بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 163 hadith
عبداللہ بن محمد بن اسماء بن اخی جویریہ نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ بن اسماء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، انہوں نے زہری سے روایت کی کہ سعید بن مسیب اور ابوعبید دونوں نے ان کو بتایا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوطؑ پر اللہ رحم کرے وہ تو کسی مضبوط سہارے کی ہی پناہ لینا چاہتے تھے اور اگر میں قید خانہ میں اتنی دیر رہتا جتنی دیر یوسف رہے۔ پھر بلانے والا میرے پاس آتا تو میں ضرور چلا جاتا۔
عبدہ نے مجھے خبر دی کہ عبدالصمد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبدالرحمن سے، عبدالرحمن نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے (حضرت عبداللہ )بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: یوسف جن کا باپ یعقوب، اسحاق دادا، ابراہیم پردادا ہیں، وہ خود بھی شریف، شریف کے بیٹے، شریف کے پوتے، شریف کے پڑپوتے ہیں۔ ان سب پر سلامتی ہو۔
اور جس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء ہوا، آپؐ نے اس کا ذکر کیا اور فرمایا: موسیٰ گندم گوں لمبے قد ہیں گویا کہ وہ شنوء ہ قبیلہ کے لوگوں میں سے ہیں اور فرمایا: عیسیٰ گھونگھریالے بالوں والے میانہ قد ہیں اور آپؐ نے مالک کا ذکر کیا جو آگ کا داروغہ ہے اور دجال کابھی ذکر فرمایا۔
محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ (محمد) بن فضیل نے ہمیں خبردی کہ حصین نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان٭ سے، انہوں نے مسروق سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت اُمّ رومانؓ سے جو حضرت عائشہؓ کی والدہ تھیں اس بہتان کے متعلق پوچھا جو حضرت عائشہؓ پر باندھا گیا تھا۔ کہنے لگیں: میں اور عائشہؓ دونوں بیٹھی ہوئی تھیں کہ اسی اثناء میں ایک انصاری عورت ہمارے پاس اندر آئی اور وہ یہ کہہ رہی تھی: اللہ فلاں کو تباہ کرے اور تباہ کیا ہے۔ کہتی تھیں: میں نے پوچھا: کیوں؟ کہنے لگی۔ اسی نے تو یہ بات مشہور کی ہے۔ عائشہؓ نے پوچھا: کونسی بات؟ اس نے عائشہؓ کو بتایا۔ عائشہ نے پوچھا: کیا ابوبکرؓ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ بات سنی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ یہ سنتے ہی عائشہؓ بے ہوش ہوکر گرگئی۔ ہوش میں آئی تو اسے لرزہ کا بخار تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور پوچھا: اسے کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: اس کوبخار چڑھ گیا ہے۔ اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا کیا گیا ہے۔ یہ سن کو وہ اُٹھ بیٹھی اور کہنے لگی: بخدا! اگر میں قسم اُٹھائوں تو آپ لوگ مجھے سچا نہیں سمجھیں گے اور اگر میں معذرت کروں تو مجھے معذور نہیں ٹھہرائیں گے۔ اس لئے میری اور آپ لوگوں مثال حضرت یعقوبؑ اور ان کے بیٹوں کی سی ہے۔ پھر اللہ ہی سے مدد مانگی جائے ان باتوں کے متعلق جو آپ لوگ بیان کررہے ہو۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ گئے۔ پھر اللہ نے وہ وحی نازل کی جو کی۔پھر آپؐ نے عائشہ کو بتایاتو عائشہؓ نے سن کر کہا: اللہ ہی کا شکریہ ہے نہ کسی اور کا شکریہ۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُقَیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عروہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: بتلائیں تو سہی یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: حَتّٰی اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْا اَنَّھُمْ قَدْ کُذِبُوْا۔ اس آیت میں کُذِّبُوْا ہے یاکُذِبُوْا؟ حضرت عائشہؓ نے کہا: نہیں بلکہ ان کی قوم نے انہیں جھٹلایا۔ میں نے کہا: بخدا! انہیں تو یقین تھا کہ ان کی قوم نے انہیں جھٹلایا ہے اور یہ صرف گمان نہیں تھا۔ انہوں نے کہا: عروہ بچے! بے شک انہیں اس کا یقین ہوچکا تھا۔ میں نے کہا: شاید یہ آیت کُذِبُوْا ہو۔ یعنی ان سے جھوٹے وعدے کئے گئے۔ حضرت عائشہؓ کہنے لگیں: معاذ اللہ! رسول ایسے نہیں ہوتے کہ اپنے ربّ پر یہ گمان کریں۔ (حضرت عائشہؓ نے کہا:) اور یہ جو آیت ہے تو یہ (گمان کرنے والے) رسولوں کے پیرو ہیں جو اپنے ربّ پر ایمان لائے اور ان رسولوں کو سچا سمجھا اور ان کی آزمائش دیر تک ہوتی رہی اور ان کو مدد پہنچنے میں دیر ہوگئی۔ یہاں تک کہ جب رسول اپنی قوم کے ان لوگوں سے بالکل ناامید ہوگئے جنہوں نے انہیں جھٹلایا تھا اور یہ خیال کرنے لگے کہ ان کی پیروئوں نے بھی انہیں جھوٹا قرار دے دیا ہے تو اس وقت اللہ کی مدد ان کو پہنچی۔ ابوعبداللہ (امام بخاری) نے کہا: اسْتَیْئَسُوْا کا جو لفظ آیا ہے وہ باب استفعال ہے یَئِسْتُ سے۔ سورئہ یوسف میں مِنْہُ سے مراد یہ ہے کہ وہ یوسف سے ناامید ہوگئے۔ اور لَا تَیْئَسُوْا مِنْ رَوْحِ اللّٰہجو فرمایا تو اس کے معنی ہیں کہ اللہ سے امید رکھو، نا امید نہ ہو۔
عبداللہ بن محمد جعفی نے ہمیں بتایا۔ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: ایک بار حضرت ایوبؑ برہنہ نہا رہے تھے کہ ان پر ڈھیروں ڈھیر سونا گرا۔ وہ لپ بھر بھر کر اپنے کپڑے میں ڈالنے لگے۔ اس وقت ان کے ربّ نے ان کو آواز دی۔ ایوب! یہ جو تو دیکھ رہا ہے کیا میں نے تمہیں اس سے بے پروا نہیں کردیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: کیوں نہیں۔ مگر اے میرے ربّ! تیری برکت سے مجھے بے نیازی نہیں ہوسکتی۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہمیں بتایا کہ لیث (بن سعد) نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ عقیل نے مجھے بتایا۔ ابن شہاب سے روایت ہے کہ (انہوں نے کہا:) میں نے عروہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: (غارِ حراء میں وحی شروع ہونے پر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہؓ کے پاس لوٹ آئے۔ آپؐ کا دل دھڑک رہا تھا اور وہ آپؐ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور یہ شخص عیسائی ہوگئے تھے۔ عربی زبان میں انجیل پڑھا کرتے تھے۔ ورقہ نے پوچھا: آپؐ کیا دیکھتے ہیں؟ آپؐ نے ان کو حال بتایا۔ ورقہ نے سن کر کہا: یہ وہی محرمِ راز شریعت نازل کرنے والا فرشتہ ہے جس کو اللہ نے موسیٰ پر اُتارا تھا اور اگر تمہارے عہد نبوت نے مجھے پالیا تو میں کمر باندھ کر تمہاری مدد کروں گا۔ ناموس کے معنی ہیں راز دار جو ان باتوں پر آگاہ کرتا ہو جن کو وہ دوسروں سے پردے میں رکھتا ہے۔
(تشریح)ہدبہ بن خالد نے ہمیں بتایا۔ ہمام نے ہم سے بیان کیا کہ قتادہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے، انہوں نے حضرت مالک بن صعصعہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس رات کا ذکر کیا جس میں آپؐ کو سیر کرائی گئی۔ (فرمایا:) وہ پانچویں آسمان پر پہنچے تو دیکھا وہاں ہارون ہیں۔ جبریل نے کہا: یہ ہارون ہیں۔ انہیں سلام کہیں۔ میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا اور کہا: خوشی سے آئیں اچھے بھائی اور اچھے نبی۔ قتادہ کی طرح ثابت اور عباد بن ابی علی نے بھی حضرت انسؓ سے یہ بیان کیا۔ حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن یوسف نے ہمیں خبردی۔ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے، زُہری نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیر کرایا گیا، آپؐ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: میں نے موسیٰ کو دیکھا اور وہ دبلے پتلے بدن کے آدمی ہیں، سیدھے بالوں والے گویا کہ وہ شنوء ہ قبیلہ کے لوگوں میں سے ہیں اور میں نے عیسیٰ کو دیکھا وہ میانہ قد سرخ رنگ آدمی ہیں جیسے ابھی حمام سے نکلے ہیں۔ اور ابراہیم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی سب اولاد میں مَیں زیادہ مشابہت رکھنے والا ہوں۔ پھر اس کے بعد میرے پاس دو پیالے لائے گئے۔ ان میں سے ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب۔ فرشتے نے کہا: پیو، ان میں سے جسے تم چاہو۔ تب میں نے دودھ لیا اور اس کو پیا۔ اس پر مجھے کہا گیا: تم نے فطرت پر عمل کیا ہے۔ دیکھو اگر تم شراب پیتے تو تمہاری اُمت بگڑ جاتی۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہمیں بتایا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب سختیانی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (عبداللہ) بن سعید بن جبیر سے، انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں آئے تو آپؐ نے یہود کو دیکھا کہ ایک دن یعنی عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں اور کہتے تھے کہ یہ بہت بڑا دن ہے اور یہ وہ دن ہے جس دن اللہ نے موسیٰ کو نجات دی اور فرعون کی قوم کو غرق کیا تھا۔ اس لئے موسیٰ نے اللہ کا شکریہ ادا کرنے کے لئے روزہ رکھا۔ یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ان سے زیادہ موسیٰ سے تعلق رکھتا ہوں۔ چنانچہ آپؐ نے بھی اس دن روزہ رکھا اور لوگوں کو روزہ رکھنے کے لئے فرمایا۔
(تشریح)