بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 163 hadith
عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے عمرو بن ابی عمرو سے جو مطلب کے آزاد کردہ غلام تھے۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُحد (پہاڑ) دکھائی دیا۔ فرمایا: یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اے اللہ! ابراہیم نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں اس جگہ (یعنی مدینہ) کو جو دونو ں پتھریلے میدانوں کے درمیان (واقع) ہے حرم قرار دیتا ہوں۔ حضرت عبداللہ بن زیدؓ نے اس حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے روایت کی کہ (عبداللہ) بن ابی بکر نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم سے سن کر بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کو) فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہاری قوم نے جو کعبہ بنایا تھا تو انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کی بنیادوں سے (اس کو) چھوٹا رکھا ہے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپؐ حضرت ابراہیم ؑ کی بنیادوں پر اسے نہیں لوٹا دیتے؟ آپؐ نے فرمایا: اگر تمہاری قوم کفر سے قریب العہد نہ ہوتی (تو میں ایسا کردیتا) حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے تھے: اگر حضرت عائشہؓ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی لئے ان دو رکنوں کو نہیں چومتے تھے جو حجر اسود کے قریب ہیں کہ بیت اللہ کو حضرت ابراہیم ؑ کی بنیادوں پر پورے طور پر نہیں بنایاگیا تھا۔ اسماعیل (بن ابی اویس) نے اس حدیث میں عبداللہ بن محمد بن ابی بکر کہا ہے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک بن انس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے، انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے عمرو بن سلیم زُرَقی سے روایت کی کہ حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم آپؐ کے لئے دعائے رحمت کس طرح کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوں کہیں اے اللہ! محمدؐ اور آپؐ کی ازواج اور آپؐ کی اولاد پر رحمت فرما۔ جیسا کہ تو نے ابراہیم ؑ کی اولاد پر رحمت کی۔ اور محمدؐ اور آپؐ کی ازواج اور آپؐ کی اولاد پر برکت ناز ل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ؑ کی اولاد کو برکت دی۔ یقینا تو بہت ہی خوبیوں والا (اور) بڑی شان والا ہے۔
قیس بن حفص اور موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالواحد بن زیاد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوقرۃ مسلم بن سالم ہمدانی نے ہمیں بتایا۔ کہا: عبداللہ بن عیسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے سنا۔ انہوں نے کہا: مجھے حضرت کعب بن عجرہؓ ملے۔ انہوں نے کہا: کیا میں آپ کے سامنے ایک تحفہ نہ پیش کروں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا؟ میں نے کہا: کیوں نہیںمجھے وہ تحفہ دیں۔ انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ ہم نے کہا: یارسول اللہ! آپؐ کے اور آپؐ کے اہل بیت کے لئے دعائے رحمت کیونکر کی جائے۔ کیونکہ اللہ نے ہمیں یہ تو سکھلا دیا ہے کہ ہم سلامتی کی دعا کیونکر کریں۔ آپؐ نے فرمایا: یوں کہو اے اللہ! محمدؐپر اور محمدؐ کی آل پر رحم فرما۔ جیسا کہ تو نے ابراہیم ؑ اور ابراہیم ؑکی آل پر رحم کیا۔ یقینا تو بہت ہی خوبیوں والا (اور) بڑی شان والا ہے۔ اے اللہ! تو محمدؐ پر اور محمدؐ کی آل پر برکت نازل فرما جیسی کہ تو نے ابراہیم ؐپر اور ابراہیم ؑ کی آل پر برکت نازل کی۔ یقینا تو بہت ہی خوبیوں والا (اور) بڑی شان والا ہے۔
عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، انہوں نے منہال (بن عمرو) سے، منہال نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کے لئے شر سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ تمہارے دادا ابراہیم ؑانہی الفاظ سے اسماعیل ؑاور اسحاق ؑ کے لئے پناہ مانگتے تھے۔ یعنی میں اللہ کی کامل صفات کے ذریعہ سے ہر شیطان اور ہر زہریلے کیڑے سے اور ہر بری آنکھ سے پناہ لیتا ہوں۔
(تشریح)احمد بن صالح نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن وہب نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے کہا: مجھے یونس نے خبر دی۔ انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شک کے ابراہیم ؑسے ہم زیادہ حق دار ہیں کہ یہ کہتے: اے میرے ربّ! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے؟ اللہ نے فرمایا: اے ابراہیم! کیا تجھے یقین نہیں؟ کہا: کیوں نہیں مجھے اس پر پورا یقین ہے۔ مگر میری درخواست اس لئے ہے کہ تا میرا دل پورے طور پر تسلی پا جائے۔ اور اللہ لوطؑ پر رحم کرے کہ وہ کسی مضبوط سہارے کی پناہ لینا چاہتے تھے۔ اور اگر میں قید خانہ میں اتنا عرصہ رہتا جتنا کہ یوسف ؑ رہے تو جو بلانے والا شخص آیا تھا، میں اس کی بات مان لیتا۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم (بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابی عبیدسے، انہوں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسلم قبیلہ کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو آپس میں تیر اندازی کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسماعیل کے بیٹو! تیر اندازی کرو۔ کیونکہ تمہارے دادا تیر انداز تھے۔ تیراندازی کرو۔ اور میں فلاں (یعنی ابن ادرع) کے بیٹوں کے ساتھ ہوتا ہوں۔ (حضرت سلمہؓ نے) کہا: ان دو فریقوں میں سے ایک نے اپنے ہاتھ روک لئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا، تیر نہیں چلاتے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ ان کے ساتھ ہوں اور ہم تیر چلائیں۔ آپؐ نے فرمایا: تیر چلائو اور میں تم سب کے ساتھ ہوں۔
(تشریح)اسحاق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے معتمر سے سنا۔انہوں نے عبیداللہ (عمری) سے، عبیداللہ نے سعید بن ابی سعید مقبری سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: لوگوں میں سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ان میں سب سے زیادہ شریف وہ ہے جو ان میں سب سے بڑھ کر متقی ہے۔ لوگوں نے کہا: یانبی اللہ! اس کے متعلق ہم آپؐ سے نہیں پوچھتے۔ آپؐ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بڑھ کر شریف یوسف ؑہیں جو اللہ کے نبی ہیں، نبی اللہ کے بیٹے ہیں، نبی اللہ کے پوتے ہیں، خلیل اللہ کے پڑپوتے ہیں۔ انہوںنے کہا: اس کے متعلق بھی ہم آپؐ سے نہیں پوچھتے۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر کیا عربوں کے خاندانوں سے متعلق مجھ سے پوچھتے ہو؟ کہنے لگے: جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: تم میں سے جو جاہلیت میں اچھے تھے، وہ اسلام میں بھی اچھے ہیں۔بشرطیکہ دین کی باتیں سیکھیں۔
(تشریح)