بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 3 of 163 hadith
محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ غندر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ قتادہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ابوالعالیہ سے سنا کہ تمہارے نبی کے چچا زاد بھائی یعنی حضرت ابن عباسؓ نے ہمیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کسی بندے کو بھی یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میں یونس بن متّٰی سے اچھا ہوں اور راوی نے یونس کے باپ کا نام متّٰی بیان کیا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا۔ شعیب نے ہمیں خبردی کہ ابوالزناد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمن سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: میری اور لوگوں کی مثال اس شخص کی مثال ہے جس نے آگ جلائی اور پتنگے اور کیڑے مکوڑے اس آگ میں گرنے لگے۔
یحيٰ بن بکیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے لیث سے، لیث نے عبدالعزیز بن ابی سلمہ سے، انہوں نے عبداللہ بن فضل سے، انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک بار ایک یہودی اپنا تجارتی سامان بیچ رہا تھا، اس کو اس سامان کی کچھ ایسی ہی قیمت پیش کی گئی کہ جس کو اُس نے برا منایا اور اس نے کہا: نہیں۔ اس ذات کی قسم جس نے موسیٰؑ کو تمام بشر سے بہتر چنا۔ انصار میں سے ایک شخص نے یہ بات سنی وہ اُٹھا اور اس نے اس کے منہ پر طمانچہ مارا اور کہا: تو یہ کہتا ہے کہ اسی ذات کی قسم جس نے موسیٰؑ کو تمام بشر سے بہتر سمجھ کر چن لیا ہے۔ حالانکہ نبی ﷺ ہم میں موجود ہیں۔ وہ یہودی آپؐ کے پاس گیا اور کہا: ابوالقاسم! میری حفاظت کا آپؐ نے ذمہ لیا ہوا ہے اور میرے ساتھ معاہدہ ہے۔ پھر فلاں کو کیا شہ تھی کہ اس نے میرے منہ پر طمانچہ مارا۔ آپؐ نے (انصاری سے بلاکر) پوچھا: تم نے اس کے منہ پر تھپڑ کیوں مارا؟ اس نے واقعہ بیان کیا۔ نبیﷺ یہ سن کر اس قدر غصہ میں آئے کہ آپؐ کے چہرہ سے وہ غصہ دکھائی دیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اللہ کے نبیوں کو ایک دوسرے پر فضیلت مت دو کیونکہ صور پھونکا جائے گا اور وہ جو آسمانوں میں ہیں اور وہ جو زمین میں، بیہوش ہوکر گر پڑیں گے سوائے اس کے کہ جسے اللہ چاہے۔ پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا اور میں پہلا ہوں گا جو اُٹھے گا۔ میں کیا دیکھوں گا کہ موسیٰ عرش کو پکڑے ہوئے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ طور کے دن جو وہ بیہوش ہوئے تھے وہ بے ہوشی کافی سمجھی گئی یا مجھ سے پہلے وہ اُٹھائے گئے۔