بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 257 hadith
حکم بن نافع بہرانی نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی۔ سعید بن مسیب نے ہمیں خبر دی کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: اللہ نے رحمت کے سو حصے کئے ہیں۔ اُس نے اپنے پاس ننانوے حصے رکھے ہیں اور زمین میں ایک ہی حصہ نازل کیا ہے۔ اس ایک حصہ کی وجہ سے ہے جو مخلوق آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے یہاں تک کہ ایک گھوڑی بھی اپنے سُم کو اپنے بچے سے اس ڈر سے اُٹھالیتی ہے کہ کہیں اس کو صدمہ نہ پہنچے۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام سے روایت کی۔ (ہشام نے) کہا: میرے باپ نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو اپنی گود میں رکھا۔ آپؐ اس کو گھٹی دینے لگے تھے۔ اس نے آپؐ پر پیشاب کر دیا۔ آپؐ نے پانی منگوایا اور اس کو بہا دیا۔
عبداللہ بن عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالعزیز بن ابی حازم نے مجھے بتایا۔ کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت سہل بن سعدؓ سے سنا۔ حضرت سہلؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔ (اور حضرت سہلؓ نے کہا:) آپؐ نے اپنی دوانگلیوں یعنی کلمے کی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور (بن معتمر) سے، منصور نے ابووائل سے، ابووائل نے عمرو بن شرحبیل سے، عمرو نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: میں نے کہا: یا رسول اللہ! کونسا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کا مد مقابل ٹھہراؤ حالانکہ اُس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے پھر پوچھا: اس کے بعد کونسا؟ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ تو اپنے بچے کو اس ڈر سے مار ڈالے کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا۔ پوچھا: اس کے بعد کونسا؟ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ تم پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ اور اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی: اور وہ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا کہ عارم (محمد بن فضل) نے ہم سے بیان کیا۔ معتمر بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے ابوتمیمہ سے سنا۔ ابوتمیمہ اپنے باپ ابوعثمان نہدی سے بیان کرتے تھے کہ ابوعثمان نے انہیں بتایا۔ انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے لے کر اپنی ران پر بٹھا لیتے تھے اور حسن کو دوسری ران پر بٹھاتے۔ پھر ان دونوں کو اپنے گلے لگا لیتے اور دعا کرتے: اے اللہ ! ان پر رحم کر کیونکہ میں بھی ان پر رحم کرتا ہوں۔ اور علی (بن عبداللہ مدینی) سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان (تیمی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوعثمان سے روایت کی۔ تیمی نے کہا (کہ جب ابوعثمان نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی تو) میرے دل میں اس کے متعلق کچھ شک پیدا ہوا۔ میں نے کہا: میں نے تو اس حدیث کو یوں یوں بیان کیا ہے مگر میں نے ابوعثمان سے یہ نہیں سنا۔ تو میں نے غور سے دیکھا اور اس حدیث کو اپنے پاس لکھا ہوا ویسے ہی پایا جیسے میں نے سنا۔
عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں نے کسی عورت پر بھی اتنا رشک نہیں کیا جتنا کہ میں حضرت خدیجہؓ پر رشک کرتی تھی۔ حالانکہ مجھ سے شادی کرنے سے تین سال قبل وہ فوت ہوچکی تھیں۔ کیونکہ میں آپؐ سے سنا کرتی تھی کہ آپؐ ان کا ذکر کرتے رہتے تھے۔ اور آپؐ کے ربّ نے آپؐ سے فرمایا تھا کہ خدیجہ کو جنت میں ایک ایسے گھر کی خوش خبری دیں جو خولدار موتیوں کا ہو۔ اور جب بھی آپؐ بکری ذبح کرتے تو ضرور ہی اس کے گوشت میں سے ان کی سہیلیوں کو بھی ہدیہ بھیجا کرتے تھے۔
اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے صفوان بن سُلیم سے روایت کی۔ وہ اس حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: بیواؤں اور مسکینوں کے لئے کمانے والا اس شخص کی طرح ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کررہا ہو یا اُس شخص کی طرح ہے جو دِن کو روزہ رکھتا ہو اور رات کو کھڑا عبادت کرتا رہے۔ اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے ثور بن زید دیلی سے، ثور نے ابوالغیث سے جو ابن مطیع کے غلام تھے، ابوالغیث نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح بتایا۔
عبداللہ بن مسلمہ( قعنبی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثور بن زید سے، ثور نے ابوالغیث سے، ابوالغیث نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوہ اور مسکین کے لئے کمانے والا اس شخص کی طرح ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کررہا ہو۔ قعنبی (اس میں) شک کرتے (ہوئے کہتے) ہیں: اور میں سمجھتا ہوں کہ(مالک نے) کہا کہ (آپؐ نے یہ بھی فرمایا:) وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھڑا عبادت کرتا رہتا ہے اور تھکتا نہیں اور اس روزہ دار کی طرح ہے جو افطار نہیں کرتا۔
مسدد نے ہمیں بتایا کہ اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ ایوب نے ہمیں بتایا۔ ایوب نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت ابوسلیمان مالک بن حویرثؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم تقریباً ایک ہی عمر کے نوجوان تھے۔ ہم آپؐ کے پاس بیس راتیں رہے۔ آپؐ نے خیال کیا کہ ہمیں اپنے گھر والوں سے ملنے کا شوق ہوا ہے اور آپؐ نے ہم سے ان کے متعلق پوچھا جو ہم عزیزوں میں چھوڑ آئے تھے۔ ہم نے آپؐ کو بتایا اور آپؐ بہت ہی نرم دل اور بہت ہی رحم کرنے والے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاؤ اور ان کو سکھاؤ اور ان سے بھی کہو (اچھے کام کریں) اور تم اِس طرح نماز پڑھو جیسا کہ تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ اور جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے کوئی تمہارے لئے اذان دے۔ پھر تم میں سے جو بڑا ہو وہ تمہاری امامت کروائے۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سُمَیْ سے جو ابوبکر (بن عبد الرحمٰن) کے غلام تھے، سُمَی نے ابوصالح سمان سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص راستے میں چلا جارہا تھا، اس کو سخت پیاس لگی اور اس نے ایک کنواں پا لیا۔ اُس میں اُتر کر اُس نے پانی پیا اور پھر باہر آگیا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک کتا ہے جو ہانپ رہا ہے، پیاس کے مارے مٹی چاٹ رہا ہے۔ تو وہ شخص سمجھا: اس کتے کا بھی پیاس سے وہی حال ہوا ہے جو میرا ہوا تھا۔ اس پر وہ کنوئیں میں اُترا اور اُس نے اپنے موزے کو بھرا۔ پھر اُس کو اپنے منہ میں پکڑا اور اس طرح اُس نے کتے کو پلایا۔ اللہ نے اس کی قدر کی اور اس کے گناہوں کو بخش دیا۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ان جانوروں (سے حسن سلوک) میں بھی ہمیں ثواب ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ ہر تازہ کلیجے والے کی وجہ سے ثواب ہوگا۔