگے۔ رسول اللہﷺ نے آپؓ کو اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہیں۔ پھر رسول اللہﷺ آئے اور حضرت ابو بکرؓ کے بائیں طرف آکر بیٹھ گئے۔ وہ (حضرت عائشہؓ) کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے اور حضرت ابو بکرؓ کھڑے تھے۔ حضرت ابو بکرؓ رسول اللہﷺ کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ حضرت ابو بکرؓ کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے۔ اعمش اسی سند سے ایسی ہی روایت کرتے ہیں اور ابن مسھر اور عیسیٰ بن یونس دونوں اعمش سے ایسی ہی روایت کرتے ہیں اور دونوں کی روایت میں ہے کہ جب رسول اللہﷺ اس بیماری سے جس میں آپؐ کی وفات ہوئی بیمار ہوئے۔ ابن مُسھِر کی روایت میں ہے پھر رسول اللہﷺ کو لایا گیا اور حضرت ابو بکرؓ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا تو نبیﷺ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے اور حضرت ابو بکرؓ ان کو تکبیر کی آواز پہنچاتے تھے اور عیسیٰ کی روایت میں ہے پھر رسول اللہﷺ بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے اور حضرت ابو بکرؓ آپؐ کے پہلو میں تھے اور حضرت ابو بکرؓ لوگوں تک آواز پہنچاتے تھے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنی بیماری میں حضرت ابو بکرؓ سے ارشاد فرمایا لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ چنانچہ وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے۔ عروہ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہﷺ نے اپنی طبیعت میں افاقہ محسوس کیا تو آپؐ باہر تشریف لائے۔ اس وقت حضرت ابو بکرؓ لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے۔ جب حضرت ابو بکرؓ نے آپؐ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا۔ رسول اللہﷺ نے انہیں اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ پر رہیں اور رسول اللہﷺ حضرت ابو بکرؓ کے برابر ان کے پہلو میں آکر بیٹھ گئے حضرت ابو بکرؓ نماز میں رسول اللہﷺ کی نماز کے مطابق نماز ادا کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابو بکرؓ کی نماز کے مطابق نماز ادا کر رہے تھے۔
ابن شہاب کہتے ہیں کہ حضرت انسؓ بن مالک نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ کی اُس بیماری میں جس میں آپؐ کی وفات ہوئی حضرت ابو بکرؓ نماز پڑھایا کرتے تھے۔ جب سوموار کا دن ہوا اور وہ نماز میں صفیں بنائے ہوئے تھے۔ رسول اللہﷺ نے اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا اور ہماری طرف دیکھا اور آپؐ کھڑے تھے۔ گویا آپؐ کا چہرہ قرآن کا صفحہ ہے۔ پھر رسول اللہﷺ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے تبسم فرمایا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کی تشریف آوری کی خوشی سے نماز میں دم بخود ہو گئے اور حضرت ابو بکرؓ الٹے پاؤں پیچھے ہٹے تاکہ صف میں مل جائیں اور انہوں نے سمجھا کہ رسول اللہﷺ نماز کے لئے تشریف لانے والے ہیں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے انہیں اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اپنی نماز پوری کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہﷺ اندر چلے گئے اور آپؐ نے پردہ گرا دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی اسی روز وفات ہوئی۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میری آخری نظر جو رسول اللہﷺ پر اس وقت پڑی جب آپؐ نے سوموار کے دن پردہ ہٹایا تھا۔ زہری سے روایت ہے کہ مجھے حضرت انس بن مالکؓ نے بتایا کہ جب سوموار کا دن تھا۔ پھر ان دونوں راویوں کی روایت کی طرح بیان کیا۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبیﷺ تین روز تک ہمارے پاس باہر تشریف نہ لائے۔ پھر (ایک دفعہ) نماز کی اقامت ہوئی اور حضرت ابو بکرؓ آگے ہونے لگے تو اللہ کے نبیﷺ نے پردہ پکڑ کر اسے اٹھا دیا۔ جب اللہ کے نبیﷺ کا چہرہ مبارک ہمارے سامنے ظاہر ہوا تو وہ ایک ایسا منظر تھا کہ ہم نے نبیﷺ کے چہرہ سے جب وہ ہمارے سامنے ظاہر ہوا زیادہ خوبصورت نظارہ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پھر اللہ کے نبیﷺ نے اپنے ہاتھ سے حضرت ابو بکرؓ کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا اور اللہ کے نبیﷺ نے پردہ گرا دیا۔ پھر ہمیں آپؐ کو دیکھنے کی توفیق نہ ملی یہاں تک کہ آپؐ کی وفات ہو گئی۔