بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا ، کہا : مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے ۔ ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ ( ان کی والدہ) ام الفضل نے ان کو وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا پڑھتے سنا تو کہا: میرے بیٹے بخدا! تم نے تو یہ سورۃ پڑھ کر مجھے یاد دِلا دیا ہے کہ یہ آخری سورۃ تھی جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ۔ آپؐ مغرب کی نماز میں یہ پڑھ رہے تھے۔
ابوعاصم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے ۔ ابن جریج نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے مروان بن حکم سے روایت کی وہ کہتے تھے: حضرت زیدؓ بن ثابت نے مجھ سے کہا: تمہیں کیا ہے کہ مغرب کی نماز میں چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھتے ہو۔ حالانکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لمبی سے لمبی دو سورتیں پڑھتے سنا۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا ، کہا : مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے محمد بن جبیر بن مطعم سے، ابن جبیر نے اپنے باپ سے روایت کی۔وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ نے مغرب کی نماز میں سورۃ وَالطُّوْرِ پڑھی۔
ابوالولید نے ہم سے بیا ن کیا ، کہا : شعبہ نے ہمیں بتایا کہ عدی سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت برائؓ سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے۔ آپؐ نے عشاء کے وقت ایک رکعت میں سورۃ وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ پڑھی۔
خلاد بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا، کہاکہ مسعر نے ہمیں بتایا، کہا: عدی بن ثابت نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عشاء کی نماز میں سورہ ٔ وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ پڑھتے ہوئے سنا اور میں نے کسی کو بھی نہیں سنا جو بلحاظ آواز یا قرأت کے آپؐ سے اچھا پڑھنے والا ہو۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا ، کہا : معتمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے بکر سے، بکر نے ابورافع سے روایت کی ۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت ابو ہریرہؓ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی تو انہوں نے سورۂ اِذَا السَّمَائُ انْشَقَّتْ پڑھی اور سجدہ ( تلاوت )کیا۔ میں نے ان سے پوچھا۔ تو انہوں نے کہا کہ میں نے ابوالقاسم ا کے پیچھے سجدہ کیاتھا۔ اس لئے میں ہمیشہ اس میں سجدہ کروں گا۔ یہاں تک کہ آنحضرتؐ سے جاملوں۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا،کہا: یزید بن زریع نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہاکہ تیمی نے مجھے بتایا۔ }انہوں نے بکر سے، بکر نے ابورافع سے روایت کی۔٭{ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہؓؓ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی تو انہوں نے سورۃ اِذَالسَّمَائُ انْشَقَّتْ پڑھی اور سجدہ کیا۔ میں نے کہا: یہ سجدہ کیسا ؟ انہوں نے کہا: میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اس سورۃ میں سجدہ کیا تھا۔ اس لئے میں ہمیشہ ہی اس میں سجدہ کروں گا ۔یہاں تک کہ آپؐ سے جا ملوں۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا ، کہا : شعبہ نے ہمیں بتایا۔ ابوعون سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابرؓ بن سمرہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت سعدؓ( بن ابی وقاص) سے کہا: لوگوں نے تو ہر بات میں آپ کی شکایت کی ہے۔ یہاں تک کہ نماز میں بھی۔ حضرت سعدؓ نے کہا: میں تو پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھاتا ہوں اور پچھلی دو چھوٹی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی کرنے میں کوتاہی نہیں کرتا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: آپؐ نے سچ کہا ہے۔ آپؐ کے متعلق میرا یہی خیال تھا یا کہا: آپؐ پر میرا یہی گمان تھا۔
آدم نے ہم سے بیان کیا ، کہا : ہم سے شعبہ نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیار بن سلامہ نے ہمیں بتایا،کہا: میں اور میرے والدحضرت ابوبرزہ اسلمیؓ کے پاس گئے اور ہم نے ان سے نمازوں کے اوقات پوچھے تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سورج ڈھلنے پر پڑھا کرتے تھے اور نماز عصر ایسے وقت پڑھتے کہ آدمی (نماز پڑھ کر )شہر کے آخری حصہ میں واپس چلا جاتا اور سورج ابھی روشن ہوتا اور مغرب کا وقت جو انہوں نے بتایا تھا میں بھول گیا اور آپؐ عشاء کے لئے ایک تہائی رات تک دیر کرنے میں پرواہ نہ کرتے۔ اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد باتیں کرنا پسند نہ فرماتے اور صبح کی نماز ( ایسے وقت) پڑھتے کہ آدمی (نماز سے) فارغ ہوکر اپنے پاس بیٹھنے والوں کو پہچان لیتا اور صبح کی دونوں رکعتوں میں یا ایک رکعت میں سا ٹھ آیتوں سے لے کر سو آیات تک پڑھا کرتے تھے۔