بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا ، کہا: لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ مسجد(کی دیوار) پر بلغم دیکھا اور آپؐ لوگوں کے آگے( کھڑے) نماز پڑھا رہے تھے۔ آپؐ نے اسے کھرچ ڈالا۔ پھر جب نماز پڑھ چکے تو آپؐ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو اللہ کے سامنے ہوتا ہے۔ اس لئے نماز میں کوئی اپنے سامنے نہ تھوکے۔ یہ حدیث موسیٰ بن عقبہ اور (عبدالعزیز) بن ابی رواد نے نافع سے روایت کی ہے۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا ، کہا : سفیان نے ہم سے بیان کیا، کہا: زُہری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت محمودؓ بن ربیع سے، حضرت محمودؓ نے حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورہ فاتحہ نہ پڑھی۔
عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا ، کہا : میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: اعمش نے ہم سے بیان کیا ، (کہا:) عمارہ نے مجھے بتایا کہ ابومعمر سے مروی ہے ۔ انہوں نے کہا: ہم نے حضرت خبابؓ سے پوچھا: کیا نبی
مکی بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے یحيٰ بن ابی کثیر سے، یحيٰ نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، عبداللہ نے اپنے باپ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور ایک اور سورۃ پڑھا کرتے تھے اور کبھی ہمیںبھی کوئی آیت سنا دیتے۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا ، کہا : لیث بن سعدنے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت انسؓ (بن مالک )نے مجھے بتایا۔ وہ کہتے تھے: اسی اثناء میں کہ مسلمان فجر کی نماز میں تھے، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہؓ کے حجرے کا پردہ اُٹھایا اور ان کی طرف دیکھا۔ وہ صفیں باندھے ہوئے تھے۔ آپؐ مسکرائے اور حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ اُلٹے پائوں پیچھے ہٹے تاآپؐ کے (آنے کی صورت) میں وہ صف میں جا ملیں وہ سمجھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باہر آنا چاہتے ہیں اور مسلمان دورانِ نماز آزمائش میں پڑنے لگے کہ آپؐ نے انہیں اشارہ فرمایا کہ اپنی نماز پوری کرو اور آپؐ نے پردہ نیچے ڈال دیا اور اسی دن کے آخری وقت میں آپؐ نے وفات پائی۔
(تشریح)موسیٰ نے ہم سے بیان کیا ، کہا : ابوعوانہ نے ہم سے بیان کیا ۔ انہوں نے کہا: عبدالملک بن عمیر نے ہمیں بتایا کہ حضرت جابرؓ بن سمرہ سے مروی ہے۔ وہ کہتے تھے: کوفہ والوںنے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت سعدؓ کی شکایت کی تو انہوں نے ان کو معزول کردیا اورحضرت عمارؓ کو ان کا عامل (حاکم) مقرر کیا۔ کوفہ والوں نے حضرت سعدؓ کے متعلق شکایات میں یہ بھی کہا کہ وہ نماز بھی اچھی طرح نہیں پڑھاتے تو حضرت عمرؓ نے ان کو بلا بھیجا اور کہا: اے ابواسحاق ! یہ (لوگ) تو کہتے ہیں کہ آپؓ اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھاتے۔ ابواسحاق نے کہا: میں تو بخدا انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھایا کرتا تھا۔ اس میں ذرہ بھی کم نہیں کرتا تھا۔ عشاء کی نماز پڑھاتا تو پہلی دورکعتیں لمبی اور پچھلی دو رکعتیں ہلکی پڑھتا تھا۔ تب حضرت عمرؓ نے کہا: ابواسحاق ! آپؓ کے متعلق یہی خیال تھا۔ پھرحضرت عمرؓ نے ان کے ساتھ ایک آدمی یا چند آدمی کوفہ روانہ کئے تا ان کے بارے میں کوفہ والوں سے پوچھیں۔ انہوں نے کوئی مسجد بھی نہ چھوڑی جہاں حضرت سعدؓ کے متعلق نہ پوچھا ہو اور لوگ (ان کی٭) اچھی تعریف کرتے تھے۔ آخر وہ قبیلہ بنی عبس کی مسجد میں گئے۔ ان میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا۔ اسے اسامہ بن قتادہ کہتے تھے اور ابوسعدہ اس کی کنیت تھی۔ اس نے کہا: چونکہ تم نے ہمیں قسم دی ہے۔ اس لئے اصل بات یہ ہے کہ سعد ؓ فوج کے ساتھ نہیں جایا کرتے تھے اور نہ برابر تقسیم کرتے تھے اور نہ فیصلہ میں انصاف کرتے تھے۔ حضرت سعد ؓنے کہا: دیکھو اللہ کی قسم! میں تین دعائیں کرتا ہوں۔ اے میرے اللہ ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور ریاء اور شہرت کی غرض سے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمر لمبی کر اور اس کی محتاجی کو بڑھا اور اسے مصیبتوں کا تختہ مشق بنا۔ اس کے بعد جب کوئی اس کا حال پوچھتا تو وہ کہتا پیر فرتوت ہوں۔ مصیبت زدہ ہوں۔ حضرت سعدؓ کی بددعا مجھے لگ گئی ۔ عبدالملک کہتے تھے: میں نے اس کے بعد اسے دیکھاہے کہ حالت یہ تھی کہ بڑھاپے کی وجہ سے اس کی بھویں اس کی دونوں آنکھوں پر آپڑ ی تھیں اور تعجب ہے کہ وہ راستوں میں چھوکریوں کو چھیڑتا اور چشمک کرتا۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا ، کہا : یحيٰ نے ہمیں بتایا کہ عبیداللہ سے مروی ہے ۔ انہوں نے کہا: سعید بن ابی سعید نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابو ہریرہؓؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے ۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے نماز پڑھی ۔ پھر اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپؐ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: واپس جائو اور نماز پڑھو۔ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ چنانچہ وہ لوٹ گیا۔ پھر اس نے اسی طرح ہی نماز پڑھی جس طرح (پہلے) پڑھی تھی۔ پھر وہ آیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپؐ نے فرمایا: واپس جائو اور نماز پڑھو۔ کیونکہ تم نے نماز نہیںپڑھی۔ آپؐ نے تین بار ایسا ہی فرمایا۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم ہے جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایاہے۔ میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا۔ اس لئے آپؐ مجھے سکھائیں۔ آپؐ نے فرمایا: جب نماز کے لئے کھڑے ہو تو اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہو۔ پھر قرآن میں سے جو میسر ہو، پڑھو۔ پھر رکوع کرو۔ یہاں تک کہ رکوع میں تمہیں اطمینان ہوجائے۔ پھر سراٹھائو۔ یہاں تک کہ اطمینان سے کھڑے ہوجائو۔ پھر سجدہ کرو۔ یہاں تک کہ سجدہ میں تمہیں اطمینان ہوجائے ۔ پھر سر اٹھائو۔ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جائو۔ الغرض اپنی ساری نماز میں اسی طرح کرو۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا ،( کہا :) ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالملک بن عُمیر سے، عبدالملک نے حضرت جابرؓ بن سمرہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت سعدؓ کہتے تھے: میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح ہی ظہر اور عصر ٭ کی نماز پڑھایا کرتا تھا۔ میں آپؐ کی نمازسے ذرہ بھی فرق نہیں کرتا تھا۔ پہلی دو رکعتوں کو لمبی کرتا اور پچھلی دو رکعتوں کو ہلکی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا آپؐ کے متعلق یہی خیال ہے۔
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا ، کہا : شیبان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ سے، یحيٰ نے حضرت عبداللہؓ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھا کرتے تھے۔ پہلی رکعت میں( قرأت) لمبی کرتے اور دوسری میں چھوٹی اور کبھی کبھی کوئی آیت ہم کو سنا بھی دیتے اور عصر میں بھی سورہ فاتحہ اور دوسورتیں پڑھا کرتے تھے۔} پہلی رکعت میں (قرأت) لمبی کرتے٭{ اور آپؐ نماز صبح کی پہلی رکعت میں بھی (قرأت) لمبی کرتے تھے اور دوسری میں چھوٹی۔