بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 257 hadith
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل بن ابی خالد سے روایت کی۔ قیس بن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت ابومسعود (انصاری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میں صبح کی نماز فلاں شخص کی وجہ سے دیر کرکے پڑھتا ہوں کیونکہ وہ ہمیں لمبی نماز پڑھاتا ہے۔ (حضرت ابومسعودؓ) کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی وعظ پر اتنا غصے میں نہیں دیکھا جتنا اس دن۔ کہتے تھے آپؐ نے فرمایا: اے لوگو! تم میں سے کچھ نفرت دلانے والے ہیں اس لئے جو بھی تم میں سے لوگوں کو نماز پڑھائے تو چاہیئے کہ وہ مختصر پڑھائے کیونکہ ان میں بیمار بھی اور بوڑھے بھی اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں آپؐ نے مسجد کے قبلے میں ایک رینٹھ دیکھا۔ آپؐ نے اس کو اپنے ہاتھ سے کھرچ ڈالا۔ آپؐ ناراض ہوئے اور فرمایا: تم میں سے کوئی جب نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے سامنے ہوتا ہے اس لئے وہ نماز میں اپنے منہ کے سامنے ہرگز نہ تھوکے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طاقتور وہ نہیں ہے جو (اپنے مقابل کو) پچھاڑ دیا کرے۔ مضبوط وہ شخص ہے جو اپنے نفس پر غصے کے وقت قابو رکھتا ہے۔
علی بن جعد نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انسؓ کے غلام سے روایت کی۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: ان کا نام عبداللہ بن ابی عتبہ تھا۔ میں نے حضرت ابوسعیدؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرم کیا کرتے تھے جو اپنے پردے میں رہتی ہے۔
محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے منبعث کے غلام یزید سے، یزید نے حضرت زید بن خالد جہنیؓ سے روایت کی کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گری پڑی چیز کے متعلق پوچھا آپؐ نے فرمایا: اس کو ایک برس تک شناخت کراؤ۔ اور پھر اس کا بندھن اور اس کا تھیلا پہچان رکھو اور اسے خرچ کرلو۔ اگر تو اُس کا مالک آگیا تو اُسے وہ ادا کر دو۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! بھولی بھٹکی بکری جو ہو؟ آپؐ نے فرمایا: اس کو لے لو کیونکہ وہ یا تمہارے لئے ہے یا تمہارے بھائی کے لئے یا بھیڑیے کے لئے۔ کہنے لگا: یا رسول اللہ! بھولا بھٹکا اونٹ جو ہو؟ حضرت زیدؓ کہتے تھے: یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا غصہ آیا کہ آپؐ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے یا (کہا) آپؐ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ آپؐ نے فرمایا: تمہیں اس سے کیا واسطہ؟ اس کے ساتھ اس کا جوتا اور اس کا مشکیزہ ہے جب تک کہ اس کا مالک اسے مل جائے ۔
اور مکی (بن ابراہیم) نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا۔ نیز محمد بن زیاد نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ عبداللہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: عمر بن عبیداللہ کے غلام سالم ابونضر نے مجھے بتایا۔ انہوں نے بُسر بن سعید سے، بُسر نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی چھال یا بوریا سے ایک چھوٹا سا حجرہ بنا لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر جاکر اس میں نماز پڑھنے لگے۔ (حضرت زیدؓ کہتے تھے:) یہ دیکھ کر لوگ بھی آپؐ کے پاس یکے بعد دیگرے آکر آپؐ کے پیچھے آپؐ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔ پھر وہ ایک رات آئے اور وقت پر پہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس آنے میں دیر کردی۔ آپؐ ان کے پاس باہر نہیں آئے تو انہوں نے اونچی آواز سے بولنا شروع کیا اور دروازے پر کنکریاں مارنے لگے۔ آپؐ ان کے پاس ناراضی میں باہر آئے اور آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: تمہارا یہ وطیرہ ایسا ہوگیا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ تم پر فرض ہوجائے گا۔ اس لئے تم اس نماز کو اپنے گھروں میں ہی پڑھا کرو کیونکہ آدمی کی بہتر نماز وہی ہے جو گھر میں پڑھی جائے سوائے اس نماز کے جو فرض کی گئی ہے۔
عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے عدی بن ثابت سے روایت کی۔ حضرت سلیمان بن صُرَدؓ نے ہم سے بیان کیا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں نے آپس میں گالی گلوچ کی اور ہم اس وقت آپؐ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اور ان میں سے ایک اپنے ساتھی کو غصے میں گالی دے رہا تھا۔ اس کا چہرہ سرخ ہوگیا ہوا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (دیکھ کر) فرمایا: میں ایک ایسی بات جانتا ہوں کہ اگر وہ اسے کہے تو ضرور ہی وہ غصہ اس سے جاتا رہے جو وہ محسوس کررہا ہے۔ اگر وہ کہے کہ میں اللہ کی شیطان رجیم سے پناہ لیتا ہوں۔ لوگوں نے اس شخص سے کہا: کیا تم سنتے نہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں؟ وہ کہنے لگا: میں دیوانہ نہیں ہوں۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے ابوالسوار عدوی (حسان بن حریث) سے روایت کی۔ ابوالسوار نے کہا: میں نے حضرت عمران بن حصینؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیا بھلائی ہی لاتی ہے۔ بُشیر بن کعب نے یہ سن کر کہا: حکمت کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ حیا سے ہی وقار ہوتا ہے اور حیا سے ہی سکینت حاصل ہوتی ہے۔ حضرت عمرانؓ نے ان سے کہا: میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بات بتا رہا ہوں اور تم اپنی کتاب سے مجھے بتا رہے ہو۔
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے سالم سے، سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے اور وہ حیا کی وجہ سے اپنے بھائی سے ناراضی کا اظہار کر رہا تھا۔ کہہ رہا تھا: تم اتنی شرم کرتے ہو یہاں تک کہ - گویا وہ کہہ رہا تھا - اس نے تمہیں نقصان پہنچایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا: اسے رہنے دو کیونکہ حیاء بھی ایمان سے ہی ہوتی ہے۔