بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 257 hadith
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے زُہری سے، زہری نے حضرت ابوامامہ بن سہلؓ سے، حضرت ابوامامہؓ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کوئی (طبیعت کی خرابی کے لئے) یوں ہرگز نہ کہے کہ خَبُثَتْ نَفْسِي بلکہ یوں کہہ لے: لَقِسَتْ نَفْسِي۔ (یونس کی طرح) اس حدیث کو عقیل نے بھی بیان کیا۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ ابوسلمہ نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ فرماتا ہے: بنو آدم زمانے کو گالی دیتے ہیں حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں۔ میرے ہاتھ میں ہی رات اور دن ہیں۔
عیاش بن ولید نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالاعلیٰ نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے زُہری سے، زہری نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: انگور کو کرم نہ کہو اور نہ یوں کہو: زمانے کا ستیاناس۔ کیونکہ اللہ ہی زمانہ ہے۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے، زہری نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور لوگ (انگور کو) کرم کہتے ہیں۔ کرم تو مؤمن کا دل ہے۔
(تشریح)صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ (سفیان) ابن عیینہ نے ہمیں خبر دی۔ (محمد) ابن منکدر نے ہم سے بیان کیا۔ محمد نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم میں سے کسی شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور اُس نے اُس کا نام قاسم رکھا۔ ہم نے کہا: ہم تو تمہیں ابوالقاسم کی کنیت سے نہیں پکاریں گے اور نہ تمہیں یہ عزت دیں گے۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتایا۔ آپؐ نے فرمایا: تم اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمٰن رکھو۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ خالد نے ہمیں بتایا۔ حصین نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے سالم سے، سالم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو اُس نے اس کا نام قاسم رکھا۔ لوگ کہنے لگے: ہم اس کو اس کنیت سے نہیں پکاریں گے جب تک کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لیں۔ آپؐ نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر تم اپنی کنیت نہ رکھو۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے ابن سیرین سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا۔ (وہ کہتے تھے کہ) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھو۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے (محمد) ابن منکدر سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ہم میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا۔ اُس نے اس کا نام قاسم رکھا۔ لوگوں نے کہا: ہم تو تمہیں ابوالقاسم کی کنیت سے نہیں پکاریں گے اور تمہاری آنکھ ٹھنڈی نہیں کریں گے۔ تو (یہ سن کر) وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اُس نے آپؐ سے اس کا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: تم اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمٰن رکھو۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے روایت کی۔ سعد بن ابراہیم نے مجھے بتایا۔ سعد نے عبداللہ بن شداد سے، عبداللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی نہیں سنا کہ آپؐ سوائے حضرت سعدؓ کے کسی اور کو یوں کہتے ہوں کہ میرے ماں باپ تم پر قربان۔ میں نے آپؐ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: تیر پھینکو۔ میرے ماں باپ تم پر قربان۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ اُحد کا دن تھا۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ بشر بن مفضل نے ہمیں بتایا۔ یحيٰ بن ابی اسحاق نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی کہ وہ اور حضرت ابوطلحہؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آرہے تھے۔ اور نبی ﷺ کے ساتھ حضرت صفیہؓ تھیں جنہیں آپؐ نے اپنے پیچھے اپنی اُونٹنی پر سوار کیا ہوا تھا۔ جب راستے میں کسی جگہ پہنچے تو اُونٹنی نے ٹھوکر کھائی۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ عورت بھی گر پڑی اور (حضرت انسؓ) کہتے تھے: میرا خیال ہے کہ حضرت ابوطلحہؓ اپنے اُونٹ سے جلدی سے کود پڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اللہ کے نبی! اللہ مجھے آپؐ کے قربان کرے۔ کیا آپؐ کو کوئی چوٹ تو نہیں لگی؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ لیکن اس عورت کی خبر لو۔ تو حضرت ابوطلحہؓ نے اپنے منہ پر اپنا کپڑا ڈال لیا اور حضرت صفیہؓ کی طرف گئے اور اپنا کپڑا اُن پر ڈال دیا۔ وہ عورت اُٹھی اور حضرت ابوطلحہؓ نے ان دونوں کے لئے اُن کی اُونٹنی پر پالان مضبوطی سے باندھ دیا اور وہ دونوں سوار ہو کر چل پڑے۔ جب مدینہ کی اونچی سطح پر پہنچے یا کہا: مدینہ کے اُوپر پہنچے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم لوٹ کر آرہے ہیں، اپنے ربّ کے حضور توبہ کرتے ہیں، اپنے ربّ کی ہی عبادت کرنے والے، اسی کی ستائش کرنے والے ہیں۔ آپؐ یہی کلمات بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ مدینہ پہنچے۔