بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 257 hadith
یحيٰ (بن بکیر) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے اُن کو بتایا۔ حضرت ابوسفیانؓ نے ان سے بیان کیا کہ ہرقل نے ان کو بلا بھیجا تو اُس نے کہا: وہ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز کا حکم دیتے ہیں؟ ابو سفیانؓ نے کہا: وہ ہمیں نماز، صدقہ، بدکاری سے بچنے اور لوگوں سے نیک سلوک کرنے کا حکم دیتے ہیں۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: مجھے (عمرو) ابن عثمان نے بتایا، کہا: میں نے موسیٰ بن طلحہ سے سنا۔ موسیٰ نے حضرت ابوایوب (انصاریؓ) سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: کسی نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جو مجھے جنت میں داخل کرے۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے محمد بن جبیر بن مطعم سے،محمد نے کہا: جبیر بن مطعم نے ان کو بتایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔
ابراہیم بن منذر نے مجھے بتایا کہ محمد بن معن نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سعید بن ابی سعید سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کے رزق میں کشائش کی جائے، اُس کی عمر کو اُس کے لئے بڑھا دیا جائے تو وہ اپنے رشتہ داروں سے نیک سلوک کرے۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے حضرت انس بن مالکؓ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص پسند کرتا ہے کہ اس کے رزق میں کشائش ہو اور اس کی عمر کو اس کے لئے بڑھا دیا جائے تو وہ اپنے رشتہ داروں سے نیک سلوک کرے۔
خالد بن مخلد نے ہمیں بتایا کہ سلیمان (بن بلال) نے ہم سے بیان کیا۔ عبداللہ بن دینار نے ہمیں بتایا۔ عبداللہ نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ (فرمایا:) رحم بھی رحمٰن کا ایک پیوند ہے۔ اللہ نے فرمایا: جس نے تجھ سے جوڑا میں بھی اس سے جوڑوں گا اور جس نے تجھ سے تعلق توڑا میں بھی اس سے تعلق توڑوں گا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن مسلم نے ہمیں بتایا کہ عبداللہ بن دینار نے ہم سے بیان کیا۔ عبداللہ نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت عمرؓ نے ایک ریشمی دھاری دار جو ڑا بکتے ہوئے دیکھا اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! اسے خرید لیں اور آپؐ اس کو جمعہ کے دن پہنا کریں اور نیز اس وقت کہ جب آپؐ کے پاس نمائندے آئیں۔ آپؐ نے فرمایا: یہ تو وہی پہنتا ہے جس کے لئے کوئی بھلائی نہیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کے کئی جوڑے آئے اور آپؐ نے حضرت عمرؓ کو بھی ایک جوڑا بھیجا۔ انہوں نے کہا: میں اسے کیسے پہنوں جبکہ آپؐ اس کے متعلق فرما چکے ہیں جو فرماچکے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں نے تمہیں یہ اس لئے نہیں دیا کہ تم اس کو پہنو بلکہ تم اس کو بیچو یا کسی کو پہننے کیلئے دو۔ تب حضرت عمرؓ نے وہ جوڑا اپنے ایک بھائی کو بھیج دیا جو مکہ میں رہتا تھا پیشتر اس کے کہ وہ مسلمان ہوا ہو۔
نیز مجھ سے عبدالرحمٰن بن بشر نے بیان کیا کہ بہز (بن اسدبصری) نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ (عمرو) ابن عثمان بن عبداللہ بن موھب اور ان کے باپ عثمان بن عبداللہ نے ہمیں بتایا کہ ان دونوں نے موسیٰ بن طلحہ سے سنا۔ وہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے۔ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کرے۔ لوگوں نے کہا: اسے کیا ہوگیا، اسے کیا ہوگیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو ضرورت ہے، اس کو کیا ہوگیا؟ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی عبادت کرو۔ اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور نماز کو سنوار کر پڑھو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رشتہ داروں سے نیک سلوک کرو۔ (آپؐ نے فرمایا:) اس (میری اونٹنی) کو چھوڑ دو۔ راوی کہتے ہیں: گویا آپؐ اپنی سواری پر تھے۔
بشر بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہ معاویہ بن ابی مزرّد نے ہمیں بتایا۔ معاویہ نے کہا: میں نے اپنے چچا سعید بن یسار کو بیان کرتے ہوئے سنا۔ سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا۔ جب اس کو پیدا کرنے سے فارغ ہوا تو رحم کہنے لگا: یہ میں کھڑا ہوں جو قطع تعلقی سے تیری پناہ میں آیا ہوں۔ اللہ نے فرمایا: ہاں کیا تم خوش نہیں ہو اس سے کہ میں اس سے تعلق رکھوں جس نے تجھ سے تعلق رکھا اور اس سے تعلق قطع کروں جس نے تجھ سے تعلق قطع کیا؟ رحم بولا: ہاں کیوں نہیں ضرور اے میرے ربّ۔ اللہ نے فرمایا: یہ بات تمہارے لئے ہوچکی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ہوسکتا ہے اگر تم حکمران بنو تو زمین میں بگاڑ پیدا کرو اور اپنے رشتہ داروں سے تعلقات توڑو۔
(تشریح)سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان بن بلال نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: مجھے معاویہ بن ابی مزرد نے بتایا۔ انہوں نے یزید بن رومان سے، یزید نے عروہ سے، عروہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: رحم بھی ایک پیوند ہے۔ جس نے اس سے تعلق رکھا میں اس سے تعلق رکھوں گا اور جس نے اس سے تعلق توڑا میں اس سے تعلق توڑوں گا۔