بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 163 hadith
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن یحيٰ سے، انہو ںنے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: لوگ قیامت کے دن بے ہوش ہوجائیں گے اور میں پہلا ہوں گا جو ہوش میں آئوں گا۔ میں کیا دیکھوں گا کہ موسیٰ عرش کا ایک پایہ پکڑے ہوئے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ انہوں نے مجھ سے پہلے ہوش سنبھالی یا طور کی بے ہوشی ہی ان کے لئے کافی سمجھی گئی۔
عبداللہ بن محمد جعفی نے مجھے بتایا۔ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہمام سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا اور اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت کبھی اپنے خاوند سے خیانت نہ کرتی۔
عمرو بن محمد نے ہمیں بتایا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے صالح (بن کیسان) سے، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عبیداللہ بن عبداللہ نے ان کو بتایا۔ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے (یعنی حضرت ابن عباسؓ) اور حُرّ بن قیسؓ نے موسیٰ کے ساتھی کی نسبت اختلاف کیا۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: وہ خضر ہیں۔ اتنے میں حضرت اُبی بن کعبؓ ان دونوں کے پاس سے گزرے۔ حضرت ابن عباسؓ نے انہیں بلایا اور کہا: میں اور یہ میرا رفیق موسیٰ کے اس ساتھی کے متعلق اختلاف رکھتے ہیں جس کی ملاقات کے لئے موسیٰ نے راستہ دریافت کیا تھا۔ کیا آپؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا حال بیان کرتے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ایک دفعہ موسیٰ بنی اسرائیل کے بھرے مجمع میں تھے کہ اتنے میں ایک شخص ان کے پاس آیا اور اس نے پوچھا: آپؑ کسی ایسے کو بھی جانتے ہیں جو آپؑ سے بڑھ کر عالم ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ تب اللہ نے موسیٰ کو وحی کی: بلکہ ہمارا بندہ خضرہے (جو تم سے بڑھ کر عالم ہے۔) موسیٰ نے ان تک پہنچنے کا راستہ پوچھا: تو اللہ نے ان کے لئے مچھلی کو بطور نشان مقرر کیا اور ان سے کہا گیا کہ جب تم وہ مچھلی نہ پائو تو تم لوٹ آئو۔ پھر تم جلدی ہی خضر سے مل جائو گے۔ چنانچہ موسیٰ سمندر میں مچھلی کے پیچھے پیچھے چلتے رہے۔ موسیٰ سے ان کے نوجوان نے کہا: کیا آپؑ کو معلوم ہوا جب ہم نے اس چٹان کے پاس آرام کیا تھا تو میں مچھلی بھول گیا اور مجھے شیطان ہی نے بھلادیا کہ اس کو یاد نہ رکھا۔ موسیٰ نے کہا: یہی تو تھا جو ہم چاہتے تھے۔ تب وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں پر جستجو کرتے ہوئے واپس ہوئے اور خضر کو پالیا۔ پھر ان کا وہی حال ہے جو اللہ نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ عمرو بن دینار نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: سعید بن جبیر نے مجھے بتایا، کہا: میں نے حضرت ابن عباسؓ سے کہا کہ نوف بکالی کہتا ہے کہ موسیٰ خضر والے بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں ہیں۔ بلکہ کوئی اور موسیٰ ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ نے یہ سن کر کہا: اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا ہے۔ حضرت اُبی بن کعبؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ موسیٰ بنی اسرائیل میں خطبہ کی غرض سے کھڑے ہوئے۔ ان سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے کون زیادہ عالم ہے؟ انہوں نے کہا: میں۔ تو اللہ نے ان پر ناراضگی کا اظہار فرمایا کیونکہ انہوں نے یہ نہیں کہا: اللہ بہتر جانتا ہے۔ اس لئے اللہ نے ان سے کہا: (تم سب سے بڑھ کر عالم نہیں) بلکہ مجمع البحرین میں میرا ایک بندہ ہے جو تم سے زیادہ عالم ہے۔ حضرت موسیٰ نے کہا: اے میرے ربّ! مجھے اس کے پاس کون پہنچائے؟ اور سفیان (بن عیینہ) نے یوں کہا: اے میرے ربّ! اور میں اس کے پاس کیونکر پہنچوں؟ اللہ نے کہا: تم ایک مچھلی لو اور اسے ٹوکری میں رکھ لو۔ جہاں یہ مچھلی کھو بیٹھو وہ وہیں ہوگا۔ اور سفیان نے فَھُوَ ثَمَّ کی جگہ فَھُوَ ثَمَّہْ کے الفاظ کہے۔ موسیٰ نے ایک مچھلی لی اور ٹوکری میں وہ رکھ لی۔ پھر وہ اور ان کے نوجوان یوشع بن نون چل پڑے۔ یہاں تک کہ جب دونوں چٹان کے پاس پہنچے اور اپنے سر ٹیکے تو موسیٰ سوگئے اور مچھلی تڑپ کر باہر نکلی اور سمند ر میں گر گئی اور پھر اس نے سمندر میں اپنی راہ لی اور چلتی بنی اور اللہ نے اس مچھلی سے پانی کی روانی روک دی۔ چنانچہ پانی ڈاٹ کی طرح ہوگیا۔ راوی نے ہاتھ سے بتایا: یوں ڈاٹ کی طرح۔ وہ دونوں باقی دن رات چلتے رہے۔ یہاں تک کہ جب دوسرا دن ہوا تو موسیٰ نے اپنے نوجوان سے کہا: لائو ناشتہ ہمارا۔ ہم نے تو اپنے اس سفر سے اتنی تکلیف اُٹھائی ہے کہ تھک کر رہ گئے ہیں۔ اور موسیٰ نے یہ تکان تبھی محسوس کی کہ جب وہ اس جگہ سے آگے نکل گئے جہاں جانے کے لئے اللہ نے ان سے فرمایا تھا۔ موسیٰ کے نوجوان نے ان سے کہا: آپؑ نے دیکھا کہ جب چٹان کے پاس ہم نے آرام کیا تھا تو میں مچھلی بھول ہی گیا اور شیطان ہی نے مجھے بھلادیا کہ اس کو یاد نہ رکھااور عجیب طور سے اس نے سمندر میں اپنی راہ لے لی۔ مچھلی تو سمندر میں اپنی راہ چلتی بنی اور ان دونوں کو اس سے حیرت ہوئی۔ موسیٰ نے نوجوان سے کہا: وہی جگہ تو تھی جو ہم چاہتے تھے۔ وہ دونوں اپنے پائوں کے نشانوں کی جستجوکرتے واپس گئے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس چٹان کے پاس پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص ہے جو کپڑا اُوڑھے ہوئے ہے۔ موسیٰ نے سلام کیا۔ اس نے ان کو سلام کا جواب دیا اورکہا: تمہارے ملک میں سلامتی کہاں؟ انہوں نے کہا: میں موسیٰ ہوں۔ اس نے پوچھا: بنی اسرائیل کا موسیٰ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ تا آپ مجھے بھی وہ راستی کی باتیں سکھائیں جو آپ کو سکھائی گئی ہیں۔ اس نے جواب دیا: اے موسیٰ! علم الٰہی میں سے مجھے ایک علم حاصل ہے جو اللہ ہی نے مجھے سکھلایا ہے تو اسے نہیں جانتا اور تجھے بھی علم الٰہی میں سے ایک علم حاصل ہے جو اللہ ہی نے تجھے سکھلایا ہے۔ میں اسے نہیں جانتا۔ موسیٰ نے پوچھا: کیا میں آپ کی پیروی کرسکتا ہوں؟ انہوں نے جواب دیا: میرے ساتھ تو صبر نہیں کرسکے گا اور کیونکر تو صبر کرے گا، ایسی باتوں پر جن کی حقیقت سے تو پورے طور پر آگاہ نہیں ہے۔ خیر وہ دونوں سمندر کے کنارے چل پڑے۔۔۔۔۔ ان کے پاس سے ایک کشتی گزری تو انہوں نے کشتی والوں سے کہا کہ انہیں سوار کرلیں۔ انہوں نے خضرکو پہچان لیا اور بغیر کرایہ ان کو سوار کرلیا۔ جب وہ دونوں کشتی میں سوار ہوئے ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی۔ اس نے سمندر میں ایک یا دو چونچیں ماریں۔ خضرنے موسیٰ سے کہا: اے موسیٰ! میرے اور تیرے علم نے علم الٰہی سے اتنا بھی کم نہیں کیا جتنا کہ اس چڑیا نے اپنی چونچ سے اس سمندر میں سے کم کیا ہے۔ یہ کہہ کر خضر نے کلہاڑی لی اور (کشتی کا) ایک تختہ نکال ڈالا۔ حضرت ابن عباس نے کہا: موسیٰ کو اچانک اُسی وقت معلوم ہوا کہ خضر نے ایک تختہ تیشہ سے اکھیڑ لیا۔ موسیٰ نے ان سے کہا: آپ نے یہ کیا کیا؟ ان لوگوں نے ہمیں بغیر کرایہ سوار کیا تھا۔ آپ ان کی کشتی پر ہی لپکے اور اسے پھاڑ ڈالا ہے کہ کشتی میں جو لوگ سوار ہیں انہیں غرق کریں۔ آپ نے تو ایک بالکل انوکھی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا: کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تو میرے ساتھ صبر نہیں کرسکے گا۔ موسیٰ نے کہا: میری بھول پر مجھے نہ پکڑیں اور میرے بارے میں کوئی مشکل پیدا نہ کریں اور موسیٰ سے یہ پہلی غلطی بھولے ہی سے ہوئی تھی۔ جب وہ دونوں سمندر سے باہر آئے تو وہ ایک لڑکے کے پاس سے گزرے جو بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ خضر نے اس کا سر پکڑا اور اس کو اپنے ہاتھ سے یوں اکھیڑ ڈالا اور سفیان نے اپنی انگلیوں کی نوکوں سے اشارہ کیا جیسے کوئی پھل جیسی چیز توڑتا ہے۔ موسیٰ نے ان سے کہا: آپ نے یہ کیا کیا کہ ایک پاکیزہ نفس کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کو قتل کرتا، مار ڈالا ہے۔ یقینا آپ نے بہت ہی برا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا: کیا میں نے تجھ سے نہیں کہا تھا کہ تو میرے ساتھ صبر نہیں کرسکے گا۔ موسیٰ نے کہا: اگر اس کے بعد میں نے کوئی بات پوچھی تو پھر میرا ساتھ نہ دیں۔ میری طرف سے آپ معذور ہوں گے۔ چنانچہ وہ دونوں چلے ۔ یہاں تک کہ جب ایک گائوں والوں کے پاس آئے تو انہوں نے اس گائوں کے باشندوں سے کھانا مانگا۔ تو انہوں نے ان کو مہمان ٹھہرانے سے انکار کردیا۔ ان دونوں نے ایک دیوار دیکھی جو جھکی ہوئی گرنا ہی چاہتی تھی۔ خضرنے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا اور سفیان راوی نے اشارہ سے بتایا جیسے وہ کسی چیز پر اوپر کی طرف ہاتھ اُٹھا کر حرکت دیتے ہیں۔ میں نے سفیان سے صرف ایک ہی دفعہ سنا، وہ مَائِلًا یعنی جھکی ہوئی کا لفظ بیان کرتے تھے۔ موسیٰ نے کہا: یہ ایسے لوگ ہیں کہ ہم ان کے پاس آئے ۔ انہوں نے نہ ہمیں کھانا دیا اور نہ ہمیں مہمان ٹھہرایا۔ آپ نے ان کی دیوار تو درست کردی ہے، اگر آپ چاہتے تو اس پر مزدوری لے لیتے۔ خضر نے کہا: یہ لو اَب میرے اور تیرے درمیان جدائی ہے۔ جن باتوں پر تم صبر نہیں کرسکے میں تمہیں بتلائے دیتا ہوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ہمیں یہ آرزو ہی رہی کہ موسیٰ صبر کرتے تو اللہ ان کا حال ہمیں اور بتاتا۔ سفیان نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ موسیٰ پر رحم کرے۔ اگر وہ صبر کرتے تو ان دونوں کی حالت اور بیان کی جاتی اور حضرت ابن عباسؓ نے آیت وَکَانَ وَرَائَ ہُمْ مَّلِکٌ یَّأْخُذُ کُلَّ سَفِیْنَۃٍ غَصْبًا کو یوں پڑھا: وَکَانَ أَمَامَھُمْ مَّلِکٌ ۔۔۔۔ اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو چھین لیتا تھا۔ اور وہ جو لڑکا تھا وہ کافر تھا اور اس کے ماں باپ مومن تھے۔ نیز سفیان نے مجھ سے کہا: میں نے یہ حدیث عمرو بن دینار سے دو دفعہ سنی اور انہی سے اسے یاد بھی کیا۔ سفیان سے پوچھا گیا کہ کیا عمرو سے جو آپ نے حدیث سنی اس سے پیشتر بھی آپ نے کسی اور سے سن کر یہ حدیث یاد کرلی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: میں کس سے سن کر یاد کرتا۔ کیا میرے سوا عمرو سے اَور کسی نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے۔ میں نے تو ان سے ہی یہ حدیث دو دفعہ یا تین دفعہ سنی اور انہی سے اس کو یاد رکھا ہے۔
اسحاق بن نصر نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے ہمام بن منبہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ تم دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو اور کہو: حِطَّۃٌ یعنی ہمارے گناہ معاف ہوں۔ انہوں نے اس کو بدل دیا اور بجائے سجدہ کرنے کے اپنے چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور بجائے حِطَّۃٌ کے حَبَّۃٌ فِی شَعْرَۃٍ کہنے لگے۔ یعنی ہمیں تو دانہ چاہیے۔
اسحاق بن ابراہیم نے مجھے بتایا کہ رَوح بن عبادہ نے ہم سے بیان کیا کہ عوف (بن ابی جمیلہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حسن (بصری) اور محمد (بن سیرین) سے اور خلاس (بن عمرو) سے، ان تینوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موسیٰ بہت شرمیلے تھے۔ شرم کی وجہ سے اپنا بدن خوب ڈھانپ کررکھتے کہ ان کے جسم کا کوئی حصہ دکھائی نہ دیتا۔ بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے ان کو دکھ دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ جو بدن اتنا چھپاتے ہیں تو ضرور کسی عیب کی وجہ سے چھپاتے ہوں گے۔ جو اُن کے جسم میں ہے۔ یا تو سفید کوڑھ (برص) ہے یا فتق یا کوئی اور خطرناک بیماری۔ اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو ان باتوں سے جو اُن لوگوں نے ان کے متعلق کہیں بے عیب ثابت کرنا چاہا۔ اس لئے وہ ایک دن اکیلے تنہائی میں تھے۔ انہوں نے اپنے کپڑے اُتار کر حجر کے پاس رکھے۔ پھر نہانا شروع کیا۔ جب فارغ ہوئے تو اپنے کپڑوں کے پاس آئے تاکہ لے کر پہنیں۔ مگر وہ ہجر ان کے کپڑے لے کر بھاگا۔ موسیٰ نے اپنا عصا لیا اور اس حجر کا پیچھا کیا اور کہتے جاتے تھے: اے حجر! میرے کپڑے۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کے بھرے مجمع میں جا پہنچے۔ انہوں نے موسیٰ کو برہنہ دیکھ لیا۔ نہایت ہی خوبصورت ڈیل ڈول میں جو اللہ نے ان کی بنائی تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی باتوں سے ان کو بری ثابت کیا اور وہ حجر ٹھہر گیا۔ انہوں نے اپنے کپڑے لئے اور انہیں پہن لیا اور اس حجر کو لاٹھی سے مارنے لگے۔ بخدا اس حجر پر اب بھی ان کی مار کے زخم کے نشان ہیں تین، چار یا پانچ۔ اور یہی ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجنہوں نے موسیٰ کو دکھ دیا تھا اور پھر انہوں نے جو افتراء کیا تھا اس سے اللہ نے ان کو بری کیا اور موسیٰ اللہ کے نزدیک بہت ہی معزز تھے۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے روایت کی، کہا: میں نے ابو وائل سے سنا کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال تقسیم کیا تو ایک شخص نے کہا: یہ تو یقینا ایسی تقسیم ہے کہ اس سے اللہ کی رضامندی ہرگز مقصود نہیں۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐ کو بتایا: آپؐ یہ سن کر رنجیدہ ہوئے یہاں تک کہ آپؐ کی ناراضگی میں نے آپؐ کے چہرہ میں دیکھی۔ پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا: اللہ موسیٰ پر رحم کرے۔ ان کو تو اس سے بھی زیادہ دکھ دیا گیا مگر انہوں نے صبر کیا۔
(تشریح)یحيٰ بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیاکہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیلو کے پکے ہوئے پھل چُن رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے جو کالے ہوں وہ چنو۔ کیونکہ وہی ان میں سے بہت لذیذ ہوتے ہیں۔ لوگوں نے کہا: کیا آپؐ بکریاں بھی چرایا کرتے تھے؟ فرمایا: اور کیا کوئی نبی ایسا بھی ہے جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔
(تشریح)یحيٰ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے (عبداللہ) بن طائوس سے، انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: موسیٰ علیہ السلام کی طرف ملک الموت بھیجا گیا۔ جب وہ ان کے پاس آیا تو موسیٰ نے اس کو ایک طمانچہ مارا۔ ملک الموت اپنے ربّ کے پاس لوٹ گیا اور اس نے کہا: تو نے مجھے ایک ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے جو مرنا نہیں چاہتا۔ اللہ نے فرمایا: اس کے پاس پھر جائو اور اس سے کہو کہ وہ اپنا ہاتھ ایک بیل کی پیٹھ پر رکھے، اس کو اتنی ہی عمر دی جائے گی جتنے بال اس کا ہاتھ ڈھانپ لے۔ ہر بال کے بدلے ایک سال۔ موسیٰ ؑ نے کہا پروردگار پھر اس کے بعد کیا ہوگا؟ پروردگار نے کہا: پھر موت۔ موسیٰ ؑ نے کہا پھر ابھی سہی۔حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: موسیٰ ؑنے اللہ سے التماس کی کہ وہ انہیں ارضِ مقدسہ سے اتنا قریب کردے کہ جتنی پتھر کی مار ہوتی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں وہاں ہوتا تو ان کی قبر راستے کے قریب سرخ ٹیلے کے نیچے تم کو دکھا دیتا۔ عبدالرزاق نے کہا: اور معمر نے ہمام سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں اس طرح بتایا۔