بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 257 hadith
اسحاق بن نصر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے زُہری سے، زہری نے ابن مسیب سے، ابن مسیب نے اپنے باپ سے روایت کی کہ ان کا باپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپؐ نے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ اُس نے کہا: حَزن۔ آپؐ نے فرمایا: تم سہل ہو۔ اُس نے کہا: میں وہ نام نہیں بدلتا جو میرا نام میرے باپ نے رکھا۔ (سعید) ابن مسیب کہتے تھے: تو پھر اس کے بعد ہم میں سختی اور مصیبت ہمیشہ رہی۔ علی بن عبداللہ اور محمود نے ہم سے بیان کیا اور وہ غیلان کے بیٹے تھے۔ ان دونوں نے کہا: عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے زُہری سے، زہری نے ابن مسیب سے، انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ان کے دادا سے روایت کرتے ہوئے یہی بتایا۔
صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے عطاء بن ابی میمونہ سے، عطاء نے ابورافع سے، ابورافع نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ حضرت زینب (بنت ابی سلمہؓ) کا نام بَرّہ تھا۔ (ان سے) کسی نے کہا: اپنے آپ کو پاک سمجھتی ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھ دیا۔
(محمد بن عبداللہ) ابن نمیر نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن بشر نے ہمیں بتایا۔ اسماعیل (بن ابی خالد بجلی) نے ہم سے بیان کیا۔ (وہ کہتے تھے:) میں نے حضرت ابن ابی اوفیٰؓ سے پوچھا: کیا آپؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیمؓ کو دیکھا ؟ انہوں نے کہا: وہ چھوٹے ہی فوت ہوگئے تھے۔ اور اگر یہ مقدر ہوتا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہوتو آپؐ کا بیٹا زندہ رہتا۔ مگر آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عدی بن ثابت سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت براءؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: جب (صاحبزادہ) ابراہیم علیہ السلام فوت ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں اس کی ایک دودھ پلانے والی بھی ہے۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ زائدہ نے ہمیں بتایا۔ زیاد بن علاقہ نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: جس دن (صاحبزادہ) ابراہیمؓ فوت ہوئے سورج گرہن ہوا۔ اس حدیث کو حضرت ابوبکرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ۔
سعید ابن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ ابوغسان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ابوحازم نے مجھ سے بیان کیا۔ ابوحازم نے حضرت سہلؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ منذر بن ابی اسیدؓ کو جب وہ پیدا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپؐ نے اُس کو اپنی ران پر بٹھایا۔ اس وقت حضرت ابواسیدؓ بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول ہوئے جو آپؐ کر رہے تھے۔ یہ دیکھ کر حضرت ابواسیدؓ نے اپنے بیٹے کے متعلق کہا(کہ اسے اُٹھا لیا جائے۔) تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے اُٹھا لیا گیا۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے آپؐ نے فرمایا: بچہ کہاں ہے؟ حضرت ابواسیدؓ کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہم نے اس کو واپس بھیج دیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس کا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا: فلاں۔ آپؐ نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس کا نام منذر رکھو تو انہوں نے اسی دن اس کا نام منذر رکھا۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ ہشام (بن یوسف) نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے انہیں خبر دی۔ کہا: عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ نے مجھے بتایا۔ کہا: میں سعید بن مسیب کے پاس بیٹھا۔ انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ اُن کا دادا حزن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپؐ نے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میرا نام حزن ہے۔ آپؐ نے فرمایا: نہیں، تم سہل ہو۔ کہنے لگا: میں تو نام بدلنے کا نہیں جو نام میرے باپ نے میرا رکھا۔ ابن مسیب کہتے تھے: پھر اس کے بعد ہم میں ہمیشہ ہی مصیبت اور سختی رہی۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین بن عبدالرحمٰن سے، حصین نے سالم بن ابی الجعد سے، سالم نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھو کیونکہ میں ہی قاسم ہوں جو تم میں تقسیم کرتا ہوں۔ حضرت انسؓ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو روایت کیا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ ابوحصین نے ہم سے بیان کیا۔ ابوحصین نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر تم اپنی کنیت نہ رکھو اور جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو اُس نے مجھے دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت پر متمثل نہیں ہوتا۔ اور جس نے مجھ پر عمداً جھوٹ بولا تو پھر وہ آگ ہی میں اپنا ٹھکانہ بنائے۔