بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 163 hadith
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ مغیرہ بن عبدالرحمن قرشی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابو الزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جبکہ وہ اَسی سال کے تھے تیشہ سے ختنہ کیا۔ عبد الرحمان نے بھی ابوسلمہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبردی کہ ابوالزناد نے لفظ قَدُوْم بغیر دال کی شَدّ کے ہم سے بیان کیا۔ شعیب کی طرح عبدالرحمن بن اسحاق نے ابوالزناد سے یہی روایت کیا۔ اور عجلان نے بھی حضرت ابوہریرہؓ سے اسی طرح نقل کیا۔ اور محمد بن عمرو نے بھی ابوسلمہ سے اسی طرح روایت کیا۔
محمد بن محبوب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے محمد (بن سیرین )سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوںنے کہا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین باتوں کے سوا خلافِ واقعہ نہیں کہا۔ ان میں سے دو تو اللہ عز وجل کی ذات کے بارے میں یعنی ان کا یہ کہنا کہ ــ’’میں بیمار ہوں‘‘ اور ان کا یہ کہنا ــ’’بلکہ ان میں سے بڑے نے یہ کیا ہے‘‘ ا ور آپؐ نے فرمایا: اسی اثنا میں وہ اور حضرت سارہ ظالموں میں سے ایک ظالم کے ملک میں آئے اور اسے بتایا گیا کہ یہاں ایک مرد ہے جس کے ساتھ ایک نہایت ہی خوبصورت عورت ہے۔ اس نے ان کو بلا بھیجا اور سارہ کی بابت ان سے دریافت کیا۔ پوچھا: یہ کون ہے؟ حضرت ابراہیم ؑنے کہا: میری بہن۔ پھر حضرت ابراہیم ؑ حضرت سارہ کے پاس آئے۔ کہا: سارہ! روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا اَور کوئی مومن نہیں اور اس شخص نے مجھ سے تمہارے متعلق پوچھا: میں نے اسے بتایا کہ تم میری بہن ہو اس لئے تم مجھے نہ جھٹلانا۔ اس ظالم نے سارہ کو بلا بھیجا۔ جب وہ اس کے پاس اندر گئیں وہ ان کو اپنے ہاتھ سے پکڑنے لگا مگر وہ جکڑا گیا۔ کہنے لگا: میرے لئے اللہ سے تم دعا کرو اور میں تمہیں نقصان نہیں پہنچائوں گا۔ حضرت سارہ نے اللہ سے دعا کی اور وہ چھوڑ دیا گیا۔ پھر اس نے ان پر دوسری مرتبہ ہاتھ ڈالا اور وہ پھر اسی طرح یا اس سے بڑھ کر سختی سے جکڑا گیا۔ کہنے لگا: میرے لئے اللہ سے تم دعا کرو اور میں تمہیں نقصان نہیں پہنچائوں گا۔ حضرت سارہ نے دعا کی اور وہ چھوڑ دیا گیا۔ پھر اس نے اپنے بعض دربان بلائے اور ان سے کہا : میرے پاس انسان کو تم نہیں لائے ہو بلکہ شیطان تم میرے پاس لائے ہو۔ اس نے حضرت سارہ کو حضرت ہاجرہ بطور خدمت گزار کے دی اور حضرت ابراہیم کے پاس وہ آئیں اور وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے او ر انہوں نے اپنے ہاتھ کے اشارہ سے پوچھا: کیا ہوا؟ حضرت سارہ بولیں: اللہ نے اس کافر یا کہا اس بدکار کی تدبیر اسی کے سینے میں اُلٹادی اور ہاجرہ خدمت کے لئے دی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: اے آسمانی پانی کے بیٹو! وہی ہاجرہ تمہاری ماں ہے۔
عبیداللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ یا (محمد) بن سلام نے ان سے ر وایت سن کر ہم سے بیان کیا کہ ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالحمید بن جبیر سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت امّ شریک رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کو مار ڈالنے کا حکم دیا ہے اور آپؐ نے فرمایا: یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر پھونکتا تھا۔
عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا۔ اعمش نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ابراہیم (نخعی) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی یعنی جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے اپنے ایمان میں ظلم کی آمیزش نہیں کی۔ تو ہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں سے ایسا کون ہے جو اپنے نفس پر ظلم نہیں کرتا۔ آپؐ نے فرمایا: جیسا تم کہتے (سمجھتے) ہو، ایسا نہیں۔ (اس سے مراد یہ ہے کہ) اپنے ایمان میں شرک کی آمیزش نہیںکی۔ کیا تم نے لقمان کی بات نہیں سنی جو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہی تھی: اے میرے بیٹے! اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا۔ کیونکہ شرک بہت ہی بڑا ظلم ہے۔ (کیونکہ معبودِ حقیقی کا حق غیر اللہ کو دے دیا جاتا ہے۔)
اسحاق بن ابراہیم بن نصر نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے ابوحیان سے، انہوں نے ابوزُرعہ سے، ابوزُرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دن گوشت لایا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: قیامت کے روز اللہ پہلوں اور پچھلوں کو ایک ہی میدان میں اکٹھا کرے گا اور پکارنے والا انہیں (اپنی آواز) سنا سکے گا، آنکھ ان کو دیکھ سکے گی اور سورج ان کے نزدیک ہوجائے گا۔ پھر آپؐ نے شفاعت کا واقعہ بیان کیا کہ لوگ حضرت ابراہیم ؑ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: آپؑ اللہ کے نبی اور اہل زمین میں سے اس کے نہایت پیارے دوست ہیں۔ آپؑ ہمارے لئے اپنے ربّ سے سفارش کریں۔ حضرت ابراہیم ؑ کہیں گے اور ان کو خلاف واقعہ باتیں یاد ہوں گی کہ مجھے تو اپنی پڑی ہے۔ تم موسیٰ ؑ کے پاس جائو۔ حضرت ابوہریرہؓ کی طرح حضرت انسؓ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت کی۔
اور (محمد بن عبداللہ) انصاری نے کہا: ابن جریج نے (اسی طرح) ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: لیکن کثیر بن کثیر جو ہیں تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں اور عثمان بن ابی سلیمان، سعید بن جبیر کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے کہا: حضرت ابن عباسؓ نے مجھ سے یہ حدیث اس طرح بیان نہیں کی۔ بلکہ انہوں نے یوں کہا: حضرت ابراہیم ؑ حضرت اسماعیل ؑاور ان کی والدہ کو لے آئے۔ ان پر سلامتی ہو اور وہ اسماعیل ؑ کو دودھ پلاتی تھیں۔ ان کے ساتھ ایک مشکیزہ تھا۔ حضرت ابن عباسؓ نے یہ حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچائی۔ پھر اس کے بعد حضرت ابراہیم ؑ حضرت ہاجرہ اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کو (مکہ میں) لے آئے۔
عبداللہ بن محمد(مسندی) نے (بھی) ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سختیانی اور کثیر بن کثیر بن مطلب بن ابی وداعہ سے روایت کی۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے کچھ زیادہ بیان کرتے تھے۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی کہ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: عورتوں نے جو پہلے پہل کمر کی پیٹی باندھنا شروع کی تو یہ حضرت اسماعیلؑ کی والدہ کی طرف سے ہوا تھا۔ انہوں نے کمر میں پٹہ باندھا تاکہ وہ سارہ کے لئے اپنے قدموں کے نشان مٹا دیں۔ اس کے بعد حضرت ابراہیمؑ انہیں اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو جنہیں وہ دودھ پلاتی تھیں لائے اور ان کو بیت اللہ کے قریب ایک بڑے درخت کے قریب بٹھا دیا جو زمزم کے اوپر مسجد کی بلند جانب میں تھا اور مکہ میں ان دِنوں کوئی بھی نہ تھا اور نہ ہی اس میں پانی تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ان دونوں کو وہاں چھوڑدیا اور ایک تھیلہ جس میں کھجوریں تھیں اور ایک مشکیزہ جس میں پانی تھا ان کے پاس رکھ دیا۔ پھرحضرت ابراہیمؑ واپس چلے آئے اور حضرت اسماعیلؑ کی ماں ان کے پیچھے گئیں اور انہوں نے کہا: ابراہیمؑ کہاں جاتے ہو اور ہمیں اس جنگل میں چھوڑ رہے ہو، جہاں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی چیز۔ حضرت ہاجرہ نے حضرت ابراہیمؑ ؑ سے یہ کئی بار کہا اور وہ ان کی طرف مڑ کر دیکھتے بھی نہ تھے۔ آخر حضرت ہاجرہ نے ان سے کہا: کیا اللہ نے آپؑ کو ایسا حکم دیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ کہنے لگیں: پھر وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا اور یہ کہہ کر واپس آئیں۔ حضرت ابراہیمؑ چلے گئے یہاں تک کہ جب وہ اس گھاٹی کے قریب پہنچے جہاں وہ نہیں دیکھ سکتے تھے، انہوں نے بیت اللہ کی طرف منہ کیا اور ہاتھ اٹھا کر ان الفاظ میں دعا کی: اے میرے ربّ میں نے اپنی اولاد کو ایک ایسے میدان میں ٹھہرایا ہے جہاں کچھ بھی نہیں اُگتا۔۔۔۔ تاکہ وہ شکر کریں۔ اورحضرت اسماعیلؑ کی ماں حضرت اسماعیلؑ کو دودھ پلانے لگیں اور اس پانی سے خود بھی پیتی رہیں (اورحضرت اسماعیلؑ کو بھی پلاتی رہیں) یہاں تک کہ مشکیزہ میں جو پانی تھا جب ختم ہوگیا تو وہ پیاسی ہوئیں اور ان کے بیٹے کو بھی پیاس لگی اور اس کو دیکھنے لگیں کہ وہ مارے پیاس کے پیچ و تاب کھا رہا ہے، یا کہا کہ وہ تڑپ رہا ہے۔ وہ گئیں کیونکہ اس کو ایسی حالت میں دیکھنا انہیں گوارا نہ ہوا اور اس علاقہ میں صفا ہی نزدیک ترین پہاڑ تھا جو انہوں نے دیکھا کہ ان کے بالکل قریب ہے، اس پر وہ کھڑی ہوئیں اور اس وادی کی طرف منہ کرکے دیکھنے لگیں کہ آیا کوئی انہیں نظر آتا ہے۔ مگر انہوں نے کسی کو نہ دیکھا اور صفا سے وہ نیچے اتر آئیں۔ جب نالے میں پہنچیں اپنی قمیص کا کنارہ اُٹھایا۔ پھر وہ اس طرف دوڑیں جیسے مصیبت زدہ انسان بھاگتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس نالے کے پار گئیں۔ پھر وہ مروہ پہاڑ پر آئیں اوراس پر کھڑی ہوئیں اور نظر ڈالی کہ آیا کوئی انہیں دکھائی دیتا ہے۔ مگر انہوں نے کسی کو بھی نہ دیکھا۔ اسی طرح انہوں نے سات بار کیا۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: نبی ﷺ نے فرمایا: یہی وجہ ہے کہ لوگ ان دونوں ٹیلوں کے درمیان دوڑتے ہیں۔ پھر جب وہ مروہ پر چڑھ کر جھانکیں تو انہوں نے کوئی آواز سنی۔ کہنے لگیں: چپ۔ یہ بات وہ اپنے آپ کو ہی کہتی تھیں۔ پھر کان لگا کرسننے کی کوشش کی۔ {پھر انہوں نے اسی طرح آواز سنی}۔ تب وہ بولیں: میں نے تمہاری آواز سن لی ہے۔ اگر تم نے کچھ مدد کرنی ہے تو کرو۔ کیا دیکھتی ہیں کہ فرشتہ ہے زمزم کی جگہ کے قریب۔ اس نے اپنی ایڑی سے یا کہا: اپنے بازو سے زمین کرید ڈالی۔ یہاں تک کہ پانی نکل آیا۔ اس پر حضرت ہاجرہ نے وہاں حوض بنانا شروع کردیا۔ اور اپنے ہاتھ سے اس طرح منڈیر بنایا اور چلو سے پانی لے کر اپنے مشکیزے میں ڈالنے لگیں۔ چلو سے پانی لے چکتیں کہ وہ جوش مارتا اور نکل آتا۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اسماعیل کی ماں پر رحم کرے۔ اگر وہ زمزم کو (اپنی حالت پر) چھوڑ دیتیں یا فرمایا: اگرپانی چلو بھر بھر کر نہ لیتیں تو زمزم اب ایک بہتا ہوا چشمہ ہوتا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: چنانچہ حضرت ہاجرہ نے پانی پیا اور اپنے بچے کو دودھ پلایا اور ان کو اس فرشتے نے کہا: مت ڈرو کہ تم ضائع ہوجائو گے۔ کیونکہ یہاں بیت اللہ ہے۔ یہ لڑکا اور اس کا باپ اسے بنائیں گے اور اللہ اپنے گھر والوں کو ضائع نہیں کرے گا اور اس وقت وہ گھر زمین سے اوپر قدرے اُٹھا ہوا تھا، جیسے ٹبہ ہوتا ہے۔ سیلاب وہاں آتے اور اس کے دائیں اور بائیں جانب سے کچھ نہ کچھ بہا کر لے جاتے تھے۔ حضرت ہاجرہ اسی حالت میں تھیں کہ اتنے میں جرہم کا ایک قافلہ یا کہا جرہم کا ایک قبیلہ کداء کے راستے سے آتے ہوئے ان کے پاس سے گزرا اور انہوں نے مکہ کے نشیب میں ڈیرہ لگایا۔ انہوں نے ایک پرندہ گھومتے ہوئے دیکھا۔ کہنے لگے: یہ پرندہ تو یقینا پانی پر گھوم رہا ہے۔ ہم اس نالے سے خوب واقف ہیں۔ پانی تو اس میں کبھی نہیں ہوا۔ انہوں نے ایک یا دو خادم بھیجے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں پانی ہے۔ وہ لوٹ آئے اور ان کو خبردی۔ اس پر وہ آئے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا اور حضرت اسماعیلؑ کی ماں پانی کے پاس ہی تھیں۔ انہوں نے کہا: ہمیں تم اجازت دیتی ہو کہ تمہارے پاس ڈیرہ لگائیں۔ حضرت ہاجرہ نے کہا: ہاں (اجازت ہے۔) مگر پانی میں تمہارا کوئی حق نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا: اچھا۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اجازت حضرت اسماعیلؑ کی ماں سے اتفاق سے ایسے وقت میں مانگی گئی جبکہ وہ چاہتی تھیں کہ یہاں آدمی آباد ہوں۔ وہ اُتر پڑے اور اپنے بال بچوں کو بلالیا اور وہ بھی ان کے ساتھ ٹھہرے۔ جب وہاں کئی گھرانے ہوگئے اور وہ لڑکا جوان ہوا اور اس نے ان سے عربی سیکھی اور حضرت اسماعیلؑ جب جوان ہوئے تووہ انہیں بہت پیارے تھے۔ جب وہ بالغ ہوگئے تو جرہم نے اپنے میں سے ایک عورت کے ساتھ ان کی شادی کردی اور حضرت اسماعیلؑ کی ماں فوت ہوگئیں اور حضرت ابراہیمؑ حضرت اسماعیلؑ کے شادی کرنے کے بعد آئے۔ جنہیں وہ چھوڑ گئے تھے انہیں دیکھنے کے لیے آئے۔ اور حضرت اسماعیلؑ کو (گھر میں) نہ پایا۔ تو انہوں نے ان کی بیوی سے ان کے متعلق دریافت کیا۔ اس نے کہا: باہر گیا ہے، ہمارے لئے روزی تلاش کررہا ہے۔ پھر حضرت ابراہیمؑ نے اس سے ان کی گزران اور حالت سے متعلق پوچھا۔ اس نے کہا: ہم بری حالت میں ہیں۔ تنگی اور تکلیف میں ہیں۔ پس اس نے ان سے شکایت کی۔ حضرت ابراہیم ؑ نے کہا: جب تمہاراخاوند آئے، اسے سلام کہیو اور اسے کہنا کہ اپنے دروازہ کی دہلیز بدل دے۔ جب حضرت اسماعیلؑ آئے تو انہوں نے کہا کہ کیا کوئی تمہارے پاس آیا تھا؟ جیسے انہوں نے کوئی غیر معمولی بات دیکھی۔ اس نے کہا: ہاں ہمارے پاس ایک بوڑھا آیا تھا، ایسا ایسا تھا۔ اس نے ہم سے تمہارے متعلق دریافت کیا تھا۔ میں نے اس کو بتا دیا اور اس نے مجھ سے پوچھا تھا: ہمارا گزران کیسا ہے؟ میں نے اسے بتایا کہ ہم تنگی اور تکلیف میں ہیں۔ حضرت اسماعیلؑ نے پوچھا: کیا تمہیں کچھ فرمایا تھا؟ اس نے کہاں: ہاں۔ مجھے فرمایا تھا کہ میں تمہیں سلام کہوں اور وہ کہتا تھا کہ تم اپنے دروازے کی دہلیز بدل ڈالو۔ انہوں نے کہا: یہ میرے باپ تھے (اور) انہوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں چھوڑ دوں۔ اپنے گھر والوں کے ہاں چلی جائو اور انہوں نے اس کو طلاق دے دی اور ان میں سے ایک اور سے شادی کرلی۔ پھر حضرت ابراہیمؑ جب تک اللہ نے چاہا ان کے پاس نہیں آئے۔ (اپنے علاقہ میں ہی رہے۔) پھر کچھ عرصہ بعد ان کے پاس آئے اور انہوں نے حضرت اسماعیلؑ کو نہ پایا۔ وہ ان کی بیوی کے پاس اندر آئے اور اس سے ان کے متعلق دریافت کیا۔ کہنے لگی: ہمارے لئے روزی تلاش کرنے کو باہرگئے ہیں۔ انہوں نے پوچھا: تم کیسے ہو؟ اور ان کی گزران اور حالت سے متعلق اس سے پوچھا۔ اس نے کہا: الحمد للہ۔ ہم خیریت سے ہیں۔ ہر بات کی کشائش ہے۔ انہوں نے پوچھا: تمہاری خوراک کیا ہے؟ اس نے کہا: گوشت۔ انہوں نے پوچھا: اور تم پیتے کیا ہو؟ اس نے کہا: پانی۔ حضرت ابراہیمؑ نے کہا: اے اللہ ان کے لئے گوشت اور پانی میں برکت دے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دِنوں ان کے پاس اناج نہیں ہوتا تھا اور اگر ہوتا تو وہ اناج کی بابت بھی ان کے لئے دعا کرتے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: مکہ کے سوا دوسری جگہوں میں ان دو چیزوں پر آدمی گزارہ نہیں کرسکتا۔ یہ غذا ضرور ناموافق ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے کہا: جب تمہارا خاوند آئے تو اسے سلام کہیواور کہیو کہ وہ اپنے دروازے کی دہلیز قائم رکھے۔ جب حضرت اسماعیلؑ آئے تو انہوں نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کوئی آدمی آیا تھا؟ ان کی بیوی نے کہا: ہاں ایک بوڑھے آئے تھے۔ اچھی وضع اور شکل تھی اور اس نے ان کی تعریف کی اور کہا: انہوں نے مجھ سے آپؑ کے بارہ میں دریافت کیا۔ میں نے انہیں بتا دیا۔ پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ ہمارا گزارا کیسا ہے؟ میں نے انہیں بتایا کہ اچھی حالت میں ہیں۔ حضرت اسماعیلؑ نے پوچھا: تو کیا انہوں نے تمہیں کچھ فرمایا تھا؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپؑ کو سلام کہتے تھے اور فرماتے تھے کہ اپنے دروازے کی دہلیز قائم رکھے۔ انہوں نے کہا: وہ میرے باپ ہیں اور تم ہی وہ دہلیز ہو۔ انہوں نے مجھے فرمایا ہے کہ میں تمہیں رہنے دوں۔ پھر حضرت ابراہیمؑ جتنی دیر اللہ نے چاہا ان کے پاس نہ آئے۔ (اپنے ملک ہی میں ٹھہرے۔) پھر اس کے بعد وہ آئے اور حضرت اسماعیلؑ اس وقت زمزم کے قریب ایک بڑے درخت کے نیچے (بیٹھے) اپنے لئے تیر تراش کر بنا رہے تھے۔ جب حضرت اسماعیل ؑ نے ان کو دیکھا، وہ اُٹھ کر ان سے ملے اور جیسا باپ بیٹے سے اور بیٹا باپ سے پیش آتا ہے وہ دونوں ایک دوسرے سے پیش آئے۔ پھر حضرت ابراہیمؑ نے کہا: اسماعیلؑ اللہ نے مجھے ایک بات کا حکم دیا ہے۔ حضرت اسماعیلؑ نے کہا: جو حکم اللہ نے آپؑ کو دیا ہے بجالائیں۔ انہوں نے کہا: اور تم میری مدد کروگے؟ حضرت اسماعیلؑ نے کہا: میں آپؑ کی مدد کروں گا۔ حضرت ابراہیمؑ نے کہا: اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں یہاں ایک گھر بنائوں اور انہوں نے ایک اونچے ٹیلے کی طرف اشارہ کیا۔ یعنی اس کے ارد گرد جو جگہ اس پر تھی۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: اس وقت ان دونوں نے بیت اللہ کی بنیادیں اُٹھائیں۔ حضرت اسماعیلؑ پتھر لانے لگے اور حضرت ابراہیمؑ بناتے تھے۔ یہاں تک کہ جب عمارت اونچی ہوگئی تو حضرت اسماعیلؑ یہ پتھر لائے اور اسے حضرت ابراہیمؑ کے لئے وہاں رکھ دیا۔ وہ اس پر کھڑے ہوکر عمارت بناتے تھے اور حضرت اسماعیلؑ انہیں پتھر پکڑاتے جاتے تھے اور وہ دونوں ساتھ ساتھ یہ دعا بھی مانگتے تھے: اے ہمارے ربّ! ہم سے یہ قبول کیجئے۔ تو ہی خوب سنتا ہے، خوب جانتا ہے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: غرض وہ دونوں اس طرح بناتے رہے۔ بیت اللہ کے ارد گرد پھرتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے:اے ہمارے ربّ ہم سے یہ قبول کیجئے ۔ تو ہی خوب سنتا ہے، خوب جانتا ہے۔
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعامر عبدالملک بن عمرو نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ابراہیم بن نافع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کثیر بن کثیر سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب حضرت ابراہیمؑ اور ان کی بیوی (حضرت سارہ) کے درمیان جو کچھ جھگڑا ہوا تو وہ حضرت اسماعیلؑ {اور حضرت اسماعیل کی ماں} کو لے کر نکل گئے اور ان کے ساتھ ایک مشکیزہ تھا جس میں پانی تھا۔ حضرت اسماعیلؑ کی ماں مشکیزے سے پینے لگیں اور ان کے بچے کے لئے دودھ اُترتا تھا۔ جب مکہ میں حضرت ابراہیم ؑ پہنچے تو انہوںنے حضرت اسماعیلؑ کی ماں کو ایک بڑے درخت کے نیچے اُتارا۔ پھر حضرت ابراہیمؑ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹے۔ حضرت اسماعیلؑ کی ماں ان کے پیچھے گئیں۔ یہاں تک کہ جب کداء میں وہ پہنچے، انہوں (یعنی حضرت ہاجرہ) نے ان کو پیچھے سے آواز دی: اے ابراہیم! کس کے حوالے ہمیںچھوڑے جارہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کے۔ کہنے لگیں: اللہ پر میں راضی ہوں۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: وہ لوٹ گئیں۔ اس مشکیزے سے پیتی رہیں اور ان کے بچے کے لئے ان کا دودھ اُترتا؛ یہاں تک کہ جب پانی بالکل ختم ہوگیا۔ دل میں کہنے لگیں: چلوں اور دیکھوں تو سہی، شاید کسی کی آہٹ پائوں۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: چنانچہ وہ گئیں اور صفا پر چڑھیں اور نظر دوڑائی اور غور سے دیکھا، آیا کوئی دکھائی دیتا ہے۔ کسی کو بھی نہ دیکھا۔ جب وہ نالہ میں پہنچیں وہ دوڑنے لگیں اور مروہ پر آگئیں اور اسی طرح کئی بار اِدھر اُدھر وہ دوڑیں۔ پھر خیال کیا: کاش میں جاکر دیکھوں تو سہی اس کا کیا حال ہے؟ اس سے مراد اُن کی بچے سے تھی۔ چنانچہ وہ گئیں اور کیا دیکھا کہ وہ اسی حالت میں ہے جیسے کہ جانکنی میں سسکیاں لے رہا ہے۔ ان کا دل بے قرار ہوگیا۔ کہنے لگیں: جائوں تو سہی اور دیکھوں شاید کسی کی آہٹ پائوں۔ چنانچہ وہ گئیں اور صفا پر چڑھ گئیں اور بار بار نظر دوڑائی۔ لیکن کسی کو بھی نہ دیکھا۔ اسی طرح انہوں نے پورے سات چکر لگائے۔ پھر خیال کیا کاش میں جاکر دیکھوں تو سہی اس کا کیا حال ہے؟ اتنے میں اچانک وہ ایک آواز سنتی ہیں۔ (آواز سن کر) بولیں: ہماری فریاد کو پہنچو، اگر تم بھلائی کرسکتے ہو۔ کیا دیکھتی ہیں کہ جبریل ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: انہوں نے اپنی ایڑی سے یوں کیا۔ اور حضرت ابن عباسؓ نے اپنی ایڑی زمین پر ماری اور بتایا کہ پانی پھوٹ پڑا۔ اس سے حضرت اسماعیلؑ کی ماں حیران ہوگئیں اور زمین کھودنے لگیں۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا: اگر وہ اسی طرح رہنے دیتیں تو پانی سطح زمین پر بہتا رہتا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: غرض وہ پانی پینے لگیں اور ان کا دودھ بچے کے لئے اُترنا شروع ہوا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: پھر جرہم (قبیلہ) کے کچھ لوگ اس نالے کے نشیب میں گزرے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ پرندے ہیں۔ یہ گو یا انہوں نے نرالی بات دیکھی اور کہنے لگے: پرندے پانی کے آس پاس ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنا خبررساں بھیجا۔ اس نے دیکھا بھالا اور کیا دیکھتا ہے کہ وہ پانی کے قریب ہیں۔ وہ ان کے پاس آیا اور اس نے انہیں بتایا۔ چنانچہ وہ سب ہاجرہ کے پاس آئے۔ کہنے لگے: اسماعیلؑ کی ماں! کیا تم ہمیں اجازت دیتی ہو کہ ہم تمہارے ساتھ رہیں یا (کہا) ہم تمہارے ساتھ بسیں؟ (انہوں نے اجازت دی اور وہ وہاں رہنے لگے۔) جب حضرت ہاجرہ کا بیٹا جوان ہوا تو اس نے ان کی ایک عورت سے نکاح کیا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: پھر ایک مدت بعد حضرت ابراہیمؑ کو خیال آیا اور انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: جنہیں میں چھوڑ آیا تھا انہیں دیکھنے جاتا ہوں۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: چنانچہ وہ آئے اور انہوں نے سلامتی کی دعا دی اور پوچھا: اسماعیلؑ کہاں ہیں؟ ان کی بیوی نے کہا: شکار کرنے گئے ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ نے کہا: جب وہ آئے تو تم اسے کہنا: اپنے دروازے کی دہلیز بدل ڈالو۔ جب وہ آئے تو ان کی بیوی نے ان کو بتایا۔ حضرت اسماعیلؑ نے کہا: تو ہی وہ دہلیز ہے۔ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: پھر کچھ مدت بعد حضرت ابراہیمؑ کو خیال آیا اور انہوں نے اپنے گھروالوں سے کہا: جنہیں میں چھوڑ آیا تھا انہیں دیکھنے جا رہا ہوں۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: چنانچہ وہ آئے اور پوچھا: اسماعیلؑ کہاں ہے؟ ان کی بیوی نے کہا: شکار کھیلنے گئے ہیں۔ ان کی بیوی نے کہا: آپ اتریں تو سہی۔ کچھ کھاپی لیں۔ حضرت ابراہیمؑ نے پوچھا: تم کیا کھاتے ہو اور کیا پیتے ہو؟ حضرت اسماعیلؑ کی بیوی نے جواب دیا۔ ہماری خوراک گوشت ہے اور پانی پیتے ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ نے دعا کی: اے اللہ! انہیں ان کے کھانے اور پینے میں برکت دے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: ابوالقاسم ﷺ فرماتے تھے: حضرت ابراہیمؑ کی دعا سے برکت ہے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: پھر کچھ مدت بعد حضرت ابراہیمؑ کو خیال آیا اور انہوں نے اپنے گھرو الوں سے کہا: جنہیں میں چھوڑ آیاتھا، انہیں دیکھنے جا رہا ہوں۔ چنانچہ وہ آئے۔ اتفاق سے حضرت اسماعیلؑ کو زمزم کے ادھر (بیٹھے) پایا۔ اپنے تیر درست کررہے تھے۔ انہوں نے کہا: اسماعیل! تمہارے ربّ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کا ایک گھر بنائوں۔ انہوں نے کہا: اپنے ربّ کا حکم بجا لائیں۔ حضرت ابراہیمؑ نے کہا: اس نے مجھے یہ بھی فرمایا ہے کہ تم اس میں میری مدد کرو۔ حضرت اسماعیلؑ نے کہا: پھر میں کروں گا۔ یا کہا: ایسا ہی ہوگا جیسا اس نے فرمایا ہے۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: پھر وہ دونوں اُٹھے۔ حضرت ابراہیمؑ نے بنانا شروع کیا اور حضرت اسماعیلؑ ان کو پتھر لالا کردیتے جاتے تھے اور دونوں یہ دعا مانگتے تھے۔ اے ہمارے ربّ! ہم سے قبول فرما۔ تو ہی درحقیقت (دعائیں) خوب سننے والا، بات کو خوب جاننے والا ہے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: وہ کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ عمارت اونچی ہوگئی اور حضرت ابراہیمؑ پتھر کو اوپر پہنچانے سے رہ گئے۔ اس لئے وہ مقامِ ابراہیم والے پتھر پر کھڑے ہوئے اور حضرت اسماعیلؑ ان کو پتھر دیتے جاتے تھے اور دونوں یہ دعا مانگتے تھے: اے ہمارے ربّ! ہم سے قبول فرما تو ہی سمیع و علیم ہے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابراہیم تیمی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔ ان کے باپ نے کہا: میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے کہا: یا رسول اللہ! زمین میں پہلے کونسی مسجد بنائی گئی؟ آپؐ نے فرمایا: مسجد حرام۔ کہتے تھے: میں نے کہا: پھر اس کے بعد کونسی؟ فرمایا: مسجد اقصیٰ۔ میں نے کہا: ان دونوں میں کتنا فاصلہ تھا؟ فرمایا: چالیس سال۔ پھر اس کے بعد ( فرمایا:) جہاں کہیں بھی نماز کا وقت تمہیں آجائے وہیں نماز پڑھ لو۔ کیونکہ اصل فضیلت تو اسی میں ہے۔