بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 74 hadith
عامر بن سعد سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اپنے اونٹوں میں تھے کہ ان کا بیٹا عُمرؓ اُن کے پاس آیا۔ جب حضرت سعدؓ نے اسے دیکھا تو کہا میں اس سوار کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ وہ نیچے اترا تو اس نے ان سے کہا کہ آپ اپنے اونٹوں اور بھیڑ بکریوں میں آگئے ہیں اور لوگوں کو سلطنت کے بارہ میں باہمی تنازعہ کرتے ہوئے چھوڑ آئے ہیں۔ اس پر حضرت سعدؓ نے اس کے سینہ پر ہاتھ مارا اور کہا کہ خاموش ہو جاؤ۔ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یقینا اللہ متقی، بے نیاز اور (لوگوں کی نظر سے) پوشیدہ بندہ کو پسند کرتا ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں عربوں میں سے پہلا شخص ہوں جس نے خدا کی راہ میں تیر چلایا اور کبھی یہ بھی ہوا جب ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ غزوہ میں جاتے تو ہمارے لئے سوائے حُبلہ (جنگلی درخت) کے پتوں اور اس کیکر کے کچھ کھانے کو نہ ہوتا یہاں تک کہ ہم بکری کی طرح مینگنیاں کرتے پھر بنو اسد دین کے بارہ میں مجھ پر نکتہ چینی کرنے لگے تب تو میں خائب و خاسر ہوگیا اور میرے اعمال رائیگاں گئے۔ ایک روایت میں اِذًا کا لفظ نہیں۔ ایک اور روایت میں حَتَّی اِنْ کَانَ أَحَدُنَا لَیَضَعُ کَمَا تَضَعُ الْعَنْزُ مَا یَخْلِطُہُ بِشَیْئٍ کے الفاظ ہیں۔
خالد بن عمیر عَدَوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن غزوانؓ نے ہمیں خطاب کیا انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا کی پھر کہا اما بعد دنیا نے اپنے ختم ہونے کا اعلان کر دیا ہے اور اس نے تیزی سے پیٹھ پھیر لی ہے۔ اور اس میں کچھ بھی باقی نہ رہا سوائے اس کے جتنا برتن میں کچھ مشروب بچ رہتا ہے۔ جسے اس کا پینے والا چھوڑ دیتا ہے۔ تم یہاں سے ایک لازوال گھر کی طرف منتقل ہونے والے ہو پس جو تمہارے پاس ہے اس سے بہتر میں منتقل ہو جاؤ۔ کیونکہ ہمارے پاس ذکر کیا گیا ہے کہ ایک پتھر جہنم کے کنارے سے پھینکا جائے گا۔ پھر وہ ستر برس تک اس میں گرتا چلا جائے گا اور اس کی تہہ تک نہ پہنچ پائے گا اور اللہ کی قسم اس (دوزخ) کو ضرور بھرا جائے گا کیا تم تعجب کرتے ہو؟ اور ہمیں بتایا گیا کہ جنت کے دو کواڑوں سے ایک کواڑ سے دوسرے کواڑ تک چالیس برس کا فاصلہ ہے اور ضرور اس پر ایک ایسا دن آئے گا کہ وہ لوگوں کی کثرت سے بھر جائے گی۔ میں نے اپنے تئیں دیکھا ہے کہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ سات میں سے ایک تھا اور کبھی درختوں کے پتوں کے سوا ہمارا کوئی کھانا نہیں تھا یہانتک کہ ہماری باچھیں زخمی ہو گئیں۔ مجھے ایک چادر ملی اور اسے پھاڑ کر اپنے اور سعد بن مالکؓ کے لئے دو ٹکڑے کر لیا۔ آدھے کا میں نے ازار بنا لیا اور آدھے کا سعد نے بنا لیا۔ لیکن آج جب ہم میں سے کوئی صبح کرتا ہے تو کسی شہر کا امیر ہوتا ہے اور میں اس بات سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اپنے نفس میں بڑا سمجھوں اور اللہ کے نزدیک بہت چھوٹا ہوں۔ کوئی نبوت (ماضی) میں ایسی نہیں ہوئی جس کا اثر زائل نہ ہوا ہو حتی کہ اس کا انجام بادشاہت نہ ہو اور تم حقیقت ِ حال جان لو گے اور حکام کا تمہیں ہمارے بعد تجربہ ہو جائے گا۔ ایک اور روایت خالد بن عُمیر سے مروی ہے جنہوں نے جاہلیت کا زمانہ پایا تھا وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن غزوانؓ نے خطاب کیا اور وہ بصرہ کے امیر تھے۔
حضرت عتبہ بن غزوانؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے تئیں دیکھتا ہوں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات میں سے ایک تھا اور کبھی حبلہ درخت کے پتوں کے سوا ہمارا کوئی کھانا نہیں ہوتا تھا یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہو گئیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپؐ نے فرمایا کیا تمہیں دوپہر کے وقت سورج دیکھنے میں جب وہ بادل میں نہ ہو کوئی دقّت ہوتی ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تمہیں چودھویں رات کو چاند دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے جب وہ کسی بادل میں نہ ہو؟ انہوں نے عرض کیا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جیسے تم ان میں سے کسی کی رؤیت میں دشواری محسوس نہیں کرتے اسی طرح اپنے رب کی رؤیت میں بھی دقت محسوس نہیں کرو گے۔ فرمایا پھر وہ بندہ سے ملے گا اور کہے گا اے فلاں! کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی تھی اور سرداری نہیں دی تھی؟ کیا میں نے تیری شادی نہیں کی تھی؟ اور گھوڑوں اور اونٹوں کو تیرے تابع نہیں کیا تھا؟ اور تجھے موقعہ نہیں دیا تھا کہ تو ریاست کرتا اور پھولتا پھلتا؟ وہ کہے گا کیوں نہیں۔ پھر فرمایا اللہ فرمائے گا کیا تجھے خیال تھا کہ تو مجھ سے ملے گا؟ تو وہ کہے گا نہیں تو اللہ کہے گا کہ آج میں بھی تجھے بھلاتا ہوں جیسے تو نے مجھے بھلا دیا۔ پھر وہ دوسرے سے ملے گا اور کہے گا اے فلاں! کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی تھی اور سرداری نہیں دی تھی کیا میں نے تیری شادی نہیں کی تھی؟ اور گھوڑوں اور اونٹوں کو تیرے تابع نہیں کیا تھا؟ اور تجھے موقعہ نہیں دیا کہ تو ریاست کرتا اور پھولتا پھلتا؟ وہ کہے گا کیوں نہیں۔ پھر فرمایا اللہ فرمائے گا کیا تجھے خیال تھا کہ تو مجھ سے ملنے والا ہے؟ تو وہ کہے گا نہیں۔ پھر اللہ کہے گا کہ آج میں بھی تجھے بھلاتا ہوں جیسے تو نے مجھے بھلایا۔ پھر وہ تیسرے سے ملے گا تو وہ اسے ایسا ہی کہے گا تو وہ کہے گا اے میرے رب! میں تجھ پر، تیری کتاب پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا تھا۔ میں نے نماز پڑھی تھی اور روزہ رکھا تھا اور صدقہ کیا تھا اور جہاں تک ہو سکا اچھی تعریف کرے گا۔ وہ (اللہ) فرمائے گا تو پھر یہیں رہو فرمایا پھر اسے کہا جائے گا اب ہم تم پر اپنا گواہ کھڑا کریں گے۔ وہ اپنے دِل میں سوچے گا کہ کون ہے جو میرے خلاف گواہی دے گا؟ پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور پھر اس کی ران اور اس کے گوشت اور اس کی ہڈیوں سے کہا جائے گا کہ بولو تو اس کی ران اور اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے اعمال کو بیان کریں گی اور یہ اس لئے ہوگا کہ اس کے پاس کوئی عذر نہ ہوگا۔ اور یہ منافق ہے اور یہ وہ ہے جس پر اللہ غضبناک ہوا۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے پاس تھے کہ آپؐ ہنس پڑے۔ پھر فرمایا کیا تمہیں پتہ ہے میں کیوں ہنسا ہوں؟ راوی کہتے ہیں ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں آپؐ نے فرمایا کہ بندہ کی اپنے رب سے گفتگو پر۔ وہ کہے گا کہ اے میرے رب! کیا تو نے مجھے ظلم سے اپنی پناہ نہیں دی تھی؟ آپؐ نے فرمایا وہ کہے گا کیوں نہیں۔ آپؐ نے فرمایا وہ (بندہ) کہے گا میں اپنے خلاف کسی کی گواہی کا جواز نہیں دیکھتا سوائے جو مجھ سے ہو۔ آپؐ نے فرمایا اللہ فرمائے گا آج کے دن تیرا نفس ہی تجھ پر گواہی کے لئے کافی ہے اور معزز لکھنے والے گواہ ہیں۔ آپؐ نے فرمایا پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضاء سے کہا جائے گا بولو فرمایا پھر وہ اس کے اعمال کے بارہ میں بولیں گے۔ اور فرمایا پھر اس کو بولنے دیا جائے گا فرمایا پھر وہ کہے گا دور ہو جاؤ تمہاری ہلاکت ہو۔ میں تمہارے لئے جھگڑا کرتا تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے اللہ آل محمدؐ کو ضرورت کے مطابق رزق عطا فرما۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے اللہ! آل محمدؐ کو ضرورت کے مطابق رزق عطا فرما۔ ایک روایت میں (اللّٰھُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ کی بجائے) اللّٰھُمَّ ارْزُقْ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں (قُوْتاً کی بجائے) کَفَافاً کے الفاظ ہیں (یعنی بقدر ضرورت)۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ جب سے آپﷺ مدینہ تشریف لائے آل محمدﷺ کبھی گندم کی روٹی سے متواتر تین راتیں سیر نہیں ہوئے یہانتک کہ آپؐ کی وفات ہوگئی۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے کبھی متواتر تین دن گندم کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی یہانتک کہ آپؐ نے رحلت فرمائی۔