بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 257 hadith
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زُہَیر نے ہمیں بتایا۔ منصور نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ربعی بن حراش سے روایت کی کہ حضرت ابومسعود (انصاریؓ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی نبوت کے کلام سے جو لوگوں نے محفوظ رکھا ہے یہ بھی ہے کہ جب تم بے حیا ہو پھر جو چاہو کرو۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ مرحوم (بن عبدالعزیز) نے ہمیں بتایا۔ میں نے ثابت سے سنا کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی کہ اپنے تئیں آپؐ کے سامنے پیش کرے اور وہ کہنے لگی: کیا آپؐ کو میری ضرورت ہے؟ حضرت انسؓ کی بیٹی سن کر بولی: کتنی کم حیا ہے۔ (حضرت انسؓ نے) کہا: یہ تم سے اچھی ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا۔
آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوتیاح (یزید بن حمید ضبعی) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا:میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آسانی کرو، مشکلات میں نہ ڈالو اورتسلی اور تشفی دو اور نفرت نہ دلاؤ۔
آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ ابوتیاح نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے مل جل کر رہتے تھے یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی کو فرمایا کرتے تھے: ارے ابوعمیر! وہ چڑیا نغیر کیسی ہے؟
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت زینب بنت ابی سلمہؓ سے، حضرت زینبؓ نے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپؓ فرماتی تھیں: اُمّ سُلیمؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: یا رسول اللہ! اللہ حق بات سے نہیں شرماتا۔ کیا عورت کے لئے بھی نہانا ضروری ہے اگر اسے احتلام ہو؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں، جب پانی دیکھے۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ محارب بن دثار نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓسے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کی مثال ایک سرسبز درخت کی سی ہے جس کے پتے نہیں گرتے اور نہ جھڑتے ہیں۔ لوگ کہنے لگے: وہ فلاں درخت ہے، وہ فلاں درخت ہے۔ میں نے چاہا کہ کہوں وہ کھجور ہے اور چونکہ میں اس وقت نوجوان لڑکا ہی تھا اس لئے میں شرما گیا۔ آپؐ نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔ اور شعبہ سے (اسی سند سے) مروی ہے کہ ہمیں خبیب بن عبدالرحمٰن نے بتایا۔ انہوں نے حفص بن عاصم سے، حفص نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کرتے ہوئے ایسا ہی بتایا اور اس میں اتنا اور بڑھایا کہ پھر میں نے حضرت عمرؓ سے یہ بیان کیا تو انہوں نے کہا: اگر تم نے یہ کہا ہوتا تو مجھے فلاں فلاں بات سے زیادہ پیارا ہوتا۔
اسحاق (بن راہویہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ نضر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے سعید بن ابی بُردہ سے، سعید نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ان کے دادا سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو اور حضرت معاذ بن جبلؓ کو (یمن کی طرف) بھیجا تو آپؐ نے ان سے فرمایا: تم دونوں (لوگوں کے لیے) آسانی کرنا اور مشکلات میں نہ ڈالنا اور خوش رکھنا اور نفرت نہ دلانا اور تم دونوں ایک دوسرے سے مل جل کر کام کرنا۔ حضرت ابوموسیٰؓ نے کہا: یا رسول اللہ! ہم ایسی سرزمین میں ہوں گے جہاں شہد کی شراب (بنائی جاتی) ہے، جسے بِتْع کہتے ہیں اور ایک جَو کی شراب (بنائی جاتی) ہے جسے مِزر کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور حرام ہے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپؓ فرماتی تھیں: جب کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں کے متعلق اختیار دیا گیا تو آپؐ نے ضرور ہی ان میں سے زیادہ آسان کو اختیار کیا بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہوتا۔ اگر گناہ ہوتا تو آپؐ اس سے تمام لوگوں سے زیادہ دور رہتے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی امر میں اپنے نفس کے لئے انتقام نہیں لیا، سوائے اس کے کہ اللہ کی حرمت کی ہتک کی جاتی ہو تو پھر آپؐ اس میں اللہ کے لئے انتقام لیتے۔
ابوالنعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ازرق بن قیس سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: ہم اھواز میں ایک ندی کے کنارے پر تھے کہ جس میں سے پانی سوکھ گیا تھا۔ اتنے میں حضرت ابوبرزہ اسلمیؓ ایک گھوڑے پر سوار وہاں آئے اور نماز پڑھنے لگے اور اپنے گھوڑے کو یونہی چھوڑ دیا۔ وہ گھوڑا بھاگنے لگا تو انہوں نے اپنی نماز چھوڑ دی اور اس گھوڑے کا پیچھا کیا۔ یہاں تک کہ اس کو پکڑ لیا اور اس کو لے کر آئے۔ پھر انہوں نے اپنی نماز کو پورا کیا۔ اور ہم میں ایک شخص تھا جس کی اپنی رائے ہوا کرتی تھی۔ وہ کہنے لگا: اس بوڑھے کو دیکھو کہ گھوڑے کی خاطر نماز چھوڑ دی۔ پھر حضرت ابوبرزہؓ آئے اور کہنے لگے: میں جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوا ہوں مجھے کسی نے ملامت نہیں کی اور انہوں نے کہا: میرا گھر یہاں سے بہت دور ہے۔ اگر میں نماز پڑھتا اور گھوڑے کو جانے دیتا تو رات تک بھی اپنے گھر والوں کے پاس نہ پہنچتا اور انہوں نے ذکر کیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے مگر آپؐ نے ان معاملات میں آسانی کو ہی مناسب سمجھا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی۔ نیز لیث نے کہا: یونس نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہؓ نے انہیں بتایا کہ ایک گنوار نے مسجد میں پیشاب کر دیا۔ لوگ اس کی طرف لپکے تا اس کو ماریں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمايا: اسے جانے دو اور اس کے پیشاب پر پانی کا ڈول انڈیل دو۔ ذَنُوْب یا سَجْل (فرمایا:) تمہیں اسی لئے کھڑا کیا گیا ہے تا کہ آسانی کرنے والے ہو اور تمہیں اس لئے نہیں کھڑا کیا گیا کہ تم سختی کرنے والے ہو۔