بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 167 hadith
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا آدمی بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن اس کی دو چیزیں جوان ہو جاتی ہیں۔ اس کی مال کی حرص اور عمر کی حرص۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر ابنِ آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ ضرور تیسری کی خواہش کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ نہیں بھر سکتی مگر مٹی اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ نے کہا میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا۔ (حضرت انسؓ کہتے ہیں) میں نہیں جانتا کہ یہ کلام اتارا گیا تھا یا آپؐ (خود) فرمایا کرتے تھے۔۔۔ جیسا کہ ابو عوانہ کی روایت میں ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر ابن آدم کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ ضرور چاہے گا کہ اس کے پاس سونے کی ایک اور وادی ہو اور اس کا منہ تو مٹی ہی بھر سکتی ہے۔ اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔
حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اگر ابن آدم کے پاس ایک وادی کے برابر مال ہو تو وہ چاہے گا کہ اس کے پاس اتنا ہی اور ہو اور ابن آدم کا نفس تو مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ یہ بات قرآن میں سے ہے یا نہیں اور زہیر کی روایت میں ہے انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ یہ قرآن میں سے ہے؟ انہوں نے حضرت ابن عباسؓ کا ذکر نہیں کیا۔
ابو حرب بن ابی اسود اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے بصرہ کے رہنے والے قاریوں کو بلوایا تو آپؓ کے پاس تین سو آدمی آئے جنہوں نے قرآن کریم پڑھا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تم بصرہ کے سب سے اچھے لوگ ہو اور ان کے قاری ہو پس اس کی تلاوت کیا کرو یہ نہ ہو کہ زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ تمہارے دل سخت ہو جائیں جیسے تم سے پہلے لوگوں کے دل سخت ہو گئے تھے اور ہم ایک سورۃ پڑھتے تھے جسے ہم لمبائی اور شدت میں سورۃ براءت کے برابر سمجھتے تھے وہ مجھے بھلا دی گئی لیکن مجھے اس میں سے یہ بات یاد رہی کہ اگر ابن آدم کے لئے دو وادیاں مال کی ہوتیں تو وہ تیسری وادی کی بھی طلب کرتا اور ابن آدم کا پیٹ تو مٹی ہی بھر سکتی ہے اور ہم ایک سورۃ پڑھتے تھے جسے ہم مسبّحات میں سے ایک سے مشابہ قرار دیتے تھے وہ مجھے بھلا دی گئی۔ اس میں سے یہ بات یاد رہی کہ اے لوگو وہ بات کیوں کہتے ہو جو تم خود نہیں کرتے۔ اس کی گواہی تمہاری گردنوں میں لکھ دی جاتی ہے اور قیامت کے دن تم سے اس بارہ میں پوچھا جائے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا دولتمندی مال و متاع کی کثرت سے نہیں ہوتی بلکہ اصل دولتمندی تو نفس کی دولتمندی ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے اور لوگوں سے خطاب فرمایا اور کہا اللہ کی قسم اے لوگو! میں تمہارے بارہ میں دنیا کی زیب و زینت سے ہی ڈرتا ہوں جو اللہ تمہارے لئے نکالے گا۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا بھلائی بھی شرّ لایا کرتی ہے؟ رسول اللہﷺ کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا تم نے کیا کہا؟ اُس نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں نے کہا تھا کیا بھلائی بھی شرّ لایا کرتی ہے؟ رسول اللہﷺ نے اسے جواب دیا کہ خیر تو خیر ہی لاتی ہے مگر کیا (زینتِ دنیا) خیر ہے! یقینا بہار جو اُگاتی ہے تو وہ اپھارہ سے ہلاک کرتی ہے یا ہلاکت کے قریب کر دیتی ہے سوائے جو سبزہ کھاتا ہے یہان تک کہ اس کی کوکھیں بھر جاتی ہیں اور وہ دھوپ میں جاتا ہے تو گوبر کرتا ہے یا پیشاب کرتا ہے۔ پھر جگالی کرتا ہے پھر واپس آکر کھانے لگتا ہے پس جو شخص جائز طریقہ سے مال حاصل کرتا ہے تو اس کے لئے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور جو مال ناجائز طریقہ سے حاصل کرتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا ہے مگر اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا سب سے زیادہ خوفناک جس سے میں تمہارے بارہ میں ڈرتا ہوں وہ دنیا کی زیب و زینت ہے جو اللہ تمہارے لئے نکالے گا۔ انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! زھرۃ الدنیا سے کیا مراد ہے؟ آپؐ نے فرمایا زمین کی برکات۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! کیا بھلائی بھی برائی لاتی ہے؟ آپؐ نے فرمایا بھلائی تو بھلائی ہی لاتی ہے، بھلائی تو بھلائی ہی لاتی ہے، بھلائی تو بھلائی ہی لاتی ہے۔ ہاں بہار جو اُگاتی ہے وہ ہلاک کرتی ہے یا ہلاکت کے قریب کرتی ہے سوائے اس چارہ کھانے والے کے کیونکہ وہ جو اسے کھاتا ہے یہانتک کہ اس کی کوکھیں بھر جاتی ہیں پھر وہ سورج کے سامنے آتا ہے اور جگالی کرتا ہے اور پیشاب کرتا ہے اور گوبر کرتا ہے پھر دوبارہ آتا ہے اور کھاتا ہے پس یقینا یہ مال بہت سرسبز اور شیریں ہے جو اسے جائز طریقہ سے لیتا ہے اور اس کا صحیح استعمال کرتا ہے تو وہ (مال) بہت اچھا ساتھی ہے اور جو اسے ناجائز طریقہ سے لیتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ منبر پر بیٹھے تو ہم آپؐ کے گرد بیٹھے۔ آپؐ نے فرمایا میں تمہارے بارہ میں اپنے بعد جن باتوں سے ڈرتا ہوں ان میں سے دنیا کی زیب و زینت بھی ہے جس کے دروازے تم پر کھول دئیے جائیں گے۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا بھلائی بھی برائی لاتی ہے؟ رسول اللہﷺ اس پر خاموش رہے۔ اسے کہا گیا کہ کیا بات ہے کہ تم رسول اللہﷺ سے بات کرتے ہو مگر آپؐ تم سے مخاطب نہیں ہو رہے۔ راوی کہتے ہیں ہم نے محسوس کیا کہ آپؐ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب یہ کیفیت جاتی رہی تو آپؐ نے اپنا پسینہ صاف کیا اور فرمایا_ یقینا یہ سوال کرنے والا_ !گویا آپؐ نے اس کی تعریف فرمائی۔ آپؐ نے فرمایا بھلائی تو برائی نہیں لاتی مگر بہار جو اُگاتی ہے تو وہ ہلاک کرتی ہے یا ہلاکت کے قریب کر دیتی ہے سوائے اس چارہ کھانے والے کیونکہ وہ کھاتا رہا یہاں تک کہ جب اس کی کوکھیں بھر جاتی ہیں تو وہ سورج کے سامنے آتا ہے پھر گوبر کرتا ہے پھر پیشاب کرتا ہے اور جگالی کرتا ہے اور یقینا یہ مال سرسبز اور شیریں ہے جو اس مسلمان کا بہترین ساتھی ہے جو اس میں سے مسکین یتیم اور مسافر کو دیتا ہے {یا جیسا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا} اور جو اسے ناجائز طور پر حاصل کرتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا اور وہ قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ ہوگا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ انصار میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہﷺ سے مانگا تو آپؐ نے اُنہیں عطا فرمایا انہوں نے آپؐ سے پھر مانگا اور آپؐ نے انہیں پھر عطا فرمایا یہاں تک کہ جب آپؐ کے پاس جو کچھ تھا ختم ہوگیا آپؐ نے فرمایا میرے پاس جو بھی مال ہوتا ہے میں اسے تم سے بچا کر نہیں رکھتا اور جو مانگنے سے بچتا ہے تو اللہ اسے مانگنے سے بچائے گا اور جو استغناء سے کام لے گا اللہ اسے غنی کر دے گا اور جو صبر کرے گا اللہ اسے صبر عطا فرمائے گا اور کسی کو کوئی عطا صبر سے بہتر اور وسیع تر نہیں دی گئی۔